مٹی کھانے کی عادت

مٹی کھانے کی عادت

زندگی ایک کتاب کی مانند ہے اورروزوشب اس کے اوراق ہیں۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا جو صفحہ آپ نے ایک بار پلٹ دیا‘ اسے آپ دوبارہ نہیں کھول سکتے۔ جو دن‘ جو لمحہ گزرگیا‘ وہ ہمیشہ کے لئے گزرگیا اوراسے دوبارہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ اگرہمیں اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کا موقع ملے تو ہم وہ غلطیاں نہیں کریں گے جوپہلی دفعہ کرچکے ہیں۔ ایسا ممکن نہیں‘ اس لئے ہمیں ہرقدم سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہئے۔

چندروز قبل ڈیانا لومنزکی ایک انگریزی نظم ’’اگر مجھے اپنے بچے کو دوبارہ پروان چڑھانے کا موقع ملے! ‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کے کچھ اشعاربہت اچھے ہیں۔ ان کا سلیس ترجمہ کچھ یوں ہے

اگرمجھے اپنے بچے کو دوبارہ پروان چڑھانے کا موقع ملے تو میں پہلے اس کی عزتِ نفس تعمیر کروں گی اوربعد میں مکان بنانے کا سوچوں گی۔

میں انگلی اٹھانے(یعنی اعتراض کرنے) کی طرف کم اوربچے کی انگلی تھامنے کی طرف زیادہ توجہ دوں گی۔ بچے کی اصلاح کرنا یقیناً بہت اہم ہے مگرمیں زیادہ توجہ اس کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے پردوں گی۔

میں اپنی نظریں ہروقت گھڑی پررکھنے کے بجائے اپنی آنکھوں کو زیادہ سے زیادہ مشاہدات کے لئے استعمال کروں گی۔ میں جاننے پرزیادہ وقت لگانے کے بجائے اپنا دھیان دوسروں کا خیال رکھنے پردوں گی۔

میں پہاڑوں پرچڑھوں گی‘ پتنگیں اڑاؤں گی اوربہت زیادہ سنجیدہ رہنا بند کردوں گی۔ میں کھیتوں میں بھاگوں گی اورستاروں کوٹکٹکی باندھ کرتکتی رہوں گی۔ میں بچے کو جھٹکنے کے بجائے گلے لگانے کو ترجیح دوں گی۔ میں طاقت سے محبت کے بجائے محبت کی طاقت پر یقین رکھوں گی۔

کتنی خوبصورت باتیں کہی ہیں ڈیانا لومنزنے۔ یوں لگتا ہے کہ اس نے میری خواہشات کوالفاظ کا جامہ پہنایا ہے۔ بچے نرم اسفنج کی مانند ہوتے ہیں اوراپنے ماحول سے ہراچھی اوربری چیز جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا اپنے ماحول اور رویوں سے کبھی غافل نہ ہوں اور انہیں ہمیشہ صحت مند رکھیں۔

کچھ دنوں سے میری بیٹی کبھی زمین سے توکبھی دیوارکے ساتھ لگی کوئی چیزاٹھا کرمنہ میں ڈال لیتی۔ پہلے پہل تو میں اسے وہم سمجھی مگر ایک دن جب میاں گھرآئے اورپورچ میں گاڑی پارک کی تووہ چھپ چھپ کرٹائرسے لگی مٹی ہاتھ پر لگا کراسے چُوس رہی تھی۔ اسے ٹوکا تووہ بھاگ کراندرچلی گئی۔ میرے لئے یہ پریشان کن بات تھی اورمیاں مجھ سے بھی زیادہ حساس واقع ہوئے ہیں۔ انہیں فکرلگ گئی کہ کہیں اس کے پیٹ میں درد شروع نہ ہو جائے۔ کہنے لگے کہ خود اس کا حل ڈھونڈنے سے بہتر ہے کہ ڈاکٹر سے پوچھ لیا جائے۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان کے ماہر امراض اطفال ڈاکٹر فاروق احمد سے رابطہ کیا۔

مرض کی تفصیل

ڈاکٹرفاروق نے بتایا کہ مٹی کھانا چھوٹے بچوں خصوصاً ایک سے چھ سال تک کے بچوں میں عام ہے۔ ان کے بقول اسے میڈیسن کی زبان میں پکا کہتے ہیں۔ یہ لاطینی زبان کا لفظ ہے جو ایک پرندے ’’میگ پائی‘‘کے نام سے ماخوذ ہے ۔ یہ پرندہ غیرغذائی اشیاء سمیت ہرچیز کھاتا ہے۔ننھے بچے بھی مٹی‘ کیچڑ‘ ریت‘ اینٹوں کا چورا‘ پینٹ کے چھلکے‘ پلستر‘ چاک اورراکھ وغیرہ کھاتے ہیں لہٰذا ان کی اس عادت کو اس پرندے سے تشبیہ دی جاتی ہے۔

یہ عادت گھٹنوں کے بل چلنے کی عمرمیں زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے ماحول کو پرکھنے اورجانچنے کے لئے ہاتھوں کا استعمال کرتے ہیں اورہرشے اٹھا کر منہ میں ڈال لیتے ہیں۔ اس عادت کی دیگروجوہات میں سے ایک وجہ خون میں آئرن کی کمی  یا ان کی خوراک میں ز ِنک کی کمی ہوسکتی ہے۔ یہ عادت ان افراد میں بھی ہوسکتی ہے جو جسمانی ارتقائی مسائل بشمول آٹزم کا شکار ہوں۔ بہت سی صورتوں میں اس کی کوئی وجہ سامنے نہیں آتی۔

میری ایک کزن زچہ وبچہ سے متعلق امورکی ڈاکٹر ہیں۔ ملاقات کے لئے آئیں تومیں نے باتوں ہی باتوں میں بچی کی مٹی کھانے کی عادت کا ذکر کیا۔ وہ کہنے لگیں کہ بچے تو بچے‘ میرے پاس ایسی حاملہ خواتین بھی آتی ہیں جومٹی کھاتی ہیں اوردوران حمل بھی اس سے باز نہیں آتیں۔ میں اس پرحیران ہوئی تو کہنے لگیں کہ اس کا سبب ان میں اہم غذائی اجزاء‘ خصوصاً فولاد کی کمی ہے۔ اگرانہیں اوربچوں کو متوازن اورصحت بخش غذا دی جائے تو وہ اس کا کم شکار ہوتے ہیں۔

پیچیدگیاں

مٹی کھانے کا سبب خواہ کچھ بھی ہو‘ اس عادت پرجتنا جلدی ممکن ہو قابو پالینا چاہیے۔ دوسری صورت میں اس عادت کے پختہ ہونے، بچوں میں سیسے کے زہراورآنتوں میں رکاوٹ کی شکایت پیدا ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ پیٹ درد‘ پیٹ کے کیڑوں‘متلی‘ ڈائریا‘ قبض اور بھوک میں کمی جیسے مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔ علاج کے سلسلے میں سب سے پہلے بچے کی خوراک کے شیڈول کا ازسرنو جائزہ لیں اور اس کی غذا میں ایسے اجزاء شامل کریں جو کیلشیم‘ آئرن اورزنک سے بھرپور ہوں۔ بچے کو سبزیوں اورگوشت سمیت ہرغذا کھانے کا عادی بنائیں تاکہ وہ اہم غذائی اجزاء کی کمی کا شکارہوکربیماریوں میں مبتلا نہ ہو۔

والدین کو چاہئے کہ اپنے ماحول اورخصوصاً گھر کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ جب پودوں کو کھاد دی گئی ہو تو بچوں کوخاص طورپر گھر کے لان سے دور رکھیں۔ بچوں کو اس بات کی تربیت دیں کہ وہ وقتاً فوقتاً اورخصوصاً مٹی یا ریت میں کھیلنے کے بعد ہاتھ  ضرور دھوئیں۔ انہیں اس عمل کی اہمیت بھی بتائیں۔ ایسی باتیں اگر کہانی کی شکل میں بتائی جائیں تو زیادہ مؤثرثابت ہوتی ہیں۔ اب تو نہ صرف میں بلکہ میاں بھی بیٹی پرخاص نظر رکھتے ہیں تاکہ وہ مٹی نہ کھائے۔

میں نے بہت سی مائوں کو دیکھا ہے کہ جب ننھے بچے ان سے چپکنے یا انہیں گلے لگانے کے لئے ان کے قریب آتے ہیں تووہ جھنجھلا جاتی ہیں۔ ان کی مصروفیات اور پریشانیاں اپنی جگہ لیکن انہیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ جو بچہ آج ان کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ان کے اردگرد منڈلا رہا ہے‘ کل کہیں وہ اس کی توجہ اوروقت کے لئے انتظار نہ کرتے رہ جائیں۔ کل ان کی یادوں اورزندگی میں رہنے کے لئے آج ان کی زندگیوں میں رہنا ہوگا۔

pica in children, magpie, causes and complication of pica in children, Eating disorder

Vinkmag ad

Read Previous

چوہوں کے حیران کن اوصاف

Read Next

سر درد

Leave a Reply

Most Popular