دل کا پیدائشی نقص: بڑی شریانوں کی جگہ تبدیل

پیدائشی امراض قلب میں سے بعض کا شمار سنگین ترین امراض میں ہوتا ہے۔ اس لیے کہ ان میں بچوں کو پیدائش کے بعد فوری طور پر سرجری وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈی ٹی جی اے Dextro-Transposition of the Great  Arteries بھی دل کا پیدائشی مرض ہے۔ اس میں دل کی دو بڑی شریانوں کی جگہ تبدیل ہونے کے باعث خوں جہاں سے آتا ہے وہیں چلا جاتا ہے۔

عام صورتوں میں جسم سے آکسیجن کے بغیر خون دل کی دائیں سائیڈ میں جاتا ہے۔ پھر وہاں سے پلمونری آرٹری کے ذریعے پھیپھڑوں میں جاتا ہے۔ وہاں سے آکسیجن کا حامل خون دل کی بائیں سائیڈ اور پھر ایورٹا کے ذریعے جسم میں جاتا ہے۔ ایورٹا اور پلمونری آرٹری دل کی دو بڑی شریانیں ہیں۔

ان کی جگہ تبدیل ہو جائے تو دائیں سائیڈ میں آکسیجن کے بغیر داخل ہونے والا خون پھیپھڑوں کے بجائے ایورٹا کے ذریعے واپس جسم میں چلا جاتا ہے۔ دوسری طرف پھیپھڑوں سے دل میں جانے والا آکسیجن کا حامل خون پلمونری شریان کے ذریعے واپس پھیپھڑوں میں چلا جاتا ہے۔ اکثر بچوں میں اس نقص کے ساتھ دل میں سوراخ بھی ہوتا ہے۔

علامات اور وجوہات

اس میں پیدائش کے وقت یا فوراً بعد مختلف علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ دل میں سوراخ بھی ہو تو آکسیجن کا حامل کچھ خون جسم تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسی صورت میں جو علامات ظاہر ہوتی ہیں وہ خون مکس نہ ہونے کی نسبت کم شدید ہوتی ہے۔ مثلاً جلد کی رنگت نیلی ہونا، سانس لینے میں دشواری اور دل زور سے دھڑکنا۔ نبض کمزور ہونا اور بچے کا مناسب مقدار میں دودھ نہ پینا بھی اس کی علامات ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق جینیاتی مسائل، کچھ مخصوص بیماریاں، کچھ ادویات اور ماحول اور طرز زندگی سے وابستہ عوامل اس کا سبب بن سکتے ہیں۔ مگر دیگر پیدائشی امراض قلب کی طرح اس کی مخصوص وجہ بھی معلوم نہیں۔

تشخیص کیسے ہوتی ہے

دوران حمل کچھ ٹیسٹوں سے اس کی تشخیص ہو سکتی ہے۔ ان میں ماں کے خون کا ٹیسٹ، الٹراساؤنڈ، ای سی جی، سی وی ایس اور رحم کے پانی (amniotic fluid) کا معائنہ وغیرہ شامل ہیں۔

ان میں سے کچھ ٹیسٹ بچے کی پیدائش کے بعد بھی کیے جاتے ہیں۔ مثلاً ایکو کارڈیو گرام دل کا الٹراساؤنڈ ہے جس کی مدد سے دل کی ساخت میں خرابیوں کے بارے میں پتا لگایا جاسکتا ہے۔ لیکٹرو کارڈیوگرام اور خون میں آکسیجن کی مقدار کی جانچ کے لیے کیے جانے والے ٹیسٹوں سے بھی اس کا علم ہو سکتا ہے۔

علاج کیا ہے

اس نقص کے شکار تمام بچوں کو سرجری کروانا ہوتی ہے۔ اس کے لیے پہلا اور عام آپشن شریانوں کو صحیح جگہ پر جوڑنا ہے۔ یہ آپریشن پہلے ماہ میں ہی کیا جاتا ہے۔ سرجری میں شریانوں کی جگہ تبدیل نہیں کی جاتی تاہم اوپری خانوں کے درمیان ایک سرنگ سی بنا دی جاتی ہے۔ اس کی مدد سے خون کے بہاؤ کی سمت درست ہو جاتی ہے۔ یہ طریقۂ علاج اتنا عام نہیں اور اس کے نتیجے میں پیچیدگیاں بھی ہو سکتی ہیں۔

سرجری کے بعد دل کی بہتر کارکردگی، بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے اور جسم میں جمع شدہ اضافی مائع کو نکالنے کے لیے دوائیں دی جاتی ہیں۔ دل زیادہ تیزی سے دھڑک رہا ہو تو اس کی رفتار کو قابو کرنے کے لیے بھی ادویات دی جا سکتی ہے۔ جن بچوں میں دھڑکن کی رفتار کم ہو، ان میں پیس میکر لگایا جاتا ہے۔ اس سے بچہ مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوتا مگر باقاعدہ علاج سے بہتر زندگی گزار سکتا ہے۔

Vinkmag ad

Read Previous

گاؤٹ کے لیے غذائی احتیاطیں

Read Next

Skin & cosmetic treatments

Leave a Reply

Most Popular