ملیریا

ملیریا

ملیریا دنیا کی چند بڑی بیماریوں میں سے ایک اورترقی پذیرممالک میں موت کا ایک بڑا سبب ہے۔ عالمی دارہ صحت کے مطابق دنیا میں ہر سال تقریباً 30 کروڑسے زائد افراد اس کا شکار ہوتے ہیں۔ پلازموڈیم نامی جرثومے کو اس کا سبب قرار دیا جاتا ہے جو مچھر کے ذریعے انسانی جسم میں منتقل ہوتا ہے۔ ملیریا ہرمچھر نہیں بلکہ ایک مخصوص نسل ’’انافلیز‘‘ کی مادہ کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔

ملیریا کی علامات

مچھر کے کاٹنے کے بعد ایک ہفتے سے ایک ماہ کے دوران ملیریا کی علامات ظاہرہوسکتی ہیں جو یہ ہیں

٭شدید سردی کے ساتھ بخاراورکپکپی طاری ہونا۔

٭بخارکا وقفے وقفے سے اترنا چڑھنا۔

٭متلی اورقے محسوس ہونا۔

٭جسم میں درد ہونا۔

٭بعض اوقات نزلہ زکام ، بخار‘ پٹھوں اورسرمیں درد ہوسکتا ہے۔

٭کھانسی اوراسہال کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔

ممکنہ پیچیدگیاں

شدید حملے کے باعث جگر یا گردوں کی ناکارگی‘ خون اور شوگر کی کمی‘مرکزی اعصابی نظام کی خرابی اورکوما کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔ اس کی ایک پیچیدگی دماغی ملیریا بھی ہے جس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تووہ جان لیوا ہوسکتا ہے۔

علاج

ملیریا کے علاج میں تین عوامل کو خاص طور پرمدنظر رکھا جاتا ہے۔ ان میں پلازموڈیم کی قسم، مریض کی نوعیت مثلاًوہ بالغ ہے یا بچہ اور اگرخاتون ہے تو کیا وہ حاملہ ہے یا نہیں اوردوا کا اثرشامل ہیں۔ دواؤں کے تعین میں علاقے کو بھی پیش نظررکھا جاتا ہے کیونکہ ملیریا کے کچھ جراثیم کچھ ادویات کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں۔ اس کا علاج ہلکی دواؤں سے شروع کیا جاتا ہے۔ اگران سے افاقہ نہ تو پھرسخت دوائیں تجویزکی جاتی ہیں۔

مرض سے بچاؤ

٭ملیریا سے بچاؤ کے لئے دستیاب ویکسن لگوائیں۔

٭گھر کے اندر اورآس پاس پانی جمع نہ ہونے دیں۔ پانی کے گڑھے مٹی وغیرہ سے بھردیں۔

٭گھر کے اندر خصوصاً باورچی خانے میں صفائی کا خاص خیال رکھیں اورگھر میں کوڑا جمع نہ ہونے دیں۔

٭شام اوررات کے وقت مچھروں سے خاص طور پراحتیاط کریں‘ اس لئے کہ اس وقت وہ زیادہ کاٹتے ہیں۔

٭ممکن ہو توگھر کے تمام دروازوں اورکھڑکیوں پرجالی لگوائیں۔ گملوں میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں۔

٭گرمیوں اوربرسات کے موسم میں مچھردانیوں کا استعمال ضرورکریں۔

٭مچھروں کے موسم میں ایسے کپڑے پہنیں جن کی آستینیں پوری ہوں اوروہ جسم کو مکمل ڈھانپ سکیں۔

٭جسم کے کھلے حصوں پرمچھر بھگانے والی دوا لگائیں۔

٭کچھ علاقوں میں ملیریا کی شرح اور امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اگرممکن ہو تو ان علاقوں میں جانے سے گریزکریں۔

٭چھوٹے بچے اورحاملہ خواتین زیادہ احتیاط کریں۔

Malaria, symptoms of malaria, malaria treatment, tips to prevent malaria

LEAVE YOUR COMMENTS