شِنگلز

شِنگلز

شنگلزایک وائرل انفیکشن ہے۔ یہ بیماری اسی وائرس (varicella-zooster) کے باعث ہوتی ہے جو بچوں میں چکن پاکس کا سبب بنتا ہے۔ ایک ہی وائرس دو مختلف طرح کی بیماریوں کا سبب کیسے بنتا ہے؟ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے

جب کوئی فرد چکن پاکس سے صحت یاب ہوتا ہے تویہ وائرس اس کے حرا م مغز سے نکلنے والی کسی رگ میں داخل ہوجاتا ہے۔ اس وقت یہ غیر فعال ہوتا ہے لہٰذا کوئی نقصان نہیں پہنچاتا لیکن عمربڑھنے، بیماریوں کا شکار ہونے یا قوت مدافعت کم کرنے والی دواؤں کے لمبے عرصے تک استعمال سے جب دفاعی نظام کمزورہوتا ہے تویہ وائرس فعال ہوجاتا ہے۔ پھراسی مخصوص رگ کے ذریعے (جہاں یہ فعال ہوتا ہے )جلد تک پہنچ کر اس کے اوپرپانی والے دانوں کی شکل میں ریشز بناتا ہے۔ اس سے مریض کو شدید درد کا سامنا ہوتا ہے۔ بعض اوقات بغیردانوں کے بھی درد ہوتا رہتا ہے۔

یہ وائرس حرام مغز یا دماغ سے نکلنے والی کسی بھی رگ کو متاثرکرسکتا ہے تاہم زیادہ ترصورتوں میں چھاتی، پیٹ، کمر اورپیڑو کے ایک طرف چھالے بنتے ہیں۔ بعض اوقات آنکھ ، گردن اورچہرے کی ایک سائیڈ بھی اس سے متاثرہوجاتی ہے۔ شنگلز کی دیگرعلامات میں خارش،بخار، سردرد، روشنی سے حساسیت اورتھکاوٹ نمایاں ہیں۔

کیا یہ متعدی ہے

لاکڑا کاکڑا کی ویکسین نہ لگوائی ہو یا اس سے پہلے یہ انفیکشن نہ ہوا ہو اورایسی حالت میں متاثرہ فرد کے چھالوں سے خارج ہونے والے پانی سے رابطہ ہوجائے تووہ شنگلزکے باعث چکن پاکس کا شکار ہوسکتاہے۔ بیمار افراد کو چاہئے کہ چھالوں کے اوپرسخت جلد بننے تک دوسروں سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی مائیں، کمزورقوت مدافعت کے حامل افراد، بزرگ اوربچے ان لوگوں سے دوررہیں جو اس مرض کا شکار ہوں۔

تشخیص اورعلاج

اس کی تشخیص مریض کی ہسٹری اور جسمانی معائنے سے ہوتی ہے ۔علاج شروع کرنے سے قبل گردوں کی کارکردگی جانچنے کے لئے ٹیسٹ ہوتے ہیں‘ اس لئے کہ اینٹی وائرل ادویات کے زیادہ استعمال سے گردے خراب ہوسکتے ہیں۔ اگر پانی کے چھالے بننے کے 72گھنٹوں میں ہی اینٹی وائرل ادویات شروع کردی جائیں تونہ صرف بیماری پر قابوپانا ممکن ہوتا ہے بلکہ اس کے بعدہونے والے نقصانات کو بھی کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ دوران علاج درد دور کرنے والی ادویات، جلد کو ٹھنڈک فراہم کرنے یا سن کرنے کے لئے لوشن اورکریمیں اوربیکٹیریل انفیکشن سے بچاؤ کے لئے اینٹی بائیوٹک ادویات بھی دی جاتی ہیں۔اس کے علاوہ مریض کو زیادہ سے زیادہ آرام کرنے اورزیادہ پانی پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

علاج کے بعد دو سے چا رہفتوں میں یہ مسئلہ حل ہوجاتا ہے جبکہ چھالوں کے نشانات وقت کے ساتھ ساتھ بہتر ہوتے ہیں۔ بعض افراد خصوصاً بزرگ حضرات کوٹھیک ہونے کے بعد انفیکشن کی جگہ پرایک ماہ یا کچھ سالوں تک شدید درد رہتا ہے۔

شنگلزکے امکانات کو کم کرنے کا ایک طریقہ اس کے لئے دستیاب ویکسین لگوانا ہے۔ بیماریوں پرقابو اوران سے بچاؤ کے ادارے ’’سی ڈی سی‘‘کے مطابق 50 سال یااس سے زائد عمرکے تمام افراد دو سے چھ ماہ کے وقفے سے اس کی دو خوراکیں لگوائیں۔ دیگرافراد ڈاکٹر کے مشورے سے ویکسین لگوائیں۔ شنگلز ایک تکلیف دہ بیماری ہے۔ اس کی علامات ظاہر ہوں تو جلد از جلد قریبی ہسپتال سے رجو ع کریں تاکہ اس کے منفی اثرات کو کم کیا جاسکے۔

shingles, skin infection, causes and treatment of shingles

Vinkmag ad

Read Previous

گلوٹن فری پیٹیز

Read Next

دل کےعام مسائل

Leave a Reply

Most Popular