اے ڈی ایچ ڈی ذہنی صحت سے متعلق ایک عارضہ ہے جس میں توجہ برقرار رکھنے میں مشکل، حد سے زیادہ سرگرمی اور جلد بازی پر مبنی رویے شامل ہوتے ہیں۔ یہ کیفیت غیر مستحکم تعلقات، کام یا تعلیم میں کمزور کارکردگی، کم خود اعتمادی اور دیگر مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ اگرچہ اسے بالغوں میں اے ڈی ایچ ڈی (Adult ADHD) کہا جاتا ہے، لیکن اس کی علامات بچپن میں شروع ہوتی ہیں اور بالغ عمر تک برقرار رہ سکتی ہیں۔
علامات
بالغوں میں اے ڈی ایچ ڈی کی علامات میں شامل ہو سکتی ہیں:
٭ جلد بازی میں فیصلے کرنا یا عمل کرنا
٭ بے ترتیبی اور کاموں کی ترجیح طے کرنے میں دشواری
٭ وقت کا مؤثر استعمال نہ کر پانا
٭ کسی ایک کام پر توجہ برقرار رکھنے میں مشکل ہونا
٭ ایک وقت میں کئی کام انجام دینے میں دشواری
٭ حد سے زیادہ مصروف رہنا یا مسلسل بے چینی محسوس کرنا
٭ منصوبہ بندی میں کمزوری
٭ معمولی بات پر جلد مایوس یا پریشان ہو جانا
٭ مزاج میں بار بار تبدیلی آنا
٭ کام شروع کرنے کے بعد اسے مکمل نہ کر پانا
٭ جلد غصہ آ جانا
٭ ذہنی دباؤ کا مؤثر انداز میں سامنا نہ کر پانا
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
٭ اگر یہ علامات مسلسل آپ کی روزمرہ زندگی متاثر کر رہی ہوں تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں
٭ ایسے ماہر کا انتخاب کریں جسے بالغوں میں اے ڈی ایچ ڈی کی تشخیص اور علاج کا تجربہ حاصل ہو
وجوہات/ خطرے کے عوامل
اے ڈی ایچ ڈی کی درست وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی۔ درج ذیل عوامل اس کیفیت کے پیدا ہونے میں کردار ادا کر سکتے ہیں:
٭ والدین، بہن، بھائی یا دیگر قریبی رشتہ داروں میں اے ڈی ایچ ڈی یا کسی دوسری ذہنی بیماری کی موجودگی
٭ حمل کے دوران والدہ کا سگریٹ نوشی، شراب نوشی یا منشیات کا استعمال
٭ وقت سے پہلے پیدائش ہونا
٭ بچپن میں سیسے جیسے نقصان دہ ماحولیاتی مادوں کے سامنے آنا، جو پرانی عمارتوں کے رنگ یا پائپوں میں پایا جاتا ہے
٭ دماغ اور مرکزی اعصابی نظام کی نشوونما کے اہم مراحل میں پیدا ہونے والے مسائل
پیچیدگیاں
اے ڈی ایچ ڈی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کا تعلق درج ذیل مسائل سے ہو سکتا ہے:
٭ تعلیم یا ملازمت میں کمزور کارکردگی
٭ بے روزگاری
٭ مالی مشکلات
٭ قانونی مسائل
٭ شراب یا دیگر نشہ آور اشیا کا غلط استعمال
٭ ٹریفک یا دیگر حادثات کا زیادہ خطرہ
٭ غیر مستحکم تعلقات
٭ جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل
٭ کم خود اعتمادی
٭ خودکشی کی کوشش
تشخیص
اے ڈی ایچ ڈی کی تشخیص کے لیے کوئی ایک ٹیسٹ کافی نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر تشخیص کے لیے مختلف معلومات اور معائنے کی دد لیتے ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:
٭ جسمانی معائنہ، تاکہ علامات کی دیگر ممکنہ وجوہات کو خارج کیا جا سکے
٭ موجودہ طبی مسائل، ذاتی اور فیملی کی میڈیکل ہسٹری، اور علامات کی تفصیلی معلومات حاصل کرنا
٭ اے ڈی ایچ ڈی کی درجہ بندی کے پیمانوں یا نفسیاتی ٹیسٹوں کے ذریعے علامات کا جائزہ لینا
علاج
٭ بالغوں میں اے ڈی ایچ ڈی کے علاج میں عموماً ادویات، بیماری سے متعلق آگاہی، عملی مہارتوں کی تربیت اور نفسیاتی مشاورت شامل ہوتی ہے
٭ یہ علاج علامات کو بہتر طریقے سے قابو میں رکھنے میں مدد دیتے ہیں، لیکن بیماری کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتے
نفسیاتی علاج
اے ڈی ایچ ڈی کے لیے عام نفسیاتی علاج درج ذیل ہیں:
٭ کوگنیٹو بیہیوریل تھراپی
٭ ازدواجی اور فیملی کی مشاورت
اگر آپ بھی اے ڈی ایچ ڈی کے شکار بہت سے بالغ افراد کی طرح ہیں تو ممکن ہے کہ آپ ملاقاتیں بھول جائیں، آخری تاریخوں کی پابندی نہ کر سکیں یا جلد بازی میں فیصلے کر بیٹھیں۔ ایسے رویے ساتھی کارکنوں، دوستوں اور شریک حیات کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا کر سکتے ہیں۔ ایسی تھراپی، جو ان مسائل اور اپنے رویے پر بہتر کنٹرول حاصل کرنے پر توجہ دیتی ہو، اس ضمن میں خاصی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
طرزِ زندگی اور گھریلو احتیاط
اے ڈی ایچ ڈی میں درج ذیل تجاویز روزمرہ زندگی کو زیادہ منظم بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں:
٭ روزانہ انجام دینے والے کاموں کی فہرست بنائیں اور انہیں اہمیت کے مطابق ترتیب دیں
٭ بڑے کاموں کو چھوٹے اور آسان مراحل میں تقسیم کریں اور ضرورت پڑنے پر چیک لسٹ استعمال کریں
٭ اہم باتیں یاد رکھنے کے لیے سٹکی پیڈز استعمال کریں اور انہیں ایسی جگہ لگائیں جہاں نظر آسانی سے پڑے
٭ ملاقاتوں، اہم تاریخوں اور ڈیڈ لائنز کو یاد رکھنے کے لیے ڈائری یا الیکٹرانک کیلنڈر استعمال کریں
٭ اہم خیالات اور ضروری معلومات نوٹ کرنے کے لیے ہمیشہ ایک نوٹ بک یا الیکٹرانک آلہ اپنے ساتھ رکھیں
٭ کاغذی اور ڈیجیٹل معلومات کو منظم رکھنے کے لیے باقاعدہ نظام بنائیں اور اس پر مستقل عمل کریں
٭ روزمرہ معمول کو زیادہ سے زیادہ یکساں رکھیں اور چابیاں، بٹوا اور دیگر ضروری اشیا ہمیشہ ایک ہی جگہ رکھیں
٭ ضرورت پڑنے پر خاندان یا قریبی افراد سے مدد لینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا بالغ عمر میں پہلی بار اے ڈی ایچ ڈی کی تشخیص ہو سکتی ہے؟
جی ہاں۔ بہت سے افراد میں علامات بچپن سے موجود ہوتی ہیں، لیکن ان کی تشخیص بلوغت میں ہوتی ہے۔
کیا اے ڈی ایچ ڈی مکمل طور پر ٹھیک ہو سکتا ہے؟
فی الحال اس کا مکمل علاج موجود نہیں، لیکن مناسب ادویات، نفسیاتی مشاورت اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کے ذریعے علامات کو مؤثر انداز میں قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
کیا ہر مریض کے لیے دوا ضروری ہوتی ہے؟
ضروری نہیں۔ علاج کا انتخاب علامات کی شدت، مریض کی مجموعی صحت اور ڈاکٹر کی رائے کے مطابق کیا جاتا ہے۔ بعض افراد کو ادویات کے ساتھ نفسیاتی مشاورت اور عملی تربیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
کیا اے ڈی ایچ ڈی ازدواجی اور پیشہ ورانہ زندگی کو متاثر کر سکتا ہے؟
جی ہاں۔ اگر اس کا مناسب علاج نہ کیا جائے تو یہ تعلقات، ملازمت، تعلیم اور روزمرہ ذمہ داریوں کی انجام دہی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=psychiatrist