رحم میں رسولی

حمل ٹھہرنے کی عمر میں اکثر خواتین کے رحم میں رسولی (uterine fibroid) بن جاتی ہے۔ بعض خواتین میں صرف ایک ہی رسولی ہوتی ہے جبکہ کچھ میں زیادہ بھی ہوسکتی ہیں۔ ان کی جگہ بھی مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً کچھ یوٹرس کی دیوار کے اندر ہوتی ہیں، کچھ اس سے باہر ابھری ہوئی ہوتی ہیں جبکہ بعض رحم سے ہی باہر نکل جاتی ہیں۔

اسی طرح کچھ کا سائز نہیں بڑھتا، کچھ کا آہستہ آہستہ جبکہ بعض کا تیزی سے بڑھتا ہے۔ اس کے برعکس کچھ خود ہی سکڑ جاتی ہیں۔

رحم میں رسولی کیوں بنتی ہے

ماہرین صحت کے مطابق یہ رسولیاں یوٹرس کی دیوار میں پائے جانے والے ٹشو کے اندر موجود سٹیم سیل سے بنتی ہیں۔ ایک خلیہ بار بار تقسیم ہوتا ہے اور بالآخر رسولی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس عمل کو متحرک کرنے کا حتمی سبب تو معلوم نہیں تاہم جینیاتی تبدیلیاں اور ایسٹروجن اور پروجیسٹرون ہارمونزکی زیادتی جیسے عوامل اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جسم میں اس مواد کی زیادتی ہوجائے جو خلیوں کو آپس میں جڑے رہنے میں مدد دیتا ہے تب بھی یہ مسئلہ ہو سکتا ہے۔

ماں یا بہنوں میں کسی کو یہ مسئلہ ہو تو باقی بہنوں میں اس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایام کا سلسلہ جلدی شروع ہو جانا، موٹاپے کا شکار ہونا، وٹامن ڈی کی کمی، ایسی خوراک استعمال کرنا جس میں سرخ گوشت زیادہ جبکہ سبزیاں، پھل اور ڈیری مصنوعات وغیرہ کم ہوں یا الکوحل کا زیادہ استعمال کرنا بھی اس کے امکانات میں اضافہ کرتا ہے۔

علامات

زیادہ تر خواتین میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ بصورت دیگر رسولیوں کی تعداد، سائز اور جگہ کے حساب سے علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ مثلاً ایام میں معمول سے زیادہ خون آنا اور ایک ہفتے سے زائد وقت کے لئے پیریڈز آنا۔ دیگر عام علامات یہ ہیں:

٭پیڑو میں دباؤ اور درد محسوس ہونا۔

٭بار بار پیشاب آنا۔

٭مثانہ مکمل طور پر خالی ہونے میں دقت ہونا۔

٭قبض کا شکار ہونا۔

٭کمر اور ٹانگوں میں درد ہونا۔

کیا رحم کی رسولی خطرناک ہوتی ہے

زیادہ تر کیسز میں یہ رسولیاں خطرناک نہیں ہوتیں تاہم کچھ صورتوں میں یہ بے آرامی اور انیمیا کا سبب بن سکتی ہیں۔ پھر خون کی کمی کے باعث متاثرہ خواتین کو تھکاوٹ رہتی ہے۔ بہت ہی کم صورتوں میں بلڈ ٹرانسفیوژن کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ اکثر لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ یوٹرس کے کینسر کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہیں مگر یہ درست نہیں۔ ایسا ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

علاج کیا ہے

کوئی علامت ظاہر نہ ہو یا کم شدید علامات ہوں جو معمولات زندگی کو متاثر نہ کریں تو علاج کروانا ضروری نہیں۔ مینو پاز کے بعد چونکہ ایسٹروجن اور پروجیسٹرون ہارمون کی مقدار کم ہو جاتی ہے لہٰذا رسولیوں کا سائز بھی کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح حمل میں ظاہر ہونے والی بعض رسولیاں بھی زچگی کے بعد سکڑ جاتیں یا ختم ہو جاتی ہیں۔

جہاں علاج کی ضرورت ہو ،وہاں کسی بھی آپشن کا انتخاب کرنے سے پہلے رسولی کے سائز، تعداد، علامات اور مریضہ کی عمر کو دیکھا جاتا ہے۔ اس بات کو  بھی مد نظر رکھا جاتا ہے کہ متاثرہ خاتون حاملہ ہے یا نہیں۔ اس کے کچھ آپشنز یہ ہیں:

ادویات

شادی شدہ خواتین کے رحم کے اندر ایک آلہ(mirena) رکھا جاتا جس میں پروجیسٹن ہارمون ہوتا ہے۔ یہ آہستہ آہستہ متعلقہ ہارمونز خارج کرتا ہے۔ نتیجتاً یوٹرس کی لائننگ پتلی ہوتی ہے اور ایام کے دوران خون کم بہنے لگتا ہے۔ اس کے سائیڈ افیکٹس میں تین سے چھ ماہ تک ایام میں بے قاعدگی، ایکنی، سر درد، چھاتیوں کو چھونے پر درد ہونا اور کچھ صورتوں میں ایام رک جانا شامل ہیں۔

علامات کو کم کرنے کے لئے سوزش ختم کرنے والی ادویات، مانع حمل گولیاں اور دیگر دوائیں دی جاتی ہیں۔ ان سے مسئلہ حل نہ ہو تو رسولی کے سائز کو کم کرنے کے لئے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

سرجری

ادویات کام نہ کر رہی ہوں اور علامات شدید ہوں تو سرجری کا آپشن استعمال ہوتا ہے۔ اس میں یا تو رحم کو ہی سرجری کے ذریعے نکال دیا جاتا ہے یا صرف رسولی کو نکالا جاتا ہے۔

پروسیجرز

بعض صورتوں میں رسولی تک خون پہنچانے والی نالی میں رکاوٹ پیدا کر دی جاتی ہے۔ اس سے خون کی فراہمی منقطع ہوجاتی ہے اور رسولی سکڑ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ لیزر، غبارے کے اندر بھرے گرم مائع یا ایسے دیگر طریقوں کی مدد سے رحم کی لائننگ کو ختم کیا جاتا ہے۔

کوئی بھی ایسا طریقہ علاج استعمال کیا جا رہا ہے جس میں یوٹرس اپنی جگہ موجود ہے تو 60 فی صد خواتین میں ان رسولیوں کے دوبارہ ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ تاہم ضروری نہیں کہ انہیں دوبارہ علاج کی ضرورت ہو۔

ان رسولیوں کی حتمی وجہ معلوم نہیں لہٰذا ان سے بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ تاہم عمومی صحت کو برقرار رکھنے والے اقدامات اس سلسلے میں فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس لئے نارمل وزن برقرار رکھیں، متحرک رہیں اور متوازن غذا کھائیں۔

uterine fibroids, causes of uterine fibroids, uterus mai rasoli, reham mai rasoli kyun banti hai, treatment of uterine fibroids, fibroids in uterus, are uterine fibroids dangerous

Vinkmag ad

Read Previous

سی سیکشن کے بعد نارمل ڈلیوری نہیں ہو سکتی؟

Read Next

سٹریس دور کرنے والے پانچ کھانے

Leave a Reply

Most Popular