ٹانسلز کی سوزش

ہمارے منہ کے اندر پیچھے کی طرف گلے کے اوپر بیضوی شکل کے دو ٹشوز ہوتے ہیں جو ٹانسلز کہلاتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا اور دیگر جراثیم کو منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہونے سے روک کر بیماری کے خلاف جسم کا دفاع کرتے ہیں۔ جراثیم سے رابطے کی وجہ سے ان ٹشوز میں انفیکشن (Tonsillitis) اور سوزش کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ مسئلہ کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے تاہم 5 سے 15 سال کی عمر میں زیادہ عام ہے۔ اس لیے کہ بلوغت کے بعد ٹانسلز کا دفاعی کردار کم ہو جاتا ہے۔ ٹانسلز کی سوزش کا سبب بننے والے عوامل میں نزلہ زکام کے وائرس اور گلے میں سوزش/ درد کا باعث بننے والے جراثیم زیادہ عام ہیں۔

انفیکشن کی علامات

چھوٹے بچے جو اپنی تکلیف بیان نہیں کر سکتے، ان میں ٹانسلز کی سوزش کے باعث رال ٹپکنے کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ غیر معمولی طور پر چڑچڑاپن یا بے چین ہونا اور کھانے سے انکار کرنا بھی اس کی نشاندہی کرتا ہے۔

سوزش اور سوجن کے علاوہ ٹانسلز پر سفید یا زرد رنگت کی تہہ بن سکتی ہے۔ گلا خراب ہونا، نگلنے میں دقت یا درد ہونا، بخار ہونا، گردن میں موجود لمف نوڈز کا سائز بڑھ جانا، آواز دب جانا یا خراب ہو جانا اور منہ سے بدبو آنا بھی اس کی علامات ہیں۔ بعض بچوں کے پیٹ میں درد ہوتا ہے، گردن میں درد یا اکڑن ہوتی ہے اور سر میں درد ہو سکتا ہے۔

تشخیص کے طریقے

انفیکشن کا سبب معلوم کرنے کے لیے یہ طریقے استعمال کیے جاتے ہیں:

٭سب سے پہلے جسمانی معائنہ کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے ایک آلے کی مدد سے گلے، کانوں اور ناک کے اندر دیکھا جاتا ہے۔ پھر گلے کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ اس میں کسی غدود میں سوجن تو نہیں۔ اس کے علاوہ تلی کا سائز دیکھا جاتا ہے۔ سٹیتھوسکوپ سے سانس کی آواز بھی سنی جاتی ہے۔

٭سویب کی مدد سے گلے میں پیچھے کی طرف موجود رطوبتوں کا نمونہ لے کر ان کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ کا نتیجہ پازیٹو ہو تو انفیکشن بیکٹیریل جبکہ دوسری صورت میں وائرل قرار دیا جاتا ہے۔

٭سی بی سی (Complete Blood Count) ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔

انفیکشن سے بچاؤ

ٹانسلز میں انفیکشن کا سبب بننے والے جراثیم متعدی ہوتے ہیں۔ ان سے بچنے کا بہترین طریقہ صفائی کا خیال رکھنا ہے۔ اس کے لیے بچوں کو تھوڑی تھوڑی دیر بعد بالخصوص باتھ روم استعمال کرنے کے بعد، کھانے سے پہلے یا کسی چیز کو چھونے کے بعد ہاتھ دھونے کی عادت ڈالیں۔ انہیں سکھائیں کہ دوسروں کی استعمال شدہ پانی کی بوتلیں، گلاس، چمچ اور کانٹا وغیرہ استعمال نہ کریں۔ ٹشو یا بوقت ضرورت کہنی میں کھانسنے اور چھینکنے کی عادت ڈالیں۔ انہیں یہ بھی بتائیں کہ چھینک مارنے اور کھانسی کرنے کے بعد ہاتھوں کو دھونا ضروری ہے۔

ٹانسلز میں سوزش ہو جائے تو کیا کریں

یہ ٹِپس تکلیف کو کم کرنے اور صحت یابی کے عمل کو بہتر کرنے میں مؤثر ہیں:

٭بچے کو زیادہ سے زیادہ آرام اور نیند پوری کروائیں۔

٭اسے زیادہ مقدار میں مشروبات پلائیں تاکہ گلا نم رہے اور پانی کی کمی نہ ہو۔ اس کے ساتھ نرم غذائیں مثلاً یخنی، گرم پانی میں شہد ملا کر یا کیفین سے پاک چائے دیں۔ برف کی قلفی وغیرہ بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

٭آدھا چائے کا چمچ نمک اور آٹھ اونس گرم پانی مکس کر کے بچے کو اس سے غرارے کروائیں۔ اس پانی کو نگلنے نہ دیں۔

٭کمرے یا گھر میں ہوا کو نم کرنے والی مشین (humidifier) لگوائیں۔

٭بچہ چار سال سے بڑا ہو تو اسے چبانے یا چوسنے کے لیے مخصوص گولیاں(lozenges) دی جا سکتی ہیں۔ یہ منہ میں آہستہ آہستہ حل ہو کر خراب گلے کو آرام پہنچاتی ہیں۔

٭گھر کو سگریٹ کے دھوئیں سے پاک رکھیں۔ صفائی کے لیے ایسی مصنوعات استعمال نہ کریں جو گلے کو مزید خراب کر سکتی ہوں۔

٭تیز بخار کے ساتھ گلے میں درد ہو تو اسے دور کرنے کے لیے ڈاکٹر کے مشورے سے دوا لیں۔

٭انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اس کی تشخیص کے بعد ٹوتھ برش تبدیل کریں اور بیماری کی حالت میں بچے کو گھر پر رکھیں۔

ٹانسلزمیں انفیکشن کا سبب بیکٹیریا ہو تو ان ٹِپس پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ اینٹی بائیوٹکس بھی لینا ہوتی ہیں۔ بچہ ادویات کی بتائی گئی مدت سے پہلے ٹھیک ہو جائے تو بھی یہ کورس مکمل کرنا ضروری ہے۔ ورنہ انفیکشن بگڑنے یا جسم کے دوسرے حصوں میں منتقل ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔

عموماً گھریلو ٹوٹکوں کے علاوہ اینٹی بائیوٹکس(بیکٹیریل انفیکشن کی صورت میں) کا کورس مکمل کرنے سے مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ ایسا نہ ہو تو ٹانسلز کی سرجری کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

Vinkmag ad

Read Previous

لیکوریا کب نارمل اور کب نہیں

Read Next

ہیئر ٹرانسپلانٹ سینٹرز کے لیے رجسٹریشن اور لائسنسنگ لازمی قرار

Leave a Reply

Most Popular