آپ کے سوالات ماہر غذائیات کے جوابات

28

حاملہ خواتین‘ کیا کھائیں کتنا کھائیں
٭حاملہ خواتین کو کس قسم کی غذا کی کتنی مقدار میں ضرورت ہوتی ہے اور انہیں کن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے؟
(ثمین شکور، اسلام آباد)

٭٭اگرچہ یہ تصور غلط ہے کہ دوران حمل ایک عورت کو دو بندوں کے برابرکھانا کھانا چاہئے تاہم عام حالات کی نسبت اسے کچھ زیادہ خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً اسے دوسرے اور تیسرے مہینے میں معمول سے تین گنا زیادہ کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔ مزیدبرآں اسے میکرو نیوٹرینٹس بھی درکار ہوتے ہیں جن میں ہائی کاربو ہائیڈریٹس،ضروری چکنائیاںاور پروٹین شامل ہیں۔مثلاً ان دنوں جسم کو معمول سے 10فی صد کی ضرورت ہوتی ہے۔ حاملہ خواتین کاربو ہائیڈریٹس کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اسے اناج‘ سیریلز (cereals)،پھل اور سبزیاں استعمال کرنی چاہئیں۔ ضروری فیٹی ایسڈ، اومیگا 6 فیٹی ایسڈ،ویجیٹیبل آئل‘ چکن‘ گوشت‘ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ‘ میوہ جات، بینز، سویا بین اور مچھلی کو اپنی خوراک میں شامل کریں۔ انہیں چاہئے کہ متوازن خوراک کھائیں جس میں چاروں ضروری گروپس (مثال کے طور پر دودھ، گوشت اور پھلیاں‘ بریڈ اور سیریلز،پھل اور سبزیاں)سے خوراک میں شامل ہو۔ ڈاکٹر کے مشورے سے آئرن اور فولیٹ کے سپلیمنٹس ضرورلیں۔
جہاں تک مقدار کی بات ہے تو انہیں چاہئے کہ تمام گروپس میں سے ایک اضافی سرونگ لیں ۔مثال کے طور پر ایک کپ دودھ،ایک سلائس بریڈ، 30گرام گوشت‘ چکن یا مچھلی، ایک کپ سلادجسم کی اضافی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ علاوہ ازیں بچے کی اچھی صحت اور وقت سے پہلے اس کی پیدائش کے خطرے کو کم کرنے کے لئے الکوحل، سگریٹ یا کسی بھی قسم کی نشہ آور چیزکے استعمال سے گریز کریں۔ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئی بھی وٹامن یا کسی قسم کی ادویات استعمال نہ کریں ۔

برسات کے موسم میں بچوںکوڈائیریا

٭بہت احتیاط کرنے کے باوجود برسات کے موسم میں میرے بچوں کو ڈائیریا کی شکایت ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ میں گھر کو ہر ممکن طریقے سے صاف رکھنے کی کوشش کرتی ہوں اور بچوں کو باہر کا کھانا نہیں کھانے دیتی۔ اس موسم میں ڈائیریا سے بچنے کے لیے کیا مجھے کیا احتیاطیں کرنی چاہئیں؟یہ بھی بتاتی چلوں کہ ہمارے گھر پینے کے لیے منرل واٹر استعمال ہوتا ہے۔
(عنبر ریحان ، ملتان)

٭٭خیال ر ہے کہ اس موسم میںگھروں میں سپلائی کا پانی آلودہ ہوجاتا ہے۔ جب اسے فلٹر کیا جاتا ہے تو اس میں موجود اکثر نقصان دہ چیزیں ختم ہو جاتی ہیں مگر کچھ بیکٹیریا اور وائرس باقی رہ جاتے ہیں۔ اس لیے پینے کا پانی خواہ فلٹریشن پلانٹ کا ہو‘ ہمیشہ ابال کر استعمال کریں کیونکہ اس طرح پانی میں موجود اکثرجراثیم مر جاتے ہیں۔ پانی میں موجود نقصان دہ بیکٹیریا اور وائرسز کو ختم کرنے کے لیے پانی کے ٹینک میں کلورین استعمال کی جاتی ہے مگر اس کی درست مقدار بہت ضروری ہے۔ کھانے پینے کی چیزوں کو جب آلودہ پانی سے دھویا جائے تو کچھ وائرسز اور بیکٹیریا ان پر رہ جاتے ہیں اور بچے انہیں کھا کر بیمار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ڈائیریا سے بچنے کے لیے کھانے پینے کی چیزوں میں احتیاط بہت ضروری ہے۔میں تجویز کروں گی کہ سبزیاں دھونے کے لیے بھی ابلا ہوا پانی ہی استعمال کریں۔

ابالنے سے پانی کے منرلز ضائع ؟
٭میں پینے کے لیے ابلا ہوا پانی استعمال کرتی ہوں مگر سننے میں آیاہے کہ پانی ابالنے سے بہت سے اہم منرلز ضائع ہو جاتے ہیں؟
(تابندہ خان ، نو شہرہ)

٭٭ابلا پانی یا منرل واٹر دونوں برابر ہیں تاہم یہ سچ ہے کہ منرل واٹرمیںکچھ اضافی منرلز موجود ہوتے ہیں۔ پانی ابالنے سے اس میں موجود کیلشیم اور مگنیشیم کے ضائع ہونے کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ اسے کتنی دیر تک ابالتے ہیں۔ آپ پانی کو آدھا گھنٹہ ابالیں اور رات بھر اسے ٹھنڈا ہونے دیں۔ جب سفید ذرات پیندے میں بیٹھ جائیں تو پانی نتھار لیں۔ یہ پانی صحت سے بھرپور ہو گا۔اضافی منرلزکی کمی پوری کرنے کیلئے آپ پھلوںاور سبزیوںکا استعمال کرسکتی ہیں۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x