ہیپاٹائٹس سی

ہیپاٹائٹس جگر کی بیماری ہے جو ایک وائرس کے باعث ہوتی ہے۔ اس میں جگر سوزش کا شکار ہو جاتا اور اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ ہیپاٹائٹس کی پانچ اقسام میں ہیپاٹائٹس اے، بی اور سی زیادہ عام ہیں۔ ہیپاٹائٹس سی کی شرح جن ممالک میں سب سے زیادہ ہے ان میں پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔

ہیپاٹائٹس سی کی اقسام اور علامات

دورانیے کی بنیاد پر اس کی دو بنیادی اقسام ہیں:

٭ایکیوٹ (acute) ہیپاٹائٹس میں اچانک جگر میں سوزش ہوتی ہے۔ زیادہ تر افراد میں یہ دائمی شکل اختیار کر لیتا ہے جبکہ کبھی کبھار کچھ ہی ہفتوں میں ٹھیک بھی ہو جاتا ہے۔

٭دائمی (chronic) ہیپاٹائٹس سی کا علا ج نہ کروایا جائے تو یہ زندگی بھر چلتا ہے۔ یہ لیور سیروسز، لیور کینسر، لیور فیلور اور جان جانے کا سبب بن سکتا ہے۔

اس میں مبتلا اکثر مریضوں میں کوئی علامت نہیں ہوتی یا عمومی علامات مثلاً ڈپریشن اور تھکاوٹ ظاہر ہوتی ہیں۔ زیادہ ترمریض اس کے باعث جگر کے دیگر دائمی امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ پھر ان کے مطابق علامات سامنے آتی ہیں۔

کیسے پھیلتا ہے

یہ وائرس مشترکہ برتنوں، کپڑوں، چھینک، کھانسی یا ہاتھ ملانے سے نہیں بلکہ مریض کے خون سے رابطے کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ استعمال شدہ اور آلودہ سوئیاں اور سرنج وغیرہ استعمال کرنے اور ذاتی استعمال کی اشیاء دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے سے ہو سکتا ہے۔

ماں کا ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہونا،ہسپتالوں میں خون کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں سے بچاؤ کے مؤثر اقدامات نہ ہونا اور متاثرہ فرد سے جسمانی تعلق قائم کرنا بھی اس کا سبب بن سکتا ہے۔

کون شکار ہو سکتا ہے

ادویات یا منشیات کے لئے سرنج استعمال کرنے والے افراد, ایچ آئی وی انفیکشن کے شکار لوگ اور ڈائلیسز کے مریضوں میں اس کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ افراد جنہیں ہیپاٹائٹس سی کے مریض کا خون لگا ہو، ہیلتھ کئیر سٹاف اور ان بچوں کو بھی یہ مسئلہ ہوسکتا ہے جن کی ماں کو یہ انفیکشن ہو۔

تشخیص اور علاج

اس کی تشخیص خون کے ٹیسٹوں سے ہوتی ہے۔ دائمی مرض کی تشخیص معمول کے چیک اَپ کے دوران یا خون عطیہ کرتے وقت ہوتی ہے۔ اس کے بعدمریض کو 8 سے12 ہفتوں تک ادویات کا کورس کروایا جاتا ہے۔ یہ انفیکشن مکمل علاج کے بعد دوبارہ بھی ہوسکتا ہے۔ لہٰذاجن میں اس کے امکانات زیادہ ہیں وہ ٹیسٹ کرواتے رہیں۔

ہیپاٹائٹس سی سے بچاؤ کی کوئی ویکسین نہیں تاہم صحت و صفائی کے اصولوں پر عمل کر کے اس کے امکانات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنی ذاتی استعمال کی اشیاء دوسروں کو نہ دیں۔ ٹیکہ لگواتے ہویے نئی سرنج استعمال کریں اور بعد میں اسے ضائع کریں۔ اس کے علاوہ اس کا سبب بننے والے دیگر عوامل سے بچنے کی کوشش کریں۔

hepatitis c types, causes of hepatitis c, treatment of hepatitis c, who is at risk of hepatitis c, hepatitis c kyun hota hai, kala yarkaan

Vinkmag ad

Read Previous

خواتین میں ہارٹ اٹیک کی علامات

Read Next

سی سیکشن کے بعد نارمل ڈلیوری نہیں ہو سکتی؟

Leave a Reply

Most Popular