دودھ میں ملاوٹ

دودھ میں ملاوٹ کا معاملہ کسی ایک فرد یا گھرانے تک محدود نہیں بلکہ اس نے ہر فرد کو پریشان کر رکھا ہے۔ پرانے زمانے میں اس میں صرف پانی ہی کی ملاوٹ ہوتی تھی لیکن اب تو بعض جگہوں پر پورے کا پورا جعلی دودھ فروخت ہوتا ہے۔ اس کی تیاری میں یوریا، ڈیٹرجنٹ، بال صفا پاﺅڈر، ویجی ٹیبل آئل اور بناسپتی گھی سمیت 17 مصنوعی اجزا ء استعمال کیے جاتے ہیں۔

فوڈ اتھارٹی لاہور کی سابقہ ایڈیشنل ڈائیریکٹر جنرل (آپریشنز) ڈاکٹر رافعہ حیدر کے مطابق دودھ کو گاڑھا کرنے کے لیے اس میں پاﺅڈر شامل کیا جاتا ہے جو اس پر بالائی لاتا ہے۔ یہ بالعموم غیر معیاری ہوتا ہے اور چائنہ سے منگوایا جاتا ہے. دودھ کو گاڑھا کرنے اور اس کی بو چھپانے کے لیے کچھ لوگ اس میں پنسلین(ایک جراثیم کش مادہ ) بھی ڈالتے ہیں۔ تاہم آج کل دودھ میں پانی اور پاﺅڈر کی ملاوٹ ہی زیادہ پکڑی جا رہی ہے۔

جناح سپتال لاہور کے سینئر میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد تابش رضا نے شفانیوز کو بتایا کہ ایک سے دوسری جگہ لانے کے دوران دودھ خراب ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ لہٰذا اس میں جراثیم کی افزائش روکنے کے لیے ایک کیمیکل (فارملین) بھی شامل کیا جاتا ہے۔ فارملین نعشوں سمیت دیگر چیزوں کو محفوظ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے سوڈیم بائی کاربونیٹ اور ہائیڈروجن پر آکسائیڈ بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دودھ میں یوریا، واشنگ پاﺅڈر، کارن فلور اور فاسفورس وغیرہ کی بھی ملاوٹ ہوتی ہے۔

دودھ میں ملاوٹ کے نقصانات

ماہرین غذائیات کے مطابق دودھ میں ملاوٹوں کے یہ نقصانات ہو سکتے ہیں:

٭ دودھ کے برتن گندے ہوں یا اس میں آلودہ پانی شامل ہو تو پیٹ کی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔ آںتوں کی ٹی بی بھی ہو سکتی ہے۔

٭ دودھ کا 80 سے 85 فی صد پانی جبکہ باقی حصہ دیگر غذائی اجزا پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس میں مزید پانی ڈالیں تو دودھ کی غذائیت کم ہو جاتی ہے۔ مثلاً خالص دودھ میں اگر 300 ملی گرام کیلشیم ہوتا ہے تو ملاوٹ شدہ دودھ میں اس کی مقدار 150 ہو سکتی ہے۔ خالص دودھ میں چار گرام پروٹین ہوتی ہے تو ملاوٹ شدہ دودھ سے صرف دو گرام پروٹین ملے گی۔

٭ فارملین ایک خاص مقدار سے زیادہ شامل ہو تو معدے اور آنتوں کی سوزش اور گردوں کے مسائل ہو سکتے ہیں۔

٭ ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کی ملاوٹ دل، شریانوں اور گردوں کے لیے مضر صحت ہے۔

٭ دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے بھینسوں کو ہارمونز کے ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔ اس دودھ سے ہارمونز سے متعلق مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔ خواتین میں یہ ماہانہ ایام کی بے قاعدگی، پی سی او ایس اور کیل مہاسوں وغیرہ کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ دودھ آنتوں میں السر، قے، اسہال اور پیٹ کے دیگر مسائل بھی پیدا کر سکتا ہے۔

٭ واشنگ پاﺅڈر ایک رنگ کاٹ ہے جو معدے کی جھلی کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس سے معدے میں السر بن سکتا ہے۔ اگر یہ پاﺅڈر خون میں جذب ہو جائے تو گردوں، جگر اور جسم کے دیگر حصوں میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

٭ اضافی چکنائی یا بناسپتی گھی کی ملاوٹ جسم میں چربی بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔ نتیجتاً کولیسٹرول، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

ملاوٹ جانچنے کے طریقے

دودھ میں مخلتف طرح کی ملاوٹیں کی جاتی ہیں اور ہر ایک کو جانچنے کے لیے طریقہ موجود ہے۔ شفا نیشنل ہسپتال فیصل آباد کی ماہر غذائیات، عروج رﺅف کے مطابق دودھ کے ملاوٹ زدہ ہونے کی نشانیاں یہ ہیں:

٭ دودھ کا ایک قطرہ کسی ڈھلوان، پالش شدہ اور چمکدار سطح پر ڈالیں۔ اگر وہ بہتے ہوئے سفید لکیر چھوڑے تو اس وہ خالص ہے۔ اگر پانی کی لکیر چھوڑے جو مٹتی آئے تو اس میں پانی شامل ہوگا۔

٭ دودھ کو ابالیں۔ اگر اس پر سفید موٹی سی تہہ جمنے لگے تو یہ ملاوٹ کی نشانی ہے۔

٭ ہلکی آنچ پر دودھ کو دو سے تین گھنٹے ابالنے پر وہ کھوئے کی طرح بن جائے گا۔ اگر وہ سخت اور کھردرا ہو تو یہ اس کے ملاوٹ زدہ ہونے کی نشانی ہے۔ خالص دودھ کے کھوئے پر چمک ہوگی، جیسے اس پر تیل لگایا گیا ہو۔

یوریا کی ملاوٹ

٭ اس کی پہچان کے لیے کھانے کے آدھے چمچ دودھ میں اسی کے برابر سویا بین کا پاؤڈر ملا کر خوب ہلائیں۔ پانچ منٹ کے بعد اس میں 30 سیکنڈ تک لٹمس پیپر ڈالیں۔ پیپر سرخ سے نیلا ہونے لگے تو یہ دودھ میں یوریا کی موجودگی کی نشانی ہے۔ لٹمس پیپر بازار میں باآسانی دستیاب  ہوتا ہے۔

کلف، کیمیکلز یا واشنگ پاؤڈر 

٭ دودھ میں کلف ہو تو پانچ ملی لیٹر دودھ میں دو کھانے کا چمچ نمک ملانے سے وہ نیلے رنگ میں تبدیل ہو جائے گا۔

٭ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق دودھ میں کیمیکلز یا واشنگ پاﺅڈر کی پہچان کے لیے بھی ٹیسٹ  کیا جا سکتا ہے۔ پانچ ملی لیٹر پانی میں پانچ ملی لیٹر دودھ ملا کر پانچ منٹ تک ہلائیں۔ اس میں جھاگ بننے لگے تو یہ واشنگ پاﺅڈر یا کسی اور کیمیکل کی موجودگی کی علامت ہے۔ ایسا دودھ بد ذائقہ ہوگا، ابالنے سے زرد ہو جائے گا اور ہاتھ پر ملنے سے اس میں جھاگ سی بننے لگے گی۔

بناسپتی گھی کی ملاوٹ

٭ بناسپتی گھی کی ملاوٹ جانچنی ہو تو ایک کھانے کے چمچ دودھ میں دو کھانے کے چمچ ہائیڈروکلورک ایسڈ اور ایک کھانے کا چمچ چینی ڈالیں۔ اگر وہ سرخ ہونے لگے تو جان لیں کہ اس میں بناسپتی گھی شامل ہے۔

دودھ بنیادی ضرورت ہے اور اس میں ملاوٹ سنگین قومی جرم ہے۔ ایسا کرنے والوں کو سخت ترین سزائیں دینی چاہئیں۔ اگر ہمیں اپنی اور اپنے پیاروں، خصوصاً بچوں کی زندگی اور صحت عزیز ہے تو پھر ہمیں اس معاملے سے پوری طرح باخبر ہونا چاہیے۔

Vinkmag ad

Read Previous

میٹابولک سنڈروم

Read Next

ناک کے عام مسائل

Most Popular