بڑھتا وزن‘ خطرے کی گھنٹی

2

بڑھتا وزن‘ خطرے کی گھنٹی

موٹاپا صحت کا ایک ایسا مسئلہ ہے جو اگر اپنی آخری حدوں کو چھونے لگے تو پھرغذا میں احتیاط اور ورزش ہی نہیں، دواؤں سے بھی کام نہیں چلتا۔ ایسے میں نوبت ’’ویٹ لاس سرجری ‘‘ تک جا پہنچتی ہے۔ اس موضوع سے متعلق انتہائی اہم اور مفید معلومات پڑھئے شفاانٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں شعبہ سرجری کے سربراہ اور وزن کم کرنے سے متعلق سرجری کے ماہر ڈاکٹر عارف ملک کے اس انٹرویو میں

آسان لفظوں میں بتائیے کہ موٹاپا کیا ہے؟

موٹاپا ایک ایسی اصطلاح ہے جسے ہمارے ہاں ہراس شخص کیلئے بے دریغ استعمال کر لیا جاتا ہے جو دیکھنے میں ذرابھاری بھرکم لگے۔ یہ کوئی درست پیمانہ نہیں‘ اس لئے کہ ہر شخص کیلئے موزوں وزن اس کے قد کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ تکنیکی زبان میں ماہرین اسے ’’باڈی ماس انڈیکس‘‘ یا بی ایم آئی کہتے ہیں۔اسے معلوم کرنے کیلئے فرد کے وزن کو قد سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ قد کے حوالے سے وزن کا مناسب حد میں رہنا ضروری ہے۔اگریہ اس سے تجاوز کر جائے تو انسانی صحت کیلئے نقصان یا خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ بی ایم آئی کی بنیاد پرہی فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ کوئی فرد کتنا موٹا ہے اور کتنا خطرے کی زد میں ہے۔

کس سطح پر بی ایم آئی نارمل یا خطرناک تصور ہوتا ہے؟

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگرکسی فرد کا بی ایم آئی 18سے 24.9 کے درمیان ہو تواس کا وزن نارمل ہے ۔ اگر وہ25سے 29.9 کے درمیان ہو تو فرد کو موٹایا زیادہ وزنی کہہ سکتے ہیں۔ اس کیلئے انگریزی میں اووروَیٹ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ۔اگرکسی شخص کا بی ایم آئی 30 سے تجاوز کر جائے تو پھر اس کا موٹاپا خطرے کی حدود میں داخل ہو جاتا ہے۔اس موٹاپے کی وجہ سے اسے متعدد بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔

وزن کو کم کرنے کیلئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

عام حالات میں وزن کم کرنے کیلئےغذا میں احتیاط اور باقاعدہ ورزش کو دو لازمی اجزاء قرار دیا جاتا ہے ۔اس کے برعکس آخری درجے کے موٹاپے میں مریض کیلئے عام نقل و حرکت بھی مشکل ہوجاتی ہے۔ اب اس کے پاس صرف ایک راستہ یعنی غذا میں احتیاط ہی باقی رہ جاتا ہے۔ جب کوئی شخص اس طرح کے موٹاپے کا شکار ہو جائے تو پھراسے کنٹرول کرنے میں غذا کے اثرات بھی دیرپا نہیں رہتے۔ ایسے میں بعض اوقات کچھ ادویات کی بھی مدد لی جاتی ہے جو فرد کی بھوک مٹا دیتی ہیں لیکن ان ادویات کاصحیح اثراسی وقت ہوتا ہے جب اس کے ساتھ غذا میں احتیاط اورباقاعدہ ورزش بھی کی جائے۔ مزید براں ادویات کی مدد سے پانچ یا10 کلوگرام وزن کم بھی کر لیا جائے تو یہ شرح اتنی نہیں جوایسے افراد کوکچھ فائدہ پہنچا سکے۔

جب غذا میں احتیاط، ورزش اور دواؤں سے فائدہ نہ ہو تو کیا کرنا چاہئے؟

جب ان عوامل کی مدد سے اس پر قابوپانا ممکن نہ رہے تو پھرمریض کیلئے ’’ویٹ لاس سرجری‘‘ تجویز کی جاتی ہے۔امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اور وزن کم کرنے سے متعلق سرجری کے ماہرین پر مشتمل ادارے ’’امریکن سوسائٹی آف بیری ایٹرک سرجری‘ ‘ کے مطابق اگرکسی فرد کا بی ایم آئی 35 سے زیادہ ہو اور اس کے ساتھ وہ ہائی بلڈپریشر‘ ذیابیطس اور کولیسٹرول کی زیادتی کا بھی شکار ہو اور وہ غذا اور ورزش کے ذریعے وزن کم کرنے میں ناکام ہوجائے توپھر اس کی سرجری کی جا سکتی ہے۔

عالمی ادارئہ صحت نے ایشیا میں مزید کم بی ایم آئی والے افراد کوبھی اس سرجری کا اہل قرار دیا ہے۔اس لئے کہ یہاں متعلقہ بیماریاں نسبتاً کم موٹاپے میں ہی شروع ہو جاتی ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان میں اگرکسی شخص کا بی ایم آئی 30 بھی ہے اوروہ غذااور ورزش سے وزن کم نہیں کرپا رہا اور اس کے ساتھ ساتھ اسے موٹاپے سے وابستہ بیماریاں بھی ہیں تو وہ یہ آپریشن کرا سکتا ہے۔ اگرکسی کا بی ایم آئی 40 سے زیادہ ہے اور اسے مذکورہ بیماریاں نہیں توبھی وہ سرجری کے ذریعے اپنا وزن کم کرا سکتا ہے۔

آج کل ایک سرجری کا بہت چرچا ہے جس میں انسانی جسم سے فالتو چربی نکال دی جاتی ہے۔ کیا واقعی اس سے وزن کم ہوجاتا ہے؟

اس آپریشن کو لائپوسکشن کہا جاتا ہے۔ اس میں جلد کے نیچے اورپٹھوں کےاوپرموجود چربی کونکال دیا جاتا ہے جبکہ اس چربی کو نہیں چھواجاتا جو پیٹ کے اندر ہوتی ہے اور بیماریوں کا اصل سبب بنتی ہے۔ لائپوسکشن کا بظاہر مقصد چھاتی‘ کولہے‘ ٹھوڑی یا پیٹ سے فالتو چربی نکال کر انہیں خوبصورت بناناہوتا ہے۔ یہ آپریشن ’’ویٹ لاس سرجری‘‘ نہیں اورآخری حدوں کو چھوتے موٹاپے میں تو بالکل بھی کارآمد ثابت نہیں ہوتی۔

وزن گھٹانے والی سرجری کون سی ہے؟

وزن گھٹانے کیلئے کی جانے والی سرجریز کو ’’بیری ایٹرک سرجری ‘‘ کہا جاتا ہے۔ بنیادی طورپراسے دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ مریض کیلئے موزوں آپریشن کا دارومداراس کو لاحق بیماریوں اوراس کے طرزِزندگی کے علاوہ اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ کیا وہ زیادہ بار ہسپتال آسکتا ہے یا نہیں۔ پہلی قسم کے آپریشن وہ ہیں جن میں مریض کے معدے کا حجم کم کر کے ان کے کھانے کی مقدار کم کر دی جاتی ہے۔ ایک دفعہ جب یہ وزن مطلوبہ حد تک آ جائے تو پھرمریضوں کے طرزِ زندگی میں ایسی تبدیلیاں تجویز کی جاتی ہیں کہ وہ دوبارہ اس درجے کے موٹاپے کا شکار نہ ہوں۔

دوسری قسم کے آپریشنوں میں کھانے کی مقدار میں کمی کے انتظام کے ساتھ ساتھ یہ بندوبست بھی کیا جاتا ہے کہ کھانا معدے یا انتڑیوں میں جا کر پوری طرح سے ہضم یا جذب نہ ہونے پائے اور جسم سے باہر خارج ہو جائے۔ ایسے پروسیجرز کی ایک مثال آراین وائی گیسٹرک بائی پاس ہے۔ یہ آپریشن تیزی سے وزن کم کرنے کے حوالے سے زیادہ دہ موثر ثابت ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ ایک سرجری اور بھی ہے جسے لیپ بینڈ سرجری کہا جاتا ہے۔

لیپ بینڈ سرجری کیا ہے ‘ کیسے ہوتی ہے اور اس کاکیا فائدہ ہے؟

وزن گھٹانے سے متعلق اس آپریشن میں معدے کے اوپر والے حصے میں سیلیکان کا بنا ہوا چھوٹا سا بینڈلگا دیا جاتا ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے ہم اپنی کمر کے گرد بیلٹ باندھ دیتے ہیں۔ بینڈ کی وجہ سے معدے کے اوپر چھوٹا سا خانہ بن جاتا ہے جو تھوڑا سا کھانا کھانے سے ہی بھر جاتا ہے۔ ایسے مریض کو پیٹ بھرے ہونے کا احساس ہوتا ہے اور وہ زیادہ نہیں کھاپاتا۔ اس کے بعد خوراک تھوڑی تھوڑی کر کے معدے کے نچلے حصے میں گرتی ہے۔ ۔بینڈ ہی کی مناسبت سے اس سرجری کو ’’لیپ بینڈ سرجری ‘‘کہا جاتا ہے۔

اس آپریشن میں مریض کی جلد کے نیچے ’’ٹائی ٹینیم‘‘ سے بنا ایک پورٹ لگایا جاتا ہے جسے سیلیکان سے بنی ٹیوب کے ذریعے بینڈ کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ بینڈ یارِنگ کے اندر ایک غبارہ لگا ہوتا ہے۔ پورٹ میں جب پانی ڈالا جاتا ہے تو وہ اس ٹیوب میں سے ہوتا ہوا غبارے تک پہنچ کر اسے پھُلا دیتا ہے اور بینڈسخت ہوجاتا ہے۔ سرجری کے بعد مریض کے وزن میں کمی کے مطابق اسے ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔ مریض کی کیفیت کے مطابق اسے سال میں دو‘ تین یاچار بار ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے۔ اس کیلئے نئے سرے سے سرجری کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ عمل کلینک میں ہی ہو جاتا ہے۔ پورٹ جسم میں مستقلاًلگا رہتا ہے اورمریض کوہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنی غذا کاخیال رکھے اور باقاعدگی سے ورزش کرے۔

کیا اس آپریشن کے بعد کچھ خاص احتیاطیں کرناہوتی ہیں؟

جی ہاں۔ خواتین کوکہا جاتا ہے کہ سرجری کے بعد ایک سال تک حمل سے اجتناب کریں۔ اگر اس کے باوجود حمل ٹھہر جائے تو پھر بینڈکو ڈھیلا کردیا جاتا ہے تاکہ ماں کچھ کھا پی سکے اوربچے کی پیدائش کے بعد اسے دوبارہ ایڈجسٹ کردیاجاتا ہے۔ اس انتظام سے فوری طور پر مسئلہ تو حل ہو جاتا ہے لیکن وزن کم کرنے کے حوالے سے نتائج پر منفی اثرپڑتا ہے۔

اگر کوئی محسوس کرے کہ وزن میں کمی مطلوبہ شرح سے نہیں ہو رہی توفوری طور پر معالج سے رابطہ کرنا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ بینڈ کا ٹھیک طرح سے کام نہ کرنا یا ٹیوب ٹوٹ جانا ہے۔عموماً اس کے کوئی مضراثرات نہیں ہوتے۔ آپریشن کی کامیابی کو یقیقنی بنانے کے لئے آپریشن سے اگلے دن مریض کا ایکسرے کیا جاتا ہے تاکہ کسی مسئلے کے بارے میں علم ہو سکے۔

آغاز میں آپ نے معدے کا حجم کم کرنے والی ایک سرجری کا ذکر کیا تھا۔ اس کی تفصیل کیا ہے ؟

اس آپریشن میں مریض کے پیٹ میں لیپروسکوپ کی مدد سے ایک ٹیوب ڈال کرمعدے کے مطلوبہ سائز کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ اس کے مطابق معدے کے باہر والے حصے کوکاٹ کراس طرح چھوٹا کیا جاتا ہے کہ باقی معدہ ایک ٹیوب یا کیلے کی شکل کا بن جاتا ہے۔ کاٹنے کے اس عمل میں خاص طرح کے سٹیپلرزاستعمال کئے جاتے ہیں۔ عام معدے میں کھانے پینے کی تقریباً دو لیٹر چیزوں کی گنجائش ہوتی ہے لیکن معدے کا سائز چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس میں بہت ہی کم مقدار میں چیزیں ذخیرہ کی جاسکتی ہیں۔

اس آپریشن میں کوئی مصنوعی چیزمعدے یا جسم کے کسی حصے میں نہیں لگائی جاتی۔ معدے کا سائز چھوٹا ہو جانے کے دو فوائد ہیں۔پہلا یہ کہ مریض کوتھوڑا سا کھانا کھانے کے بعد ہی پیٹ بھرا محسوس ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ بھوک کو محسوس کرنے اور کرانے والے  ہارمونزکی بڑی تعداد بھی نکل جاتی ہے۔

کیااس کا مریض کو نقصان نہیں ہوتا ؟

معدے کا سائز چھوٹا کرنا بظاہر غیرفطری عمل ہے لیکن مریض کو بڑے نقصان سے بچانے کیلئے یہ ضروری ہے۔ مزید براں اس کی خوراک مقدار میں کم ضرورہوجاتی ہے لیکن اس میں وٹامن اور دیگر اہم اجزاء کو کم نہیں کیا جاتا۔ آپریشن کے بعد مریض کو 70گرام پروٹین‘ کچھ پانی اورملٹی وٹامن دئیے جاتے ہیں جن میں آئرن‘ بی 12 وغیرہ شامل ہوتے ہیں جو انہیں روزانہ کھاناہوتے ہیں۔

مریض کو غذا شروع میں مائع شکل میں دی جاتی ہے جبکہ بعد میں وہ بلینڈرمیں اچھی طرح ملا کر دی جاتی ہے۔آپریشن کے بعد تقریباً دوسرے یا تیسرے ماہ وہ کم مقدارمیں باقاعدہ غذا پرآجاتے ہیں۔ آپریشن کے بعدمریض کو وقفے وقفے سے طبی معائنے کیلئے آنا ہوتا ہے تاکہ کسی کمی بیشی کا ازالہ کیا جا سکے۔

آخر میں آپ قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے ؟

اپنے وزن کو کنٹرول میں رکھیں اور اس کے لئے متوازن غذا اورباقاعدہ ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ انہیں ورزش کے لئے وقت نہیں ملتا لیکن میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ ان کے کام یقیناً اہم ہیں لیکن وہ اپنے ان اہم کاموں کو تب ہی جاری رکھ سکیں گے جب وہ صحت مند رہیں گے۔ یہ فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے کہ آج کچھ وقت نکال کر ورزش کو معمول بناتے ہیں یااسے نظرانداز کر کے بیماریوں اورپھرلمبے اور پیچیدہ علاج کا انتظار کرتے ہیں۔

Laparoscopic Sleeve Gastrectomy, RNY-Gastric Bypass, obesity, Liposuction, interview, DR Arif Malik

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x