ہیئر ٹرانسپلانٹ سینٹرز کے لیے رجسٹریشن اور لائسنسنگ لازمی قرار

ہیلتھ کیئر کمیشن نے ہیئر ٹرانسپلانٹ سینٹرز کے لیے رجسٹریشن اور لائسنسنگ لازمی قرار دے دی ہے۔  بیوٹی سیلونز کے ساتھ "کلینک” کی اصطلاح پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ہیئر ٹرانسپلانٹ سینٹرز اور بیوٹی سیلونز  میں ادویات کے طور پر غیر رجسٹرڈ مصنوعات کے استعمال پر بھی پابندی ہو گی۔ ان اداروں میں کام کے لیے پی ایم ڈی سی سے منظور شدہ اور تصدیق شدہ ڈگریاں اور ڈپلومہ لازمی ہوں گے۔ کسی بھی پرائیویٹ سرٹیفکیٹ، جعلی یا غیر قانونی ڈگری کے حامل یا غیر تربیت یافتہ عملے کو کام کی اجازت نہیں ہو گی۔

رجسٹریشن کا عمل پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے ذریعے آن لائن کیا جائے گا۔ حکمنامے کی تعمیل کے لیے ایک ماہ کی مدت ہے۔ 15 مارچ کے بعد کریک ڈاؤن، اداروں کو سیل کرنے کے اقدامات ہوں گے۔ ایف آئی آر درج کی جائے گی اور گرفتاریاں یا جرمانے بھی ہوں گے۔ ہیئر ٹرانسپلانٹ سینٹرز اور بیوٹی سیلونز کی نمائندہ یونینز اور ایسوسی ایشنز کو نوٹس موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ان میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئے ضوابط کی تعمیل کو یقینی بنائیں۔ ہیئر ٹرانسپلانٹ سینٹرز کے لیے رجسٹریشن اور لائسنسنگ لازمی قرار دینے سے صارفین کو بہتر سہولتیں میسر آئیں گی۔

Vinkmag ad

Read Previous

ٹانسلز کی سوزش

Read Next

لیکوریا سے بچاؤ

Leave a Reply

Most Popular