زیکا وائرس کی حقیقت

2

 زیکا وائرس  کی حقیقت

مچھر بظاہر ایک چھوٹی سی مخلوق ہے لیکن اس نے تاریخ کے مختلف ادوار میں بڑے بڑوں کے ناک میں دم کئے رکھا ہے ۔ چند سال قبل اس کی ایک قسم ’ڈینگی‘ نے پاکستان میں بحرانی صورت حال پیدا کردی تھی ۔

تاریخ

یہ وائرس سب سے پہلے1947ء میں یوگنڈا میں تشخیص ہوا۔ اس وقت ماہرین زرد بخار پر تحقیق کے تناظرمیں یوگنڈا کے ’زیکا ‘نامی جنگل میں بندروں پر تجربات کر رہے تھے کہ حادثاتی طور پریہ وائرس دریافت ہوگیا۔اس جنگل کے نام پر اس وائرس کا نام ’زیکا وائرس‘ رکھا گیا۔ انسانوں میں اس کی شناخت سب سے پہلے 1952ء میں یوگنڈا اور پھر تنزانیہ میں ہوئی۔

مرض کی علامات

یہ انفیکشن 14سے16اقسام کے مچھروں سے ہو سکتا ہے تاہم ان میں زیادہ معروف ایڈیز ایجپٹائی ہے۔ یہ مچھر کئی قسم کے وائرسوں کے پھیلائو کا سبب بنتا ہے جن میں ہمارے ہاں بد نام زمانہ ڈینگی وائرس بھی شامل ہے ۔ زیکا بخار ایک وائرل انفیکشن ہے جس کی علامات معمولی نوعیت کی ہیں۔اس میں جلد پر دھپڑ سے نمودارہوتے ہیں اور ہلکا سا بخار ہوتا ہے ۔

چونکہ اس وائرس کی علامات بہت ہلکی پھلکی ہوتی ہیں لہٰذا اس کی تشخیص کی طرف لوگ کم جاتے ہیں۔ برازیل میں بھی جب اس مرض کی علامات نمودار ہوئیں تو باقی وائرسز سے متعلق ٹیسٹ کئے گئے جو نارمل آئے۔ آخر میں انہوں نے زیکاٹیسٹ کیا تو یہ پازیٹو آگیا۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جن علاقوں میں ڈینگی یا مچھر کی پھیلائی گئی دیگر بیماریاں موجود ہوں، ان میں کسی فردمیں یہ علامات نمودار ہوں تو ایک امکان یہ بھی ہے کہ اس میں زیکا وائرس موجود ہو۔

کیاپیچیدگیاں حقیقی ہیں

ڈینگی کے برعکس زیکابخار میں شدید قسم کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں ۔ یہ وائرس تقریباًہفتے بھرزندہ رہنے کے بعد غیر موثر ہوجاتا ہے اوراگر10یا11دن بعد خون کا ٹیسٹ کیا جائے تو اس میں اس کے خلاف اینٹی باڈیز ملیں گی لیکن وائرس ختم ہو چکا ہو گا۔ یہ جان لیوا بیماری نہیں ہے ۔ اس مرض کی وجہ سے پیداشدہ جن دوپیچیدگیوں کا بہت ذکر کیا جاتا ہے ان میں سے ایک ’مائیکرو سی فیلی‘ اور دوسری’ گولین بارے سینڈروم‘  ہے۔

مائیکرو سی فیلی‘ میں دوران حمل بچوں کے دماغ کی نشوونما ٹھیک طرح سے نہیں ہو پاتی جس کی وجہ سے ان کے سر چھوٹے رہ جاتے ہیں۔ پاکستان میں اس کی مثال وہ لوگ ہیں جنہیں ’شاہ دولے‘ کہا جاتا ہے ۔ گولین بارے سینڈروم‘ میں بازوئوں اور ٹانگوں میں کمزوری آ جاتی ہے اور صورت حال بعض اوقات اتنی شدید ہو جاتی ہے کہ مریض کو وینٹی لیٹر پر ڈالنے کی ضرورت پڑجاتی ہے ۔ زیکابخار کا سبب بننے والے وائرسوں کے گروپ کے ایک اور وائرس ویسٹ نائل  کی پیچیدگیاں شدید نوعیت کی ہیں۔

کسی بھی مرض کے بارے میں خوف کی ایک  بڑی وجہ میڈیا ہے ۔ جن لوگوں کوکسی معاملے کی سائنسی سمجھ بوجھ نہیں، وہ اپنی دلچسپی کی چیزیں اٹھاتے اور پھر انہیں سنسنی خیز انداز میں پیش کردیتے ہیں۔ہمارے ہاں یہ وائرس موجود ہے لیکن یہ مرض نہیں پھیلا ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ چونکہ یہ وائرس ڈینگی بخار پھیلانے والے مچھر کی وجہ سے پھیلتا ہے لہٰذا یہاں لوگوں میں اس کے خلاف قوت مدافعت موجود ہے ۔

حفاظی تدابیر

زیکا وائرس اگرچہ بہت پرانا ہے لیکن چونکہ اس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر بیماریاں نہیں پھیلیں، اس لئے اس کے خلاف ویکسین یا ادویات دستیاب نہیں ہیں ۔اس لئے اس سے بچائو کی سب سے موثر صورت اس کا سبب بننے والے عامل یعنی مچھر پر کنٹرول ہے ۔

ڈینگی سے بچائو کے لئے جو اقدامات کئے جاتے ہیں، وہی زیکا کے خلاف بھی موثرہیں۔یہ اقدامات دو سطحوں پر کئے جانے ضروری ہیں ۔ان میں سے پہلا ماحول کا تحفظ ہے جس میں حکومت ، کمیونٹی اور اداروں کا کردار زیادہ اہم ہے۔ دوسری سطح پر ہمیں اپنے آپ کو اس مچھر سے بچانا ہے ۔اس کے لئے ہمیں چاہئے کہ دروازوں اور کھڑکیوں پر جالیاں لگوائیں، گھر کے اندر اور باہر پانی مت جمع ہونے دیں ،مکمل بازوئوں والی قمیض پہنیں اور مچھردانیاں یا مچھر بھگانے والے لوشن استعما ل کریں۔حکومتیں اپنی سطح پر کام کریں اور لوگوں کو اپنی سطح پر کام کرناچاہئے ۔

Zika virus, reality, effects, safety measures

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x