لیکوریا کب نارمل اور کب نہیں

بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھتے وقت لڑکیاں بہت سی جسمانی تبدیلیوں سے گزرتی ہیں۔ انہی میں سے ایک تبدیلی شرم گاہ سے مواد کا ڈسچارج ہونا ہے۔ یہ کیفیت زیادہ تر خواتین کی روزمرہ زندگی کے معمولات کو متاثر کرتی ہے۔ ایسے میں خواتین کو کپڑوں کے گندے یا ناپاک ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ اگر وہ گھر پر ہوں تو کپڑے صاف کر لیتی ہیں لیکن باہر ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ بہت سی خواتین کے ذہنوں میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ آخر لیکوریا کب نارمل ہے اور کب نہیں۔

خواتین کی شرم گاہوں سے مادے کا اخراج قدرتی اور فطری عمل ہے۔ اگر یہ رطوبت انڈے کی سفیدی کی طرح شفاف ہو، اس میں بو نہ ہو اور ایام سے چند دن پہلے آئے تو یہ بالکل نارمل ہے۔ یہ ڈسچارج عام طور پر ایام سے چند روز پہلے یا ان کے درمیان میں ہوتا ہے۔ تاہم یہ زیر جامہ کو معمول سے زیادہ گیلا کرتا ہو، اس میں بُو آئے، خارش ہو تو ماہر امراض نسواں یعنی گائناکالوجسٹ کو دکھانا چاہیے۔

لیکوریا کب نارمل نہیں

خواتین اس حوالے سے تب فکر مند ہوں جب:

٭وجائنل ڈسچارج کی مقدار یومیہ ایک سے دو ملی لیٹر ہو۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ زیر جامہ پر صرف نشان بننے کے بجائے وہ گیلا محسوس ہو۔

٭پورا مہینہ رطوبت کا اخراج ہو اور اس سے بدبو آئے۔

٭پانی کے نکلتے ہی شرم گاہ اور اس کے اطراف میں خارش ہو۔

٭ ازدواجی تعلق تکلیف دہ ہو جائے۔

٭اس کی رنگت سفید اور پھٹے ہوئے دودھ کی طرح ہو تو یہ فنگل انفیکشن کی علامت ہے۔

اسے پھیلنے سے کیسے روکیں

ان باتوں کا خیال نہ رکھا جائے تو یہ مسئلہ ایک خاتون سے دوسری کو بھی لگ سکتا ہے:

٭اس مادے سے آلودہ کپڑے، خاص طور پر زیرِ جامہ کا دیگر کپڑوں کے ساتھ مل جانا۔

٭اگر مرد کا عضو تناسل انفیکشن زدہ ہو تو جنسی عمل کے دوران خاتون کو دیگر امراض کے علاوہ لیکوریا بھی ہو سکتا ہے۔

٭زنانہ جنسی بیماریاں یا جنسی عضو کا انفیکشن۔

٭مشترکہ بیت الخلا کی اشیاء استعمال کرنا۔

٭حمل ٹھہرانے یا اسقاط حمل کے لیے غیر مستند ادویات کا استعمال۔

٭جلد کو بہتر کرنے یا دیگر مقاصد کے لیے ایسے سٹیرائڈز کا استعمال جو ہارمونز کے توازن کو بگاڑنے کا سبب بنیں۔

٭بچہ دانی کے سرے پر چھالے یا ورم۔ اس وجہ سے خارج ہونے والا مادہ بھورے رنگ یا جمے ہوئے خون سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس کی مقدار بھی غیر معمولی ہوتی ہے۔

٭پیڑو(pelvis) میں غیر معمولی سوزش۔

٭ٹی بی، خون کی کمی، کمزور قوتِ مدافعت یا ناقص خوراک بشمول جنک فوڈ۔

٭اعصابی تناؤ اور ذہنی دباؤ ۔

لیکوریا کا علاج

اگر بروقت علاج کرا لیا جائے تو دو دن سے لے کر ایک مہینے تک کے عرصے میں یہ مسئلہ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اگر غفلت برتی جائے تو یہ کئی اور بیماریوں کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

اس کے علاج کے لیے بہت سی کریمیں، مرہم اور گولیاں دستیاب ہیں۔ بعض خواتین کو لیکوریا میں استعمال ہونے والی بعض ادویات سے الرجی ہوتی ہے۔ ایسے میں ان کے استعمال سے بیماری مزید بگڑ سکتی ہے۔ لہٰذا انہیں ماہر امراض نسواں کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کریں۔

چند آسان ٹپس پر عمل کرنے سے لیکوریا سے بڑی حد تک محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ غذائی احتیاطیں بھی سود مند ثابت ہوتی ہیں۔

Vinkmag ad

Read Previous

وٹامنز پر پابندی سے متعلق خبروں کی تردید

Read Next

ٹانسلز کی سوزش

Leave a Reply

Most Popular