روزہ ہمارے جسم پر کیسے اثرانداز ہوتاہے

0

روزہ ہمارے جسم پر کیسے اثرانداز ہوتاہے
ہمارے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ جب ہم روزہ رکھتے ہیں تو عملاً ہمارے جسم کے اندر کیا کچھ ہوتا ہے۔ اس کی وضاحت میں جناح ہسپتال لاہورکے میڈیکل ڈاکٹر محمدتابش رضا کا کہنا ہے :

’’سحری کے وقت ہم جو کچھ کھاتے یا پیتے ہیں‘ ہمارا جسم اس میں سے سب سے پہلے پانی کو استعمال کرتا ہے ۔ سحری کے بعد 30 منٹ سے ایک گھنٹے تک معدے میں موجود تمام تر پانی آنتوں میں مکمل طور پر جذب ہوجاتا ہے۔اگلے تین سے چار گھنٹوں میں پراٹھے،روٹی اور باقی غذا جو سحری میں کھائی ہوتی ہے‘ ہضم ہوجاتی ہے۔اس کے بعد جگر میں جمع شدہ کابوہائیڈریٹس استعمال ہوتی ہیں‘ پھر غذا میں شامل پروٹین کی باری آتی ہے ۔ جب یہ بھی استعمال ہو جاتی ہے تو جسم ایک خاص عمل (lipogenesis) کے تحت اپنے اندر پہلے سے جمع فالتو چربی کو توانائی کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے ۔اگر ہم جسم کی اضافی چربی سے نجات چاہتے ہیں تو ہمیں چاہئے کہ صحت بخش روزے کے ذریعے جسم کو اسے استعمال کرنے دیں۔ اگر ہم پکوڑوں سموسوں کے ذریعے مزید چکنائی جسم میں جمع کر لیں گے تو پھر روزے رکھنے کے باوجود ہمارا وزن کم نہیں ہوگا۔ ‘‘

ہمارا جسم اوسطاً36گھنٹوں تک جسم کی اضافی چربی کو استعمال کر کے گزارہ کر سکتا ہے جس کے بعد وہ جسم کے پٹھوں کو استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔مسلمانوں کے ہاں رائج روزہ عموماً 15سے 18گھنٹوں تک ہوتا ہے جو انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے ۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of