ایثاراورتوکل کی داستان

5

ایثاراورتوکل کی داستان

جگرناکارہ ہونے کوعموماً ہیپاٹائٹس سے وابستہ خیال کیا جاتا ہے جو بلاشبہ اس کی ایک بڑی وجہ ہے تاہم بعض افراد میں اس کی اوروجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔ اس کی ایک مثال وادی مہران سندھ میں ضلع سانگڑھ کی تحصیل شہداد پورسے تعلق رکھنے والے علی محمد کی ہے۔ ان میں خرابیٔ جگرکی وہی علامات ظاہرہوئیں جوعموماً مریضوں میں ہوتی ہیں تاہم ان کی وجہ ہیپاٹائٹس نہیں کچھ اورتھی ۔ بقول ان کے

سال 2018 سے پہلے میں کافی صحت مند ہوا کرتا تھا۔ آپ یوں کہہ لیں کہ میرے گال ٹماٹرکی طرح لال تھے۔ پھردیکھتے ہی دیکھتے ایسی کمزوری ہوئی کہ جلد بھی ڈھیلی پڑگئی۔ میرا خیال تھا کہ اس کا تعلق غذا سے ہے لیکن کچھ بھی اورکتنی ہی مقدارمیں کیوں نہ کھا لیتا، کوئی فرق ہی نہیں پڑتا تھا۔

اسی سال شفاانٹرنیشنل ہسپتال میں ان کے چچا جگرکی پیوندکاری کی غرض سے داخل تھے۔علی محمد نے ان کے کہنے پرڈاکٹرسے وقت لیا۔ ٹیسٹوں کے بعد معلوم ہوا کہ جگرمیں معمولی مسئلہ ہے۔  پھرکراچی کے ایک ہسپتال سےعلاج کے باوجود ان کی طبیعت بگڑرہی تھی۔ مثلاً پہلے ہروقت نیند سی طاری رہتی تھی، خود کوتھکا تھکا محسوس کرتے اورکسی کام میں دل نہیں لگتا تھا۔ پھرپیشاب میں خون آگیا اورآنکھیں زرد ہونے لگیں۔ ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ جگرکی رگ کمزورہوگئی ہے اورکسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے۔

علی محمد اس سے قبل اہل خانہ کو پریشانی سے بچانے کے لئے خاموشی سےعلاج کروارہے تھے۔ تاہم جب ان کے پیٹ میں پانی پڑا توانہوں نے گھروالوں کواطلاع دے دی۔ پہلے تو وہ سب بھی پریشان ہوئے مگرپھروقت ضائع کرنے کے بجائے فوری طورپراسلام آباد آنے کا فیصلہ کیا۔

بات ٹرانسپلانٹ تک کیسے پہنچی،اس حوالے سے تفصیلات بیان کرتے ہوئے شفاانٹرنیشنل ہسپتال کے لیورٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹرابوبکر حفیظ نے بتایا

مریض جب شفاانٹرنیشنل آئے توان کا جگررسولی کے باعث سکڑکرناکارہ ہوگیا تھا۔ ان کے پاس موجود رپورٹوں کے مطابق یہ معمولی سائزکی تھی تاہم تسلی کے لئے دوبارہ سی ٹی سکین ہوا۔ پھرمعلوم ہوگیا کہ رسولی کافی بڑی ہے اورجگر کے اندرخون کی رگ میں بھی پھیل رہی ہے۔ ایسے میں مریض کو مزید نقصان سے بچانے کے لئے پہلے اس کا سائزچھوٹا کیا گیا جوکافی فائدہ مند ثابت ہوا۔ پھرانہیں جلد ازجلد لیورٹرانسپلانٹ کروانے کا مشورہ دیا گیا۔

جب ڈاکٹرحضرات مریضوں سے اسی ہسپتال کی لیبارٹری سے ٹیسٹ کامشورہ دیتے ہیں جس میں ان کا علاج ہورہا ہوتواس کے پیچھے اصل سبب اعتماد کا معاملہ ہوتا ہے۔ تاہم بعض لوگ اسے مالی فائدے کی نظرسے دیکھتے ہیں۔ اس وقت عقلمندی اسی میں ہے کہ معالج کی بات مان لی جائے تاکہ علاج ہمواری سے آگے بڑھے۔

سندھ کے علاقے گمبٹ میں مفت علاج کی سہولت میسرہونے کے باوجود انہوں نے شفاانٹرنیشنل کا انتخاب کیا۔ اس کا سبب ان کا ہسپتال کے معیارسے مطمئن ہونا تھا

جان سے زیادہ کچھ اہم نہیں۔اس لئے میں نے اپنی جائیداد فروخت کردی۔ پھر دوست احباب اوررشتہ داروں نے بھی کافی مدد کی۔ آخرکارتمام کوششیں رنگ لائیں اورعلاج کے لئے پیسوں کا بندوبست ہوگیا۔

محمد علی کے19سالہ بیٹے زوہیب علی کی عمرڈونرکے لئے مقررہ حد سے کچھ کم تھی لہٰذا دوسے تین ماہ انتظار کرنے کے بعد انہوں نے والد کوجگرعطیہ کیا۔ ان کی سرجری اورسالانہ امتحان ایک ہی وقت پرتھے۔ یوں ہسپتال میں داخلے اورپھرجسمانی کمزوری کے باعث وہ امتحان نہ دے سکے اورتعلیم کا ایک سال ضائع ہوگیا۔ بقول ان کے

میری اپنی والدہ اورسوتیلی والدہ، دونوں ہی جگر عطیہ کرنے کے لئے تیارتھیں لیکن میرا اصرارتھا کہ یہ قربانی میں دوں گا۔ مجھے یہ خیال گھیرے ہوئے تھا کہ بہن بھائی چھوٹے ہیں اورانہیں ماں اورباپ دونوں کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف امتحان بھی تھے لیکن ابوکی جان کسی بھی چیزسے زیادہ اہم تھی لہٰذا میں نے فیصلے میں دیرنہیں کی۔

پیوندکاری کےبعد پہلےماہ میں زیادہ احتیاط درکارہوتی ہے جس کے بعد مریض آہستہ آہستہ معمول کی زندگی میں لوٹ آتا ہے۔ محمد علی کو صحت یا ب ہونے میں ڈیڑھ ماہ لگےجبکہ عطیہ دہندہ کے بقول شروع کےتین دن انہیں کافی تکلیف تھی جس کی وجہ پیٹ میں ڈالی گئی نالی تھی۔ تاہم جب وہ نکل گئی توپھرکوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ اب دونوں صحت مندزندگی گزاررہے ہیں۔

مریضوں کے لئے پیغام دیتے ہوئے علی محمد نے کہا کہ جو لوگ پیسوں کا انتظام ہونے کے باوجود اس لئے علاج نہیں کرواتے کہ سرجری کے دوران کسی پیچیدگی کا سامنا نہ ہوجائے، وہ یاد رکھیں کہ زندگی اورموت خدا کے ہاتھ میں ہے اورڈاکٹرتوصرف ایک ذریعہ ہیں۔

زندگی لکھی ہوگی توعلاج کے بعد بھی جئیں گے۔علاج نہیں کروائیں گے توویسے بھی اس سے ہاتھ دھوبیٹھیں گے لہٰذا پرامید رہیں۔

عطیہ دہندہ زوہیب نے کہا کہ جو لوگ عطیہ کرسکتے ہیں انہیں چاہئے کہ گھبرائیں نہیں۔ ان کے والد اپنے بیٹے کے لئے پریشان تھے لیکن جب ڈاکٹروں نےبتایا کہ اب تک اتنے ٹرانسپلانٹ ہوچکے ہیں اورکسی ڈونر کو مسئلہ نہیں ہوا تووہ بھی مطمئن ہوگئے۔

صحت بہت بڑی نعمت ہے، اس کی قدر کریں۔ دوسری بات یہ ہے کہ صحت کے کسی مسئلے سے دوچارافراد کو اگرمعیاری علاج کی سہولت دستیاب ہوتو بلاوجہ ہچکچانا یا اس میں تاخیرکرنا مناسب نہیں۔

Ali Muhammad, Liver patient, liver transplant success story

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x