گاؤٹ کے لیے غذائی احتیاطیں

گاؤٹ (gout) آرتھرائٹس کی ایک قسم ہے جس میں یورک ایسڈ کے کرسٹلز جوڑوں میں جمع ہو کر جلن اور سوزش کا باعث بنتے ہیں۔ اس صورت میں چند غذائی تبدیلیاں مفید ثابت ہوتی ہیں۔ تاہم گاؤٹ کے لیے غذائی احتیاطیں اپنانے کے ساتھ ساتھ مکمل علاج اور رہن سہن میں تبدیلی بھی ضروری ہیں۔

اس کا ایک بڑا سبب پیورین نامی کیمیائی مرکبات ہیں۔ پیورین جسم میں بھی بنتا ہے اور غذا کے ذریعے بھی حاصل ہوتا ہے۔ عموماً یورک ایسڈ میں تبدیل ہونے کے بعد یہ گردوں کی مدد سے جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔ پیورین کی حامل خوراک کا استعمال زیادہ ہو اور گردے اسے پیشاب کے ذریعے خارج نہ کر پائیں تو جسم میں یورک ایسڈ کی زیادتی ہو جاتی ہے۔ اس کے باعث گردوں کو نقصان پہنچتا ہے اور بروقت علاج نہ ہو تو جوڑوں کے مسائل بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ ان میں سر فہرست گاؤٹ کی تکلیف ہے۔

گاؤٹ عموماً مردوں میں زیادہ پایاجاتا ہے۔ ذیابیطس، گردے کی خرابی، دل کی تکلیف، جنیاتی عوامل، اچانک بیماری، سرجری یا جوڑوں کی چوٹ اور کچھ ادویات اس کا سبب بن سکتی ہیں۔ سیسے(lead) سے متعلق یا ایسے دیگر شعبوں میں کام کرنے والے افراد میں بھی یہ مسئلہ ہو سکتا ہے۔ جن افراد کا وزن بہت زیادہ ہو ان میں یورک ایسڈ بڑھ جانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

گاؤٹ اور غذائی احتیاطیں

عموماً یہ تاثر پایاجاتا ہے اگر گاؤٹ کی تشخیص ہو جائے تو گوشت کے ساتھ ساتھ سبزی اور دالیں بھی مخصوص طرز ہی کی کھانا ہوتی ہیں۔ تاہم سٹڈیز سے ثابت ہوا ہے کہ سبزی اور دالوں میں موجود پیورین یورک ایسڈ پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ ان کا استعمال صحت کے لیے مفید ہے۔ جن اشیاء میں پیورین کی مقدار زیادہ ہے اور جن سے پرہیز بہتر ہے، وہ یہ ہیں:

٭سرخ گوشت، کلیجی، دل، گردے اور مغز سے پرہیز کریں۔

٭مشروبات، کولامشروبات، پھلوں کا رس، شہد، میٹھے کھانے اور مٹھائیاں۔

٭سگریٹ نوشی۔

٭ہائی پروٹین ڈائٹ یا کریش ڈائٹ۔

اگرچہ غذائی احتیاطیں اس سلسلے میں مؤثر ہیں تاہم ان کے ساتھ ساتھ مکمل علاج اور رہن سہن میں تبدیلی بھی ضروری ہیں۔

اس صورت میں جو غذائیں کھائی جا سکتی ہیں ان میں دالیں، پھلیاں، مکمل اناج، گندم، جو اور جئی، بغیر چکنائی والا دودھ اور دہی اور پھل اور سلاد شامل ہیں۔ مچھلی اور مرغی ہفتے میں دوبار یا ماہر غذائیات/ معالج کے مشورے سے استعمال کریں۔ دالوں اورپھلیوں کا استعمال پروٹین کی ضرورت کو پورا کرے گا جب کہ کم چکنائی والا دودھ اور دہی گاؤٹ کی علامات کو کم کرتا ہے۔ پھلوں میں موجود وٹامن سی بھی گاؤٹ کے لیے مفید ہے۔

تحریر: آمنہ عارف، ماہر غذائیات، لاہور

Vinkmag ad

Read Previous

MYTH: You can spoil babies by holding them frequently

Read Next

دل کا پیدائشی نقص: بڑی شریانوں کی جگہ تبدیل

Leave a Reply

Most Popular