کیل مہاسے کیوں بنتے ہیں

جلد کے حوالے سے پیش آنے والے مسائل میں سے ایک چہرے خصوصاً ناک پر کیل مہاسے ہیں۔ اکثر خواتین اپنے چہرے کے حوالے سے زیادہ حساس ہوتی ہیں۔ ایسے میں وہ سوچے سمجھے بغیر کئی قسم کے ٹوٹکے آزماتی ہیں۔ ان سے وقتی طور پر تو فائدہ ہو جاتا ہے مگر کچھ وقت گزرنے کے بعد یہ مسئلہ پھر سے ہو جاتا ہے۔ کچھ صورتوں میں مزید پیچیدگیاں بھی ہو جاتی ہیں۔ جہاں تک یہ سوال ہے کہ کیل مہاسے کیوں بنتے ہیں، تو اس کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں۔

کیل مہاسے کیسے بنتے ہیں

ہیئر فولیکل یا مسام جلد پر موجود وہ جگہ یا سوراخ ہے جہاں سے بال اگتا ہے۔ پورے جسم پر ان کی تعدادتقریباً 50 لاکھ ہوتی ہے۔ ہر ایک فولیکل میں ایک چربی والا گلینڈ یوتا ہے۔ ان غدود کا کام خاص مقدار میں تیل خارج کرنا ہے تاکہ جلد کی سطح نم، ملائم اور محفوظ رہ سکے۔ بعض اوقات یہ تیل معمول سے زیادہ یا کم مقدار میں بھی خارج ہونے لگتا ہے جس کے نتیجے میں جلد کے سوراخ بند ہو جاتے ہیں۔ اس سے پیدا ہونے والے مختلف مسائل میں سے ایک کیل بھی ہیں۔

کیل عموماً چہرے پر بنتے ہیں مگر کچھ صورتوں میں جسم کے دیگر حصوں جیسے کمر، کندھوں، چھاتی اور گردن وغیرہ پر بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔

کیل کی اقسام

رنگت اور بننے کے مختلف عمل کی بنا پر ان کی دو اقسام ہیں مگر ان کا علاج ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ جب جلد کے مردہ خلیے اور تیل ہیئر فولیکل میں جمع ہو کر اسے بند کر دیتے ہیں اور جلد کی ایک پتلی سی تہہ اس سوراخ کے اوپر آجاتی ہے تو ایک دانہ(bump) سا بن جاتا ہے۔ چونکہ اس سوراخ کے اندر ہوا نہیں جا پاتی لہٰذا اس میں موجود اجزاء کا رنگ سفید یا زرد رہتا ہے اور ایسے کیل سفید کہلاتے ہیں۔ یہ زیادہ تر ناک، ٹھوڑی اور پیشانی پر ہوتے ہیں۔ یہ گردن، سینے، کمر اور بازو کے اوپری حصے میں بھی بنتے ہیں۔ بظاہر یہ چھوٹے، سفیدیا سرخ ہوتے ہیں۔

جب مردہ خلیوں اور تیل کے حامل سوراخ کی سطح کھلی ہوتی ہے تو اس میں سے ہوا کا گزر باآسانی ہو سکتا ہے۔ اس ہوا میں موجود آکسیجن ان اجزاء کو سیاہ بنا دیتی ہے لہٰذا انہیں سیاہ کیل کہا جاتا ہے۔ یہ بھی عموماً ناک، ٹھوڑی اور گال پر ہوتے ہیں مگر جسم کے باقی حصوں پر بھی بن سکتے ہیں۔

وجوہات کیا ہیں

یہ مسئلہ مردوں و خواتین، دونوں کو ہو سکتا ہے تاہم خواتین اس کی زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ یہ عموماً 8 سے 10 سال کی عمر سے لے کر 25 سال تک کی عمر میں ہو سکتا ہے اور علاج کے باوجود دوبارہ ظاہر ہو سکتا ہے۔

رنگ گورا کرنے والی کریمیں استعمال کرنے والی خواتین میں تقریباً 35 سال کی عمر کے بعد یہ مسئلہ ہو سکتا ہے۔ مزید یہ عوامل اس کے امکانات میں اضافہ کرتے ہیں:

٭ہارمونزکا عدم توازن۔

٭والدین کا اس مسئلے کا شکار ہونا۔

٭ کھانے پینے کی غیرصحت بخش عادات۔

٭کچھ مخصوص ادویات کا استعمال۔

٭ برگر، پیزا اور دیگر جنک فوڈز کا ضرورت سے زیادہ استعمال۔

٭ذہنی دبائو۔

کیل مہاسوں سے بچاؤ کے لیے چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اس ضمن میں ضروری ہدایات پر عمل کر کے اس مسئلے سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے۔

Vinkmag ad

Read Previous

بزرگوں کے لیے توانائی بخش غذائیں

Read Next

دودھ کے دانتوں کی  تکلیف

Leave a Reply

Most Popular