خوشی کے پارمونز

معروف امریکی مصنف، دانشور اور شاعر رالف والڈو ایمرسن کا ایک قول ہے:

’’ہر اس لمحے میں جب ہم غصے میں ہوتے ہیں ،اپنی خوشی کے 60 سیکنڈ گنوا رہے ہوتے ہیں۔‘‘

اگر اس دنیا میں زندگی ایک بارہی ملنی ہے تو اس کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے جسے یوں نہیں گنوانا چاہئے۔ مگرخوشی ہے کیا، اس کے پیچھے کون سی سائنس کارفرما ہے اوراسے حاصل کیسے کیا جا سکتا ہے۔ یہ سوالات ملتان کی سائیکالوجسٹ ڈاکٹر صائمہ احسان سے پوچھے توکہنے لگیں

سائنس کے تناظرمیں دیکھیں تو ہمارے جسم میں چار ہارمونز کا تعلق خوشی کے ساتھ ہے۔  اگر ان کے افعال کو سمجھ لیا جائے تو خوشی حاصل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

ڈوپامائن

خوشی کے احساسات سے متعلق پہلا ہارمون ڈوپامائن ہے۔ جب ہم اچھا محسوس کرتے ہیں تویہ زیادہ تراسی کا کما ل ہوتا ہے۔ یہ ہارمون یادداشت اور سیکھنے کے عمل میں بھی حصہ لیتا ہے۔ جب ہم اپنا کوئی کام، ہدف یا مشن مکمل کرتے ہیں، کوئی بڑی کامیابی حاصل کرتے ہیں یا کسی کام پرہماری تعریف ہوتی ہے تو اس ہارمون کی زیادہ مقدارخارج ہوتی ہے۔

اس کے برعکس جب یہ ہارمون کم مقدار میں خارج ہوتا ہے توہم خود کو بے بس اوربے یارومددگار پاتے ہیں۔ مزید برآں ہمارے اندرکام کی تحریک اورترغیب کم ہوجاتی ہے۔ اس لئے ماہرنفسیات کہتے ہیں کہ دن میں روزانہ کچھ وقت نکال کرکوئی ایسا کام ضرورکرنا چاہئے جو ہمیں عموماً پسند ہواور اپنی خوشیوں کو بھرپور طریقے سے منانا چاہئے۔

آکسی ٹوسن

خوشی سے تعلق رکھنے والا دوسرا ہارمون آکسی ٹوسن ہے۔ اسے محبت کا ہارمون بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بچے کی پیدائش اوراسے دودھ پلانے اعتماد، دوسروں کی کیفیات محسوس کرنے اورسماجی تعلقات بنانے میں بھی اہم کردارادا کرتا ہے۔ یہ سکون، خوشی اور تکمیل کا احساس دیتا اورذہنی تناؤ کم کرتا ہے۔

گلے لگانا‘ ہاتھ ملانا اور پالتوں جانوروں یا پرندوں کے ساتھ کھیلنا اس ہارمون کو جنم دیتا ہے۔ اگر ہم غذائیات کی بات کریں تو وٹامن سی‘وٹامن ڈی‘ مچھلی‘ مشروم‘مرچیں‘ ٹماٹر ‘پالک اورپپیتا اس ہارمون کو پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

سیروٹونن

اس تناظر میں سیروٹونن تیسرا اہم ہارمون ہے جو موڈ اور توانائی کے توازن کوبرقراررکھنے کے ساتھ ساتھ بھوک‘ نیند اور حافظے کو بھی باقاعدہ رکھتا ہے۔ یہ بہت سے نفسیاتی مسائل مثلاً بے چینی‘ ذہنی انتشار‘ہیجان اور رویوں کے عدم توازن کو دورکرنے میں مدد دیتا ہے

انڈے‘پنیر‘ انناس‘ ٹوفو اور سالمن مچھلی اسے بڑھاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مراقبہ، اچھے واقعات یاد کرنا ‘ ورزش ‘ مساج‘ دھوپ سینکنا‘ قدرتی مناظرسے لطف اندوزہونا‘ تیراکی اور سائیکلنگ اس ہارمون کی پیدائش کا سبب بنتے ہیں۔

اینڈورفن

اینڈورفن اس حوالے سے چوتھا اہم ہارمون ہے ۔ جب یہ خارج ہوتا ہے تو درد اور ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے اورخوشی یا جوش کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ لاہورسے تعلق رکھنے والے سائیکالوجسٹ ڈاکٹر مصطفیٰ کے مطابق اس ہارمون کی کم مقدار ذہنی‘ جذباتی اورجسمانی تکلیف سے وابستہ ہے۔ ان کے مطابق ڈارک چاکلیٹ کھانے‘ یوگا کرنے اورمسالے دار کھانوں سے یہ ہارمون زیادہ خارج ہوتا ہے۔

قہقہے کی مشق آج کل بہت رواج پا رہی ہے جس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ست، عطراورنباتاتی تیلوں کے استعمال کے علاوہ مزاحیہ فلم یا شودیکھنا اورورزش کرنا بھی اس ضمن میں مفید ہے۔

خوشی کوئی ریڈی میڈ چیز نہیں جو آپ بازارسے خرید لائیں گے ۔ اس کے لئے خاص مائنڈ سیٹ‘ متوازن غذا اورجسمانی سرگرمیاں اہم ہیں۔ اب جبکہ آپ خوشی کے پیچھے کارفرما سائنس کو سمجھ گئے ہیں تو امید ہے کہ اس کا باعث بننے والے اقدامات کرنا آپ کے لئے آسان ہو جائے گا۔ خوش رہیں اورخوشیاں بانٹیں۔

happy hormones, happiness and sadness, dopamine, serotonin, oxytocin

Vinkmag ad

Read Previous

ایثاراورتوکل کی داستان

Read Next

گینگرین

Leave a Reply

Most Popular