ناک کے عام مسائل

ناک کا بنیادی کام سانس لینا اور خوشبوﺅں یا بدبوﺅں کو سونگھنا ہے مگر اسے چہرے کی خوبصورتی کے تعین میں بھی اہم قرار دیا جاتا ہے۔ اس سے جڑے کچھ محاورے بھی ہیں مثلاً ناک اونچی ہونے کو عزت جبکہ اس کے کٹ جانے کو بدنامی کے معنوں میں لیا جاتا ہے۔ یہ ہمارے جسم کا ایک اہم عضو ہے جس کے متاثر ہونے سے ہماری زندگی کئی طرح سے متاثر ہو جاتی ہے۔ اس کی بیماریاں پیدائشی بھی ہو سکتی ہیں اور بعد میں بھی کسی وجہ سے لاحق ہو سکتی ہیں۔ ناک کے عام مسائل یہ ہیں:

ہڈی کا ٹیڑھا پن

نتھنوں کا درمیانی پردہ دائیں، بائیں یا دونوں طرف مُڑا ہو اور اس وجہ سے ناک بند ہونے، ریشے اور سردرد وغیرہ کا سامنا ہو تو یہ ناک کی ہڈی ٹیڑھی ہونے کی علامات ہیں۔ یہ پیدائشی مسئلہ بھی ہو سکتا ہے اور چوٹ لگنے کی وجہ سے بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ معائنے کے ذریعے ڈاکٹر اس کی تشخیص کرتا ہے۔

تشخیص کے لیے کسی خاص ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لوگوں کی بڑی تعداد اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ اس کا حل صرف آپریشن ہے۔ بعض صورتوں میں یہ اس کے بغیر بھی ٹھیک ہو جاتی ہے، تاہم اس کے لیے مکمل علاج کرانا ضروری ہوتا ہے۔

ناک کی الرجی

سانس کی الرجی ناک اور پھیپھڑوں کو خاص طور پر متاثر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ حلق بھی اس کی زد میں آسکتا ہے۔ الرجی کی صورت میں جب گردوغبار، پولن اور خوراک کے ذرات جسم میں داخل ہوتے ہیں تو مریض کو چھینکیں آتی ہیں۔ اس کے ساتھ ناک اور آنکھوں سے پانی بہنا شروع ہو جاتا ہے، ناک بند ہو سکتی ہے اور مریض کو منہ کے ذریعے سانس لینا پڑتی ہے۔ یہ الرجی بڑھ کر پھیپھڑوں پر اثر انداز ہو جائے تو مریض کو دمہ ہو سکتا ہے۔ ناک کی الرجی اور دمہ علیحدہ علیحدہ بیماری کی صورت میں بھی ظاہر ہو سکتے ہیں اور بیک وقت بھی مریض کو متاثر کر سکتے ہیں۔

الرجی کا سب سے اچھا حل پرہیز ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات وغیرہ سے پرہیز ہو سکتی ہے۔ تاہم ہوا میں موجود گردوغبار سے مکمل طور پر بچنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے مریض کو علاج کی ضرورت پڑتی ہے۔ اب ایسی ادویات دستیاب ہیں جن کے مضر اثرات بہت کم ہیں۔ اس سے الرجی کے مریضوں کی زندگیاں آسان ہو رہی ہیں۔

ناک میں انفیکشن

اس کی وجوہات میں ماحولیاتی آلودگی، وائرس، بیکٹریا اور پھپھوندی وغیرہ شامل ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو ان کی وجہ سے ہلکی پھلکی شکایت ہوتی ہے۔ مثلاً گلے میں ریشہ، ناک بند ہونا اور معمولی پانی بہنا وغیرہ۔ معمولی اور شدید، دونوں صورتوں میں علاج کرانا ضروری ہوتا ہے۔

ناک کا ایک اور انفیکشن فلو یا وبائی نزلہ ہے۔ یہ مختلف قسم کے وائرسز سے ہوتا ہے۔ پہلے دوتین دن تک اس کی شدت زیادہ ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ کم ہوتی جاتی ہے۔ عام طو رپر اس کے لیے پین کلرز دی جاتی ہیں۔ ایسی کیفیت میں سُوپ، چائے اور کافی وغیرہ بھی فائدہ مند ہیں۔ ایسے میں کھٹی اور ٹھنڈی اشیاء استعمال نہ کریں۔ جہاں تک ممکن ہو اپنے آپ کو سردی سے بھی بچائیں۔

ناک کی چوٹ

ناک چہرے کا سب سے نمایاں عضو ہے جس پر چوٹ شدید درد کے علاوہ سخت نقصان کا بھی باعث بنتی ہے۔ ایسی صورت میں خون (نکسیر) آنے کے علاوہ ناک کے ٹیڑھا ہونے، بند ہونے، سوج جانے اور اس میں درد جیسی شکایات سامنے آ سکتی ہیں۔ اگر یہ شدید نوعیت کی ہوں تو ڈاکٹر سے معائنہ کروانا ضروری ہوتا ہے۔

رسولی اور کینسر

ناک میں مختلف قسم کی رسولیاں اور کینسر ہونا زیادہ عام مرض نہیں تاہم کچھ لوگ اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ رسولی اور کینسر کی ابتدائی علامات ناک کے عام انفیکشن سے ملتی جلتی ہیں۔ اگر کسی شخص کا نزلہ ٹھیک نہ ہو رہا ہو اور اس کی ناک میں سے خون آلود ریشہ آتا ہو تو اسے چاہیے کہ ای این ٹی سپیشلسٹ کو دکھائے۔

نکسیر پھوٹنا

عام لوگ نکسیر کو ایک بیماری سمجھتے ہیں حالانکہ یہ دوسری بیماریوں کی علامت کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ نکسیر دماغ سے خون جاری ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے حالانکہ ایسا بہت کم صورتوں میں ہوتا ہے۔ عموماً یہ ناک سے ہی جاری ہوتا ہے۔ ناک پر لگنے والی چوٹ کے علاوہ اس کی سوزش، ایسی بیماریاں جن میں خون نہیں جمتا، ہائی بلڈ پریشر اور ناک کی رسولی اس کی وجوہات ہیں۔

چوٹ اور سوزش کی وجہ سے آنے والی نکسیر عموماً معمولی ہوتی ہے اور خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے۔ اگر یہ شدید ہو تو ڈاکٹر کو چیک کرانا ضروری ہوتا ہے۔

Vinkmag ad

Read Previous

دودھ میں ملاوٹ

Read Next

Shaken baby syndrome

Most Popular