حمل اور صحت

قدرت نے صنفِ نازک کو مامتا کا خوبصورت جذبہ تحفے میں دیا ہے اور اسے اس کی فطرت کا لازمی حصہ بنایا ہے۔ تبھی تو جب اسے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ وہ پہلی مرتبہ ماں جیسے اونچے رتبے پرفائز ہونے والی

جب حمل تیسری سہہ ماہی میں داخل ہو جاتا ہے تو متوقع ماں کی صورت حال کچھ عجیب سی ہوتی ہے ۔ کبھی اس کا دل خوشی کے احساس سے بھر جاتا ہے ‘ اس لئے کہ وہ ’’بڑا دن ‘‘قریب آ رہا ہوتا ہے جب اسے دنیا ک

بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو اس کا معدہ اتنا قوی نہیں ہوتا کہ ٹھوس غذا کو ہضم کر سکے لہٰذا قدرت اس کے پیدا ہوتے ہی اس کے لئے ماں کے دودھ کا انتظام کردیتی ہے ۔ یہ غذا اتنی ہلکی ہوتی ہے کہ اس کا معدہ

کئی دنوں سے آمنہ کی طبیعت میں عجیب سی بے چینی تھی۔ اسے ہروقت قے اور متلی محسوس ہوتی تھی۔ وہ ےہی سمجھی کہ ےہ شایدکمزوری ےا موسم کی تبدیلی کا اثرہے۔ اس پر ہر وقت سستی سی طاری رہتی تھی۔ اےک شام

    رحم مادر میں بچہ نشو و نما کے مختلف مراحل سے گزرتا ہوا مکمل انسانی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔ اس عمل میں اسے مخصوص غذائی اجزاءکی ضرورت ہوتی ہے جو وہ ماں کے جسم سے حاصل کرتا ہے۔ لہٰذا صحت مند

حمل ٹھہرنے کی تصدیق ہوتے ہی متوقع ماں اس خاص دن کا انتظار کرنے لگتی ہے جب وہ اپنے وجود سے ایک نیاوجود تخلیق کرے گی۔ جس دن اسے اپنے خوابوں کی تعبیر ملتی ہے‘ وہ اس کی زندگی کا یادگار اور خوشگو