نسوانیت کا دشمن لیکوریا

1

نسوانیت کا دشمن لیکوریا

بلوغت کی عمر میں داخل ہونے پر لڑکیاں بہت سی جسمانی تبدیلیوں سے گزرتی ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ اکثر صورتوں میں انہیں ان کے بارے میں بروقت آگاہ نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے وہ پریشان رہتی ہیں۔ ایسی ہی ایک بیماری لیکوریا بھی ہے۔ اس سے مراد سفید رنگ کا ایک خاص مادہ ہے جو خواتین کی شرمگاہوں سے خارج ہوتارہتا ہے۔ یہ مادہ‘ نسوانی عضومخصوص کے مردہ اورزہریلے خلیوں پر مشتمل ہوتا ہے جس کا مائع شکل میں اخراج ان کی تولیدی صحت کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ یہ معمول کی ایک بات ہے جسے بعض خواتین مرض سمجھ لیتی ہیں ۔

اگر یہ مادہ چپچپا اورگاڑھا ہو‘ اس کی رنگت سفید کی بجائے زردی مائل یا بھوری ہو‘ زیادہ مقدار میں اورمسلسل خارج ہوتا رہے تو پھراسے لیکوریا کا مرض قرار دیا جائے گا۔ یہ اخراج بعض اوقات اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ پیڈ رکھنے کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ عمر میں اضافے یا زیادہ سفر کی صورت میں بھی اس مادے کی حالت یا مقدار میں تبدیلی آجاتی ہے جسے مرض نہیں سمجھنا چاہئے۔

بچاؤ

چند آسان احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے سے اس تکلیف دہ بیماری سے محفوظ رہا جا سکتا ہے

٭جنسی اعضاء کی اچھی طرح سے صفائی کی جائے ۔

٭غسل کے دوران پاخانے کے مقام اورشرمگاہ پر زیادہ پانی بہا ئیں اور بعد میں انہیں صاف تولیے سے اچھی طرح خشک کریں۔

٭جسم سے زہریلے اورغیر ضروری مادوں کے اخراج کے لئے کافی مقدار میں پانی پئیں ۔

٭رفع حاجت کے بعد مخصوص اعضاء کی طہارت کو یقینی بنائیں۔ بعض خواتین اس مقصد کے لئے صرف ٹشو استعمال کرتی ہیں جو اس کی صفائی کے لئے کافی نہیں۔ ایسے میں ٹشو کے ذرے اندر رہ کر انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں۔ لہٰذا بہتر ہے کہ اس کے لئے پانی استعمال کیاجائے۔

٭ہمیشہ خشک اور سوتی کپڑے کا زیرِ جامہ پہنیں۔ اگر بارش یا پرمشقت کام کے دوران کپڑے بھیگ جائیں تو انہیں فوراً تبدیل کرلیں۔

٭تولیدی اعضاء کے اردگرد پاؤڈر،پرفیوم،اور دیگر کاسمیٹکس سے گریز کریں۔

٭بالغ ہونے پر ہر بچی کو ایچ پی وی کی ویکسین ضرور لگوانی چاہئے تاکہ کل کی مائیں بانجھ پن اور بچہ دانی کے کینسر سے محفوظ رہ سکیں۔

خوراک کے ذریعے بچاؤ

لیکوریا کے مریضوں کو چاہئے کہ

٭مٹھائی، پیسٹری، کسٹرڈ،آئس کریم،پڈنگ وغیرہ سے خاص طور پراحتیاط کریں۔ ان میں خمیرہوتا ہے جو اس مرض کا سبب بن سکتا ہے۔

٭کھمبیاں ایک طرح کی پھپھوندیاں ہیں جنہیں کم کھانا چاہئےاوراس مرض میں تو ان سے خاص طور پردوررہناچاہئے ۔

٭کولا مشروبات میں شوگر زیادہ ہوتی ہے۔ یہ گیس بھی پیدا کرتے ہیں لہٰذا ان کا استعمال بھی کم کرنا چاہئے ۔

٭اس عرصے میں خشک میوہ جات‘ کھٹی چیزوں اورمصالحہ دار اشیاء کااستعمال بھی کم کریں۔

ورزشیں

ذہنی دباؤاور اعصابی تناؤ سے بچنے کے لئے روزانہ صبح کی سیر،کھانے کے بعد چہل قدمی اور ہلکی پھلکی ورزشیں بہت ضروری ہیں۔ایسے افعال سے  جسمانی تازگی کے ساتھ بلکہ بہت سی بیماریوں سی بھی بچا جا سکتا ہے۔

leukorrhea, trichomoniasis, exercises, prevention, diet

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x