وزیراعظم کی ہیلتھ انشورنس سکیم

302

اگر ہم پاکستان جیسے ملک میں صحت کی صورت حال کو بہتر بناناچاہتے ہیں جہاں 55فی صد لوگ دو ڈالر یومیہ سے کم آمدن رکھتے ہیں توہمیں دو پہلوو¿ں پرخاص طور پر توجہ دینا ہو گی۔ ان میں سے پہلا ’پرہیز‘ ہے جس کے لئے ہمیں صحت مند طرز زندگی کو پروان چڑھانا ہو گا تاکہ کم لوگ بیمار ہوں۔ دوسراپہلو ایسی ہیلتھ انشورنس سکیمیں متعارف کرانا ہے جو غریب سے غریب لوگوں کو بھی صحت کی سہولیات فراہم کر سکیں ۔”پرائم منسٹر نیشنل ہیلتھ پروگرام“ اس کی طرف پہلا قدم ضرورہے لیکن ابھی اس میدان میں بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔محمد زاہد ایوبی کی ایک معلومات افزاءتحریر


ٹھنڈا پانی (لہتراڑ روڈ راولپنڈی ) کے رہائشی وقار حسین پیشے کے اعتبار سے ایک ٹیکسی ڈرائیور ہیں ۔وہ بڑی آنت کے کینسرمیں مبتلا ہیں اور شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں(تحریر لکھے جانے سے )ایک دن قبل ہی ان کا آپریشن ہوا۔ شفانیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہیں گزشتہ چار سال سے معدے کی تکلیف تھی اور یہ سارا عرصہ انہوں نے بہت اذیت میں گزارا۔ اپنی کہانی سناتے ہوئے انہوں نے کہا:
”میں جو کچھ کھاتایا پیتا، وہ ایک یا آدھے گھنٹے بعد قے کی شکل میں باہر آ جاتا ۔ بالآخر سی ایم ایچ (راولپنڈی ) گیا جہاں میری اینڈو سکوپی ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ میری خوراک کی نالی بند ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ اس کے لئے آپریشن ضروری ہے۔ جب اس پر متوقع خرچ کاپوچھا توکہا گیا کہ ڈیڑھ لاکھ روپے آپ کو فوری طور پر جمع کرانا ہوںگے۔ میرے پاس اتنی رقم موجود نہ تھی لہٰذا واپس آگیا۔ “
شفانیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہیں کچھ تکلیف ہوئی جس کے سبب وہ اپنی بات جاری نہ رکھ سکے لہٰذا باقی تفصیلات ان کے داماد اور تیماردار محمد شکیل نے بتائیں:
” ہمیںکہا گیاکہ اس وقت یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ مریض کو شعاعیں لگیں گی یاکوئی اورعلاج ہو گا تاہم پیسے پہلے جمع کرانا ہوں گے۔ ہمیں اس امکان کے بارے میں بھی بتایا گیا کہ آپریشن کامیاب نہ ہو‘ اس لئے کہ شریانیں بری طرح سے جڑی ہوئی ہیں۔ہم لوگ سنٹرل ہسپتال چلے گے جہاں چار جنوری کو آپریشن ہوا اور پھر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا یعنی شریانیں ٹھیک طرح سے آپریٹ نہ ہو سکیں۔ اس کے بعدایک ٹیسٹ ہوا جس کی لاگت 10ہزار روپے تھی۔ الٹیاں شدید ہو گئیں جو کبھی نیلے رنگ کی ہوتیں تو کبھی سبز۔ ہم نوری ہسپتال گئے جہاںہمیں کہا گیا کہ شفاانٹرنیشنل سے سی ٹی سکین کرائیں۔ جب مالی معاملات ہاتھ سے نکلنے لگے تو ہم پریشان ہو گئے ۔ ایسے میں کسی نے ہمیں ’پرائم منسٹر ہیلتھ انشورنس سکیم‘ کا کارڈ بنوا کر دیا اور کہا کہ آپ اس پر شفاانٹرنیشنل سے بھی علاج کر ا سکتے ہیں۔“
شکیل تازہ ترین صورت حال سے بہت مطمئن اور خوش ہیں:
”ہمارے لئے راہیں وزیر اعظم کی ہیلتھ انشورنس سکیم کے سبب کھلی ہیں۔ہم تو سرکاری ہسپتال میں علاج کے اخراجات بھی برداشت نہ کر سکتے تھے۔ اب شفا انٹرنیشنل میں مریض کا جس طرح علاج ہو رہا ہے، ایساتو شاید وزیروں کا بھی نہیں ہوتا ہوگا۔ اللہ ان سب کا بھلاکرے۔ ہمیں عملے کو کچھ بتانا ہی نہیں پڑتا۔ یہ خود ہی مریض کو لے کر جاتے ہیں،ٹیسٹ وغیرہ کراتے اور خون کا انتظام کرتے ہیں۔ میں اگر رات کو سو بھی جاﺅں تو یہ جاگتے رہتے ہیں اور ان کا خیال رکھتے ہیں۔“
پاکستان میںتقریباً55فی صد لوگ خط غربت سے نیچے کی سطح پر زندگی گزار رہے ہیں یعنی غربت کے ایک عالمی معیار دوڈالر یومیہ سے کم آمدن رکھتے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے سفید پوش افراد بھی ڈاکٹر کی فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ایسے میں وہ صحت کو اپنی ترجیحات کی فہرست میں بہت نیچے رکھتے ہیں لہٰذا اکثر اوقات مہلک بیماریاں اس وقت تشخیص ہوتی ہیں جب ان کا علاج زیادہ مشکل، تکلیف دہ اور مہنگاہو چکا ہوتا ہے۔ ان حالات میں اگر خدانخواستہ کینسر ہو جائے، دل کا دورہ پڑ جائے، گردے ناکارہ ہو جائیں یا اچانک سڑک کا کوئی حادثہ پیش آجائے تولوگوںکو اپنی جمع پونجی، جائیداد اور گھر کی قیمتی اشیاءتک فروخت کرنا پڑجا تی ہیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد ایسی بھی ہے جن کے پاس ایسا کوئی اثاثہ نہیں ہوتا جسے بیچ کر وہ اپنا علاج معالجہ کر ا سکےں۔
یہ وہ حالات ہیں جن میں افراد کو کمیونٹی ، اداروں اور ریاست کی طرف سے معاونت کی اشدضرورت ہوتی ہے۔ یہ کام کسی نہ کسی سطح پر ہو رہا ہے لیکن اب ”پرائم منسٹر نیشنل ہیلتھ پروگرام“ کے عنوان سے ایک ہیلتھ انشورنس سکیم شروع کی گئی ہے جس کی طرف اشارہ اوپر ذکر کئے گے مریض کے تیماردار نے کیا۔ اس پروگرام کے تحت مستحق افراد حمل اورعام بیماریوں کے لئے ہرسال50,000 روپے اور صحت کے بڑے مسائل کی صورت میں 250,000روپے تک کی طبی سہولیات حاصل کر سکیں گے۔ بڑے مسائل میں امراض قلب، ذیابیطس، جھلس جانا، گردوں کا ڈائلیسز اورگردوں کی آخری مرحلے پربیماری، طویل المعیاد انفیکشن (ہیپاٹائٹس بی اور سی )، اعضاءکا ناکارہ ہونا اور کینسر کا علاج (کیمو تھیراپی، ریڈیو تھیراپی اور سرجری) اور حادثات شامل ہیں۔
یہ سکیم جن23اضلاع میں شروع کی جائے گی، ان میں بلوچستان سے کوئٹہ، لورالائی، لسبیلہ اور کچ، خیبرپختونخوا سے مردان، مالاکنڈ، کوہاٹ اور چترال، فاٹا سے باجوڑ اور خیبر ایجنسی، گلگت بلتستان سے دیامر اور سکردو، پنجاب سے ناروال، خانیوال، رحیم یارخان اور سرگودھا ، سندھ سے شکارپور، بدین ، بے نظیرآباد(نواب شاہ) اور سانگھڑ، آزادکشمیر سے مظفرآباد اور کوٹلی اور اسلام آباد شامل ہیں ۔
سکیم کو چلانے کی ذمہ داری انشورنس کے میدان میں سرکاری ادارے ’سٹیٹ لائف‘ کو سونپی گئی ہے۔ محمد عاشر، ادارے کی طرف سے’ ’پرائم منسٹر نیشنل ہیلتھ پروگرام“ کے انچارج ہیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ سرکاری ہیلتھ کارڈ حاصل کرنے کا طریقہ کار کیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ یہ صرف مستحق افراد کے لئے ہے جن کی شناخت بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام سے حاصل شدہ ڈیٹا کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ تاہم وزارت صحت 2016ءمیں اس پر ایک جامع سروے کرانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ ان کے بقول:
”حکومت نے ایک اشتہار شائع کیا ہے جس کے مطابق موبائل فون پر ایس ایم ایس کی شکل میں 8500پر قومی شناختی کارڈ نمبر بھیج کر یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کوئی فرد اس سے استفادے کا اہل ہے یا نہیں ۔موجودہ سکیم تین سال کے لئے ہے لیکن امید ہے کہ اسے مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا ۔“
وفاقی وزیر مملکت برائے صحت سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی سہولتیں میسر ہےں لیکن وہاں علاج کے لئے لمبی قطاریں ہیں اور لوگوں کو مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے:
”ہیلتھ انشورنس کارڈ کی مدد سے غریب اور مستحق مریض ان ہسپتالوں میں جا سکیں گے جہاں وہ داخل بھی نہیں ہو سکتے تھے۔ اب وہاں ان کا پورے وقار اور عزت سے علاج کیا جائے گا۔“
انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ منیجمنٹ سائنسز اسلام آباد کے چیئرمین اورپبلک ہیلتھ سپیشلسٹ ڈاکٹر عثمان بلوچ کے نزدیک یہ اقدام انتہائی خوش آئند ہے :
” اگر اس سکیم سے کسی غریب کا بھلا ہوتا ہے تو اس سے اچھی بات کوئی نہیں ہو سکتی۔اگر ایک شخص چند سو روپے خرچ کر کے امراض قلب اور ڈیلوری سے متعلق اخراجات کے بوجھ سے نجات حاصل کر لیتا ہے تو یہ دیکھے بغیر کہ اسے کس حکومت نے شروع کیا، اس کی تائید کرنی چاہئے اور یہ تمام صوبوں میں شروع ہونی چاہئے۔“
سکیم کی اس پسندیدگی کے باوجود پبلک ہیلتھ سپیشلسٹ کے طور پر انہیں اس زاویہ نظر پر اعتراض ہے جو مسائل کو حل کرنے کے لئے حکومتیں اختیار کرتی ہیں۔ ان کے بقول:
”ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں لوگوں کو بیماریوں سے بچانے کی فکر کرنے کی بجائے ساری توجہ علاج پرمرکوز کی جاتی ہے ۔ حکومتیں’پرہیز‘ کو مرکزو محور بنانے سے کتراتی ہیں، اس لئے کہ اس کی خبر نہیں بنتی۔ انہیں چاہئے کہ پینے کے صاف پانی، ماحول کو آلودگیوں سے پاک کرنے اور صحت مند طرز زندگی کو رواج دینے پر سرمایہ کاری کریں تاکہ ہسپتالوں میں مریضوں کا ہجوم کچھ کم ہو۔ اس پر توجہ دئیے بغیر ہم صحت مند پاکستان کی منزل حاصل نہیں کر سکتے۔“
حقیقت یہ ہے کہ ہمیں دونوں طرف توجہ دینا ہوگی، اس لئے کہ ترقی یافتہ ممالک میں پرہیز کو رواج دینے کے باوجود وہاں بھی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں اور امریکہ جیسے ملک میں بھی نگہداشت صحت ایک بڑے اوراہم سیاسی مسئلے کے طور پر موجود ہے۔
سرکاری سکیم پر تبصرہ کرتے ہوئے پاک قطرتکافل انشورنس کمپنی کے اسٹنٹ وائس پریذیڈنٹ آصف باجوہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک صرف دو یا تین پرائیوےٹ ہسپتالوں (بیگم جان، شفا انٹرنیشنل ،لائف کیئر) کو اس کے پینل پر لیا گیا ہے ۔ ان کی تعداد بڑھانی چاہئے، اس لئے کہ سرکاری ہسپتالوں میں پہلے ہی مریضوں کا ہجوم ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ صرف ایک کمپنی پر انحصار کرنے کی بجائے انشورنس انڈسٹری کے تمام تجربہ کار لوگوں سے استفادہ کیا جائے۔
ڈاکٹر عثمان بلوچ کہتے ہیں کہ ہیلتھ انشورنس سکیم کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ اسے سیاسی اثر رسوخ سے پاک رکھاجائے‘ اس میں قدرتی آفات اور جنگی صورت حال سمیت دیگر امور کوبھی شامل کیاجائے اور حکومت اس معاملے پر اسی سطح کی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے جو اس نے ٹیکس اکٹھا کرنے اور دہشت گردی کے مسئلے پر دکھائی ہے۔
پاکستان ایک فلاحی ریاست ہے اور اس طرح کی ریاستیں اپنے عوام کی صحت اور تعلیم کو بوجھ نہیں، اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔کچھ ممالک یہ ذمہ داری 100فی صد اٹھاتے ہیں۔ ان میں سکینڈی نیوین ممالک (مثلاً ناروے، سویڈن ، فن لینڈ ، آئر لینڈاور ڈنمارک ) شامل ہیں۔ امریکہ اور کئی اورممالک میں جو نظام رائج ہے، اس میں علاج معالجے پر خرچ کا کچھ حصہ لوگ اور کچھ حکومتیں برداشت کرتی ہیں۔ یہ سارا نظام انشورنس کی بنیاد پر تشکیل پاتا ہے۔ اس تصورکی وضاحت کرتے ہوئے محمد عاشر کہتے ہیں:
”ہیلتھ انشورنس میں بیمار اور صحت مند افراد پر مشتمل ایک ’پُول‘ بنالیا جاتا ہے جس میں دونوں پریمیم کی شکل میں پیسے جمع کرا تے ہیں۔اس رقم سے مختلف جگہوں پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے جس کی مدد سے اس کے اخراجات پورے ہوتے ہیں۔“
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیاکوئی ایسی سکیم موجود ہے جس میں دو ڈالر یومیہ سے زیادہ آمدنی رکھنے والے افراد کو بھی کور کیا گیا ہو؟ تو ان کا کہنا تھا کہ سرکاری پروگرام یہیں تک محدود ہے تاہم سٹیٹ لائف کا اپناایک پروگرام ہے کہ ذرا بہتر تنخواہوں کے حامل لوگوں کے لئے اس طرح کی سکیم شروع کی جائے لیکن اس میں کچھ وقت لگے گا۔
گفتگو کو سمیٹتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں اگر ہم صحت کی صورت حال کو بہتر کرناچاہتے ہیں توہمیں دو پہلوﺅں پر توجہ دینا ہوں گی۔ ان میں سے پہلا ’پرہیز‘ ہے جس کے لئے صحت مند طرز زندگی کو پروان چڑھانا ہو گاتاکہ کم لوگ بیمار ہوں۔ دوسراپہلو ایسی ہیلتھ انشورنس سکیمیں متعارف کرانا ہے جو غریب سے غریب لوگوں کو بھی صحت کی سہولیات فراہم کر سکیں۔ پاکستان میں لوگوں کی بڑی تعداد سود کے حوالے سے متفکر رہتی ہے ۔ انہیں بھی اس میں شامل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ایسا نظام تشکیل دیا جائے جوشرعی بنیادوں پر ان کے لئے اطمینان کاباعث بن سکے۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of