Vinkmag ad

ڈی ٹاکس ڈائٹ

موٹاپے کو لوگوں کی اکثریت خوبصورتی یا بدصورتی کے تناظر میں ہی دیکھتی ہے لیکن بنیادی طور پر یہ صحت سے متعلق معاملہ ہے۔ موٹاپے سے بچاؤ کا دیر پا حل متوازن غذا اور جسمانی سرگرمیاں ہیں۔ جہاں علاج درکار ہو وہاں دیگر آپشنز کے ساتھ ڈائٹ پلانز بھی تجویز کیے جاتے ہیں۔ موٹاپا دور کرنے کے لیے ماہرین غذائیات جو ڈائٹ پلان تجویز کرتے ہیں ان میں سے ایک ڈی ٹاکس بھی ہے۔

ڈی ٹاکس کا لغوی مطلب زہریلے اور فاسد مادوں کا اخراج ہے۔ یہ عمل جسم میں گردے اور جگر کی مدد سے 24 گھنٹے جاری رہتا ہے۔ زہریلے مادے دو قسم کے ہوتے ہیں جن میں سے ایک جسم میں پیدا ہوتے ہیں۔ دوسرے ماحولیاتی آلودگی، کھادوں اور کھانے پینے کی اشیاء کے ذریعے جسم میں پہنچتے ہیں۔ ڈی ٹاکس ڈائٹ کے ذریعے ان مادوں سے نجات حاصل کی جاتی ہے لہٰذا لوگوں میں اس کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ اس میں ڈیری مصنوعات، گلوٹن، انڈا، مونگ پھلی، سرخ گوشت اور پروسیسڈ کھانوں کو غذا سے نکال کر سبزیوں اور پھلوں کو شامل کیا جاتا ہے۔

اس ڈائٹ کو سٹینلے بروز (Stanley Burroughs) نے 1970 میں غذائیات پر اپنی مشہور و معروف کتاب ماسٹر کلینر (Master Cleaner) میں متعارف کرایا تھا۔ اس کے مطابق 10 دنوں کے پروگرام پر مشتمل اس ڈائٹ میں صرف لیموں، میپل شیرہ اور سرخ مرچ ملا پانی پینے کی اجازت ہوتی ہے۔

تمام ڈی ٹاکس ڈائٹس مختلف ہیں۔ ان میں مشترکہ چیز محدود مدت تک بھوکا رہنا ہے جس کے بعد کچی سبزیاں، پھل، پھلوں کا جوس اور پانی استعمال کرنا ہوتا ہے۔ ایسے میں بعض اوقات قبض کی شکایت بھی ہو جاتی ہے لہٰذا ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔

ڈی ٹاکس ڈائٹ کے فوائد

٭ گردے اور جگر کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔

٭ توانائی ملتی ہے۔

٭ جسم سے فالتو اور زہریلے مادے خارج ہوتے ہیں۔

٭ وزن کم کرنے میں مدد گار ہے۔

٭ قوت مدافعت کو مضبوط کرتی ہے۔

٭ سکن کو بہتر بناتی ہے۔

٭ سانس میں تازگی لاتی ہے۔

٭ عمومی صحت میں مثبت تبدیلیوں کا باعث بنتی ہے۔

٭ مثبت سوچ پیدا کرنے والے ہارمونز کے اخراج میں مدد دیتی ہے۔

٭ بالوں کی اچھی صحت کے لیے کارآمد ہے۔

٭ انسان ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے۔

٭ قبل ازوقت بڑھاپے کو روکتی ہے۔

وزن گھٹانا یا جسم سے مضر صحت زہریلے مادوں کی صفائی کرنا ٹھیک ہے مگر اس ڈائٹ کو ماہر غذائیات کے مشورے سے اور نگرانی میں کرنا بہتر ہے۔ ایسا نہ کیا جائے تو ڈی ٹاکس ڈائٹ کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

نقصانات کیا ہیں

٭ ڈی ٹاکس ڈائٹ کا اہم جزو پھلوں اور سبزیوں کا جوس ہے۔ اس میں پھلوں اور سبزیوں کا رس نکال کر ریشہ یعنی فائبر ضائع کر دیا جاتا ہے۔ فائبر سے نہ صرف پیٹ بھرتا ہے بلکہ بلڈ شوگر بھی کنٹرول میں رہتی ہے۔

٭ ڈی ٹاکس ڈائٹ کو لمبے عرصے تک معمول بنا لیا جائے تو جسم میں اہم معدنیات اور وٹامنز کی کمی ہو جاتی ہے۔

٭ ڈی ٹاکس ڈائٹ آنتوں کی صفائی کے ساتھ ساتھ ہاضمے کو بہتر رکھنے والے بیکٹیریا کو ختم کرنے کا سبب بنتی ہے۔

٭ اس کے سائیڈ افیکٹس میں بھوک لگنا، چڑچڑا پن، تھکاوٹ اور پاخانہ کرتے ہوئے جلن ہونا شامل ہیں۔

تحریر: عامنہ عارف، ماہر غذائیات، لاہور

Vinkmag ad

Read Previous

کینسر کا علاج

Read Next

پنجاب میں 32 فیلڈ ہسپتالوں کا افتتاح کر دیا گیا

Leave a Reply

Most Popular