ہم ذائقہ کیسے محسوس کرتے ہیں

ہمارے پاس کھانے پینے کے لئے مختلف اشیاء ہیں۔ ان میں کسی کا ذائقہ میٹھا، کسی کا کڑوا، کسی کا نمکین اور کسی کا کھٹا ہوتا ہے۔ ان چار ذائقوں کے علاوہ اومامی (savory) ذائقہ بھی ہے۔ جب ہم کھانے کی کسی چیز میں مصنوعی ذائقہ شامل کرتے ہیں تو وہ اس جیسی ہی محسوس ہوتی ہے۔ مثلاً چائے میں چینی شامل کر دی جائے تو وہ میٹھی لگتی ہے۔ مگر کیا آپ نے کبھی سوچا کہ کچھ اشیاء قدرتی طور پر کھٹی اور کچھ میٹھی کیوں ہوتی ہیں۔ پھر ہم ذائقہ کیسے محسوس کرتے ہیں؟ آئیے جانتے ہیں۔

ذائقے مختلف کیوں

کھانوں کا ذائقہ ان کے اندر موجود مختلف قسم کے اجزاء پر منحصر ہوتا ہے۔ مثلاً کھانوں کی مٹھاس دراصل ان میں موجود شوگر کی وجہ سے ہوتی ہے۔ کچھ دیگر مادے بھی ان حسی خلیوں کو متحرک کر سکتے ہیں جو مٹھاس پر رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ جو کھانے نمکین محسوس ہوتے ہیں ان میں سوڈیم، کلورائیڈ، پوٹاشیم اور میگنیشیم ہوتا ہے۔

٭کڑوا ذائقہ 35 مختلف پروٹینز کی وجہ سے محسوس ہوتا ہے۔

٭کھٹا ذائقہ کھانوں میں موجودتیزابی محلول کی وجہ سے ہوتا ہے۔

٭گلوٹامک اور ایسکوربک ایسڈ کی وجہ سے اومامی ذائقہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ دونوں امائنو ایسڈز ہیں۔

 ذائقوں کی سائنس،ہم ذائقہ کیسے محسوس کرتے ہیں،شفانیوز

ذائقوں کی پہچان

ہماری زبانوں پر چھوٹے چھوٹے ابھرے ہوئے دانے (papillae) سے بنے ہوتے ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ ہر دانہ ایک کھائی ہے۔ جب ہم کھانا چباتے ہیں تو اس کے ذرات اس کھائی کے اندر چلے جاتے ہیں۔ اس کھائی میں ٹیسٹ بڈز یعنی ذائقہ محسوس کرنے والے خلیے اور ان خلیوں کے اوپر بال (taste hairs) ہوتے ہیں۔

جب کھانے میں موجود کیمیائی مادوں کا رابطہ ان بالوں سے ہوتا ہے تو ٹیسٹ بڈز کے ساتھ جڑے اعصاب دماغ کو پیغام دیتے ہیں۔ اس کے بعد ہم ذائقہ محسوس کر پاتے ہیں۔

یہ پیغامات دماغ میں جا کر ہماری یادداشت اور جذبات سے جڑے حصوں کو متحرک کرتے ہیں۔ نتیجتاً ہمیں اس ذائقے سے جڑے واقعات اور تجربات بھی یاد آتے ہیں۔

ذائقے کو پوری طرح محسوس کرنے میں ناک بھی مدد دیتا ہے۔جب ہم کھانا چباتے ہیں تو اس میں سے کچھ کیمیائی مادے خارج ہو کر ناک کے اندر جاتے ہیں۔ وہاں وہ بو محسوس کرنے والے خلیوں کو متحرک کرتے ہیں۔ پھر وہ خلیے دماغ کو پیغام دیتے ہیں جس سے ہمیں کھانے پینے کی اشیاء کا صحیح ذائقہ محسوس ہوتا ہے۔

جب ہمارا ناک الرجی، ٹھنڈ لگنے یا دیگر وجوہات کے باعث بند ہوتا ہے تو یہ کیمیائی مادے ناک تک نہیں پہنچ پاتے اور بو محسوس کرنے والے خلیوں کو متحرک نہیں کر پاتے۔ اس لئے ہمیں ذائقہ زیادہ محسوس نہیں ہوتا۔

ذائقہ محسوس کرنے والے زیادہ تر خلیے زبان کے اوپر یا سائیڈ پر جبکہ باقی گلے ا ور منہ میں ہوتے ہیں۔ عمر میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد اور حساسیت قدرتی طور پر کم ہوتی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی عمر میں ہمیں ذائقے کم محسوس ہونے لگتے ہیں۔

How does sense of taste work, science of taste, science of flavor, zaiqa kaisay mehsus hota hai, zaiqay ki science, health, shifa news

Vinkmag ad

Read Previous

کیا لیزر سے بال نکلنا بند ہو جاتے ہیں؟

Read Next

Medical waste incinerator launched in Islamabad

Leave a Reply

Most Popular