جنہیں اپنی شکل پسند نہیں

132

اپنی شکل وصورت کے بارے میں انسانوں کی حساسیت غیرفطری نہیں ہے لیکن اگر یہ ’بیماری‘ بن جائے تو پھر تشویشناک ہے۔اس مرض کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ انسان اپنے ذہن میں یہ بات بٹھالیتا ہے کہ وہ اچھا دکھائی نہیں دیتا اور یہ کہ اس کی شکل وصورت میں کوئی مسئلہ ہے۔ایسے میں لوگ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق گھریلو ٹوٹکوں سے لے کر پلاسٹک سرجری تک کا سہار لیتے ہیں اور اس پر بہت سا وقت اور وسائل کا بہت بڑا حصہ صرف کردیتے ہیں ۔ وقتی طور پر ان چیزوں سے کوئی ظاہری فرق واقع بھی ہوجائے تو حساسیت برقرار رہتی ہے کیونکہ اصل مسئلہ شکل کی خرابی نہیں بلکہ ذہنی کیفیت سے تعلق رکھتا ہے۔
خالد رحمٰن کی ایک خوبصورت تحریر


یہ دلچسپ اشتہاری اعلان ایک63 سالہ خاتون کی جانب سے تھا۔ اس میں انہوں نے ایسے تمام لوگوں، بالخصوص نوجوانوں کورابطے کی دعوت دی تھی جو ’مامتا‘ کے حوالے سے تشنگی محسوس کرتے تھے ۔ اشتہار میں ان کی طرف سے کہا گیا کہ وہ انہیں ’ماں کی محبت‘ فراہم کریں گی۔
اعلان میں یہ بات بھی واضح تھی کہ محبت فراہم کرنے والی یہ خدمت مفت نہیں بلکہ اس کی ایک اجرت ہے اور وہ اس کے لیے گھنٹوں کے حساب سے قیمت (یعنی40 ڈالر فی گھنٹہ) وصول کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اعلان کے بعد چند روز میں ہی انہیں چھے(6) گاہک مل چکے ہیں۔ آغاز میں ہی اس کامیابی کی وجہ سے اُن کاخیال ہے کہ ایسے اور لوگ بھی ہوں گے جنہیں ’عارضی ماں‘ کی ضرورت ہوگی۔
فی گھنٹہ اجرت کی بنیاد پرعارضی ماں کی حیثیت سے وہ کرتی کیاہیں؟ اس سوال کے جواب میں خاتون نے بتایا کہ وہ ایسی ماں ہیں جو اپنے بچوں(گاہکوں) کے ساتھ بیٹھ کر چائے یا کافی پیتی ہیں، ان کے ساتھ کوئی ڈرامہ یا فلم وغیرہ دیکھتی ہیں‘ ان کے کپڑے استری کرتی ہیں اور سب سے بڑھ کریہ کہ اس دوران وہ ان کی باتیں توجہ اور دھیان سے سنتی ہیں۔
اس سوال کے جواب میں کہ انہیں اس کام کاخیال کس طرح آیا؟ ان کا کہناتھا کہ پڑوس کے لوگ ان سے گاہے بگاہے مشورے کے لیے آیا کرتے تھے۔ ان رابطوں میں ہی انہیں محسوس ہوا کہ یہ بہت سے لوگوں کی ضرورت ہے اور وہ اس ضرورت کو پورا کرسکتی ہیں۔30سال سے وہ خود بھی ایک حقیقی ماں ہیں‘ چنانچہ ان کے پاس اس کام کا تجربہ بھی ہے۔ اس سے قبل وہ ریستوران میں میزبان رہی ہیں اور لت چھڑانے والے رضاکار کے طورپربھی کام کرچکی ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ کوئی پیشہ ور تھیراپسٹ یا کونسلر نہیں ہیں ۔ خاتون نے اپنی پیشکش کے حوالے سے ایک قابل ذکر بات یہ بھی کی کہ وہ ایسی (عارضی)ماں ہوں گی جواولاد کے لیے) کسی بوجھ کا سبب نہ ہوگی۔
انسانی رشتوں میں ’ماں‘ کا رشتہ منفرد اور مقدس ترین رشتہ ہے جس کا کوئی نعم البدل ممکن ہی نہیں۔ ا س رشتہ کے تقدس کی ایک بہت بڑی وجہ ماں کی جانب سے اولاد کے لیے فطری محبت اور ایثار وقربانی کا ایک ایسا عمل ہے جو وہ خالص رضاکارانہ جذبہ کی بنیاد پر سرانجام دیتی ہے۔ پیدائش اور پرورش کے ہر ہر مرحلہ میں وہ اسی کیفیت کی بناء پر بہت سی تکالیف برداشت کرتی ہے جبکہ اولاد کی معمولی تکلیف برداشت کرنابھی اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے آرام وسکون کے لیے وہ خوشی خوشی اپنے راحت وآرام کوتج دینے کے لیے تیار ہوتی ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ انسان اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے کے قابل ہوتاچلا جاتا ہے اور دوسری جانب ماں زندگی کے اگلے مراحل میں داخل ہوجاتی ہے۔ بہت سی مائیں ضعف اورکمزوری کے باعث اب خودخدمت کی محتاج ہوجاتی ہیں۔لیکن اولادسے ان کی محبت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی ۔ درحقیقت بستر مرگ پر بھی ان کی جانب سے دعاؤں کی صورت میں اولاد کو کچھ نہ کچھ دینے کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ تاہم جدید طرززندگی انسانوں پر کچھ اس طرح سے اثرانداز ہورہا ہے کہ صدیوں سے چلی آنے والی فطری اور انسانی اقدار بھی متاثر ہورہی ہیں۔ اس کی ایک علامت یہ کیفیت ہے کہ پیدائش اور پرورش کے مختلف مراحل کو سرانجام دینے کے لیے خاندان کاادارہ کمزور ہورہاہے اور اس کی جگہ نئے نئے ادارے(کرایہ پر کھوکھ کاتصور،ڈے کیئرکاتصوروغیرہ) وجود میں آرہے ہیں۔ یہ ادارے قیمت کی بنیا د پراعلیٰ ترین سہولتیں فراہم کرسکتے ہیں جن کی شاید بعض ناگزیر استثنائی صورتوں میں کچھ نہ کچھ افادیت بھی ہو لیکن عمومی طور پراس کے اثرات یہ ہیں کہ ماں باپ ااور ان کے بچوں کے درمیان تعلق کی بنیادیں کمزور ہورہی ہیں۔ چنانچہ آج کے بہت سے ترقی یافتہ معاشروں میں یہ بات عام ہے کہ بچے نوعمری میں ہی ماں باپ سے دور وقت گزارنے پر مجبورہوتے ہیں جبکہ ضعیف العمری میں اولاد ماں باپ کواپنے سے دُور کردیتی ہے۔ اپنے اپنے دائرہ میں دونوں ہی محبت اور اپنائیت سے محرومی محسوس کررہے ہوتے ہیں ۔ بوڑھوں کی دیکھ بھال اور معاوضہ پر ان کے ساتھ وقت گزارنے کاعمل تواب کافی پراناہوچکاہے۔ کرایہ پرماں کی دستیابی کے حوالہ سے زیرتبصرہ اشتہار ایسی ہی محرومی کی علامت ہے۔ اس اعتبار سے وہ تمام لوگ بے حد خوش قسمت ہیں جنہیں حقیقی طور پرماں اوراس کی محبت میسر ہو اور ایک جانب وہ اس محبت اور ماں (اورباپ) کی دعاؤں کے سایہ میں زندگی گزاررہے ہوں اور دوسری جانب ماں (اورباپ) کی دل و جان سے خدمت کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہوں۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of