سر درد

جسم میں درد کی مثال سیکیورٹی الارم جیسی ہے۔ جونہی کوئی نقصان دہ چیز جسم میں داخل ہوتی ہے یا جسم میں کوئی مضر صحت تبدیلی ہوتی ہے تو علامت کے طور پر ہمیں درد ہوتا ہے۔ سر درد بھی انہی دردوں میں سے ایک ہے۔

کہا جاتا ہے کہ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا خوش نصیب ہو جسے زندگی میں کبھی سر میں درد نہ ہوا ہو۔ کبھی کبھی تو یہ معمولی نوعیت کا ہوتا ہے جبکہ بعض اوقات یہ سنگین صورت بھی اختیار کر جاتا ہے۔

گلوبل برڈن آف ڈیزیز کی 2013 میں شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق درد شقیقہ یعنی آدھے سر کا درد معذوری کے باعث زندگی کے صحت مند سال کم ہونے کا چھٹا جبکہ عام سردرد سے جڑے مسائل اس کا تیسرا بڑا سبب ہیں۔

لیاقت میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کراچی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر آف نیورولوجی اور سردرد کے ماہر ڈاکٹر عبد المالک کہتے ہیں:

سر درد، سر کے مختلف حصوں میں پھیلا ہوا درد ہے جو بنیادی طور پر کھوپڑی کی جلد اور ہڈیوں میں محسوس ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں سرکے اندر موجود دماغ اور اعصاب میں درد کا احساس نہیں ہوتا۔

ابتدائی نوعیت کا سر درد

ڈاکٹرعبد المالک کے مطابق تقریباً 90 فی صد سر درد ابتدائی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ان کی عمومی وجوہات تھکاوٹ اور نیند پوری نہ ہونا وغیرہ ہیں۔ ابتدائی نوعیت کا سر درد زیادہ تر صورتوں میں قسطوں میں ہوتا ہے۔

ایک تاثر یہ بھی ہے کہ خواتین سر درد کی زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ اس پرمیوہسپتال لاہور کے سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر عبد الحلیم کہتے ہیں کہ سر درد کی شکایت کے ساتھ آنے والوں میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ اس کا سبب ذہنی تناؤ کے باعث عضلات کا کھچاؤ ہے جسے ٹی ٹی ایچ  کہتے ہیں۔ خواتین گھریلو پریشانیوں سے بہتر طور پرنپٹنا سیکھ لیں تو وہ بڑی حد تک اس سے بچ سکتی ہیں۔

ایک خیال یہ ہے کہ موبائل فون، لیپ ٹاپ وغیرہ کا زیادہ استعمال سردرد کا سبب بنتا ہے۔ اس پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کے نیوروسرجن ڈاکٹر محمد ندیم کہتے ہیں:

سکرین کے زیادہ دیر تک استعمال سے سر درد ہوسکتا ہے۔ موبائل فون کی روشنی آنکھوں کے لیے اچھی نہیں اور اس سے سر بھی بھاری ہونے لگتا ہے۔ ایک ہی زاویے پر زیادہ دیر بیٹھے رہنے سے پٹھوں میں کھچاؤ کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ 

شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کے ای این ٹی سپشلسٹ ڈاکٹر شایان انصاری کے مطابق ناک، کان یا گلے کے مسائل کی صورت میں بھی سر درد ہو سکتا ہے۔

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی‘ لاہور کی ماہرغذائیات انعم سعید کا کہنا ہے کہ سردرد کے اسباب میں بدغذائیت، بھوک اور بری غذائی عادات بھی شامل ہیں۔ مریضوں سے کہا جاتا ہے کہ کولا مشروبات اور سوڈا واٹر زیادہ پینے سے پرہیز کریں۔ ان سے سر درد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

سر درد ذہنی و جسمانی تھکاوٹ کی وجہ سے ہو تو گرم دودھ میں ہلدی ڈال کر پیئیں۔ چھوٹے بچوں کو رات کے وقت شہد ملا دودھ دیں۔ ادرک یا لہسن کی چائے بھی اس میں مفید ہے۔ بہتر ہے کہ چائے یا کافی کا استعمال دن میں دو یا تین بار سے زیادہ نہ کریں۔ اس سلسلے میں اخروٹ اور بادام بھی مفید ہیں، تاہم یہ باقاعدہ علاج کا متبادل نہیں۔

ثانوی سر درد

کبھی کبھی سردرد بظاہر معمولی لگتا ہے لیکن ایسا ہوتا نہیں بلکہ اس کے پیچھے کوئی بڑی وجہ ہوتی ہے۔ یہ ثانوی نوعیت کا سردرد ہے جو قسطوں کے بجائے مسلسل، غیرمعمولی، شدید اور خطرناک ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں کوئی بیماری، رسولی یا اعصابی مسئلہ ہوسکتا ہے۔ ایسے میں ٹوٹکے نہیں چلتے بلکہ باقاعدہ علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عبد المالک کہتے ہیں:

اگر سر درد اچانک شروع ہو اور اتنا شدید ہو کہ ایسا پہلے کبھی نہ ہوا ہو تو یہ بیماری کی علامت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ قسطوں میں ہو اور شرو ع میں کم اور بعد میں شدت اختیار کر جائے تو اس کی بنیادی وجہ کا علم مریض کی ہسٹری اور چند ٹیسٹوں کی مدد سے ہوجاتا ہے۔

ڈاکٹرمحمد ندیم نے بتایا کہ سرکے اندر رسولی یا انفیکشن ہو تو مسلسل سردرد ایک علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس کے ساتھ بعض اوقات قے بھی آتی ہے جو زیادہ ترصبح کے وقت ہوتی ہے۔ ٹیومر سر کے جس حصے میں ہوگا‘ علامات بھی اسی کے مطابق ظاہر ہوں گی۔ مثلاً اگر آنکھوں کے راستے میں موجود ہے تو یہ سردرد کے ساتھ نظر کی خرابی کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر دماغ کے پچھلے حصے میں ہو تو ایک سائیڈ کی نظر ختم ہوسکتی ہے۔ مریض کو ٹھیک طرح سے کھڑا ہونے، سونگھنے اورسنائی دینے میں دقت بھی ہوسکتی ہے۔

سر درد اچانک اور ناقابل برداشت ہو تو اسے ہلکا نہیں لینا چاہئے:

دماغ کی کسی نالی کے اندر غبارہ سا بن جائے اور جھلی کمزور ہو کر پھٹ جائے تو اس کے نیچے سے خون بہنے لگتا ہے جو کافی سنجیدہ معاملہ ہے۔ یہ مائیگرین سے مختلف ہے جس کے نتیجے میں فرد کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ لہٰذا اسے کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہئے اور مریض کو فوراً ہسپتال لانا چاہئے۔ اس مرض کی شرح بہت زیادہ نہیں لیکن یہ جب بھی ہو‘ خطرناک ہوتا ہے۔ 40 سے 60 سال کی عمر میں اس کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر سے رجوع کب ضروری

شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کے ماہراعصابی و دماغی امراض ڈاکٹر قمر زمان کے مطابق سردرد تھکاوٹ وغیرہ کی وجہ سے ہو تو آرام کرنے سے خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اگر لمبے عرصے سے چل رہا ہو یا اچانک اتنا شدید ہو کہ پہلے کبھی نہ ہوا ہو، اس کے ساتھ نظر پر فرق پڑرہا ہو، بولنے میں مشکل پیش آئے یا الٹی آئے تو ڈاکٹر کو ضرور دکھائیں۔ اس کے پس پردہ کوئی بڑا طبی مسئلہ ہوسکتا ہے۔ دوسری صورت میں ممکن ہے کہ معالج معمولات‘ خوراک اور ذہنی دباؤ کو سامنے رکھتے ہوئے طرزِ زندگی میں کچھ ایسی تبدیلیاں تجویز کرے جن کی مدد سے آپ سر درد سے چھٹکارا پالیں۔

یاد رکھنے کی باتیں

٭سر درد کی عمومی وجوہات میں سے ایک ہماری روزمرہ کی غیر صحت مندانہ عادات ہیں۔ مناسب نیند، آرام، منظم زندگی اور کھانے پینے میں اعتدال سے اس پرقابو پایا جا سکتا ہے۔

٭سردرد کی ایک بڑی وجہ ذہنی دباؤ ہے۔ اس کا بالعموم سبب پریشانیاں یا ذمہ داریوں کا بوجھ ہے۔ اگرہم ایسا انتظام کرلیں کہ وہ ہر وقت ہمارے ذہن پر سوار نہ رہیں تو اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

٭لوگوں کی بڑی تعداد سر درد کو ہائی بلڈپریشر کی ایک علامت سمجھتی ہے۔ ماہرین امراض قلب کے مطابق یہ تصور درست نہیں۔

٭عمومی سردرد میں کچن میں موجود اشیاء سے استفادے میں حرج نہیں۔ تاہم اگر دو یا چار دن تک درد میں آرام نہیں آتا تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

٭ٹیومر کا شک دور کرنے کے لئے ڈاکٹر ایم آر آئی کا مشورہ دے تو وہ لازماً کروائیں۔

Headache, causes of headache, primary and secondary headache, migraine, health, shifa news, sar dard

Vinkmag ad

Read Previous

مٹی کھانے کی عادت

Read Next

وٹامنز: حل پذیری، کمی اور موٹاپا

Leave a Reply

Most Popular