میٹابولک سنڈروم

’’تندرستی ہزار نعمت ہے‘‘ ایک ایسا مقولہ ہے جسے ہم صدیوں سے جانتے اور مانتے تو ہیں لیکن اس کی قدر ہمیں اس وقت آتی ہے جب وہ خدانخواستہ ہم سے چھن جاتی ہے اور ہم بیمار پڑ جاتے ہیں۔ بعض اوقات مریض میں کسی ایک نہیں بلکہ بیک وقت کئی بیماریوں کی علامات نمودار ہوتی ہیں۔ اس کیفیت یا مجموعہ امراض کو سنڈروم کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں تیزی سے پھیلنے والے سنڈرومز میں سے ایک میٹابولک سنڈروم بھی ہے۔

میٹابولزم کسے کہتے ہیں

ہم جو غذا کھاتے ہیں، وہ جسم میں جا کر مختلف کیمیائی اور طبعی عملوں سے گزرتی ہے۔ ان کے نتیجے میں وہ چھوٹے چھوٹے اجزاء میں تقسیم ہو کر جزو بدن بنتی ہے۔ ٹوٹ پھوٹ کے اس عمل کے دوران توانائی پیدا ہوتی ہے جسے ہمارا جسم زندگی کو برقرار رکھنے، اعضاء کی نشوونما اور مختلف کاموں کی انجام دہی کے علاوہ اندرونی نظاموں مثلاً سانس لینے، خوراک ہضم کرنے اور خون کی گردش وغیرہ کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ عمل میٹابولزم کہلاتا ہے۔

میٹابولزم دو حصوں یعنی کیٹابولزم اور اینابولزم میں ہوتا ہے۔خوراک کے مالیکیولوں کی ٹوٹ پھوٹ سے توانائی پیدا ہونے کا عمل کیٹابولزم کہلاتا ہے۔ مثلاً گلوکوز تقسیم ہو کر کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی میں تبدیل ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں توانائی پیدا ہوتی ہے۔ دوسری طرف کیمیائی تبدیلیوں کے ذریعے سادہ اجزاء کے پیچیدہ مرکبات مثلاً پروٹین اور چکنائی وغیرہ بننے کا عمل اینابولزم کہلاتا ہے۔

میٹابولک سنڈروم کیا ہے

خوراک توانائی کی ضرورت سے زیادہ استعمال ہو اور جسم ان اضافی کیلوریز کو استعمال نہ کر پائے تو وہ چربی کی شکل میں جمع ہونے لگتی ہیں۔ اس کے باعث فرد موٹاپے اور نتیجتاً مختلف بیماریوں کا شکار ہونے لگتا ہے۔میٹابولک سینڈروم ایسی حالت ہے جس میں میٹابولزم کے عمل میں رکاوٹوں اور مسائل کی وجہ سے فرد ایک ہی وقت میں ذیابیطس، کولیسٹرول کی زیادتی اور ہائی بلڈپریشرکا شکار ہو جاتا ہے۔ اسے سینڈروم ایکس بھی کہا جاتا ہے۔

اس بیماری کی اہم خصوصیات میں سے ایک انسولین مزاحمت ہے۔ انسولین کا کام گلوکوز کے استعمال میں مدد دینا ہے تاکہ جسم اس سے توانائی حاصل کر سکے۔ انسولین مزاحمت کی صورت میں جسم انسولین تو بناتا ہے مگر اسے ٹھیک طرح سے استعمال نہیں کر پاتا۔ یوں گلوکوز پوری طرح جسم کے مختلف حصوں تک نہیں پہنچ پاتی اور توانائی کم ملتی ہے۔ اس کے علاوہ فرد کا جسم پھولتا اور وزن بھی بڑھتا ہے۔

مرض کی وجوہات اور علامات

غیر صحت بخش طرز زندگی کے باعث میٹابولک سینڈروم اور دیگر امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا کھانے کا کوئی وقت متعین نہیں ہوتا اور وہ بے وقت کھاتے رہتے ہیں۔ پھر کھانے کے ضمن میں صحت کی بجائے ذائقے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ ایسے کھانے پسند کرتے ہیں جن میں کیلوریز زیادہ ہوتی ہیں۔ ان کے زیادہ استعمال سے ہائی بلڈ پریشر، امراض قلب اور ذیابیطس کی شرح بڑھ رہی ہے۔ سونے جاگنے کے اوقات مقرر نہ ہونے اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی سے بھی بہت سی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔

میٹابولک سنڈروم کی صورت میں موٹاپا بڑھنے لگتا ہے، غیر معمولی طور پر زیادہ پیاس لگتی ہے اور پیشاب بھی زیادہ آتا ہے۔ یہ ذیابیطس کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جسمانی کمزوری، سانس پھولنے، جلد تھکنے، کولیسٹرول کی زیادتی، سینے میں درد اور چلنے میں دشواری کی شکایت ہو سکتی ہے۔

بچاؤ اور علاج

٭ اس مجموعہ امراض سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ گھی سے بنی اشیاء کم سے کم کھائیں۔ اس کے علاوہ نمک کم استعمال کریں۔ پھلوں پر نمک چھڑک کر کھانے اور اسے آٹے میں ملانے سے گریز کریں۔

٭ وہ کھانے کم کھائیں جو وزن بڑھاتے ہیں۔ اور فوری طور پر وزن کم کرنے کے بجائے آہستہ آہستہ وزن کم کریں۔

٭ زیادہ چینی کی حامل چیزیں کم استعمال کریں۔ چینی کے بجائے معتدل مقدار میں شہد استعمال کر سکتے ہیں۔

٭ میٹابو لک سینڈروم میں سگریٹ نوشی سے مکمل پرہیز کریں۔

٭ تازہ سبزیاں زیادہ استعمال کریں۔ کچی سبزیوں مثلاً گوبھی، کھیرے اور ٹماٹر کو بھی غذا میں شامل کریں۔ انہیں سلاد کی صورت میں بھی کھایا جا سکتا ہے۔

٭ پانی زیادہ سے زیادہ پیئیں۔ پھلوں کا تازہ رس اور سبز چائے بھی پانی کی مقدارکو پورا کرتی ہے۔

٭ ہفتے میں پانچ دن 30 منٹ تک ورزش کریں۔ اس سے خون میں موجود گلوکوز جسم کے حصوں تک جلدی پہنچتی ہے۔

اگر کسی فرد کو اس سینڈروم کی کچھ علامات محسوس ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ متاثرہ فرد کا شوگر لیول، کولیسٹرول اور بلڈپریشر چیک ہو جائے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایک ڈاکٹر ہی بہتر طور پر بتا سکتا ہے کہ وہ اس سنڈروم کا شکار ہے یا نہیں۔

Vinkmag ad

Read Previous

بزرگ بھی عید کے پکوان کھائیں

Read Next

دودھ میں ملاوٹ

Leave a Reply

Most Popular