ٹی بی

4

ٹی بی

ٹی بی مائیکروبیکٹیریم ٹیوبرکلوسس نامی جرثومے کی وجہ سے ہونے والا مرض ہے۔ اس کا شکار فرد جب سانس لیتا یا کھانستا ہے تواس کے جراثیم ہوا میں شامل ہوکردوسروں تک پہنچ جاتے ہیں۔ یوں پھیپھڑوں کی ٹی بی ایک فرد سے دوسرے کو لگتی ہے۔ تاہم اس کی دیگر اقسام مثلاً دماغ، ہڈیوں اورمعدے وغیرہ کی ٹی بی اس طرح دوسروں تک منتقل نہیں ہوسکتی۔ تقریباً80 فی صد کیسزمیں ٹی بی پھیپھڑوں کی ہوتی ہے، اس لئے کہ جراثیم سب سے پہلے انہی میں جاتے ہیں۔ اس کی دو اقسام زیادہ اہم ہیں۔

٭پہلی کوادویات سے ٹھیک ہو جانے والی ٹی بی کہتے ہیں۔ یہ دوائیں کھانے سے ختم ہو جاتی ہے۔

٭اگرمریض علاج نہ کروائے یا اسے ادھورا چھوڑ دے تو وہ شدید نوعیت اختیارکر لیتی ہے اوراس پرادویات غیرمؤثرہوجاتی ہیں۔ اسے دواؤں سے مزاحم ٹی بی کہتے ہیں۔

علامات کیا ہیں

ٹی بی کہیں کی بھی ہو، اس کی علامات میں بھوک کی کمی، رات کو بخارہونا، ٹھنڈے پسینے آنا اوروزن میں کمی شامل ہیں۔ پھیپھڑوں کی ٹی بی میں ان علامات کے ساتھ ساتھ کھانسی اوربلغم بھی ہوسکتا ہے۔ یہ مرض زیادہ پھیل جائے توبلغم میں خون بھی آسکتا ہے۔

 مریضوں کے لئے احتیاطیں

٭مریض دوا شروع کرنے کے بعد مقررہ مدت سے پہلے دوا کا استعمال ہرگز بند نہ کریں۔

٭دوا استعمال کرنے سے کوئی مضراثرات ظاہرہوں تو ڈاکٹرسے لازماً رجوع کریں۔

٭دوائیں شروع کرنے کے بعد کم ازکم دوہفتوں تک ہوا داراور روشن کمرے میں ہیں‘ چھوٹے بچوں کو گود میں نہ اٹھائیں اورلوگوں کے درمیان بیٹھ کر کھانسنے سے گریزکریں۔

 ٭مریض دیگرافراد سے بات چیت کے دوران ماسک استعمال کریں۔

٭اہل خانہ مرض کے آغازمیں مریض کے بہت زیادہ قریب مت بیٹھیں۔ دوائیں استعمال کرنے کے دو ہفتے بعد ملنے جلنے میں حرج نہیں۔

ٹی بی سے مکمل طورپربچاؤ ممکن نہیں کیونکہ ہمارے اردگرد اس کے مریض اورجراثیم موجود رہتے ہیں اورہمیں ان کا علم بھی نہیں ہوتا۔ تاہم اس سے متعلق آگاہی اورکچھ احتیاطی تدابیرپرعمل کرکے کسی حد تک بچا جاسکتا ہے۔

tuberculosis, Tb, drug resistant TB, TB patient care

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x