کرشماتی درخت سوہانجنا

415

مالک دوجہاں نے انسانوں کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن کا جتنا شکر ادا کیاجائے، کم ہے ۔ ان میں سے کچھ تو ہمیں بالکل مفت میسر ہیں اورکچھ اپنے فوائد کے مقابلے میں اتنی ارزاں ہیں کہ انہیں مفت ہی سمجھئے ۔انہی میں سے ایک مورنگا(Moringa) بھی ہے جسے ’’سوہانجنا ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔
سوہانجنا بہت تیزی سے اُگنے والا درخت ہے جس کا قدرتی مسکن شمالی انڈیا اور جنوبی پنجاب ہے تاہم یہ امریکہ اور لاطینی امریکا میں بھی پایاجاتا ہے۔ مورنگا اوکیفیرا(Moringa Okifera) کے نباتاتی نام سے موسوم یہ درخت بے شمار غذائی‘ طبی اور صنعتی فوائد کا حامل ہے۔اس کی نئی کونپلیں اور پھول فروری اورمارچ میں کھلتے ہیں جبکہ اس کی پھلیاں اپریل سے جون تک پک جاتی ہیں۔

مورنگا کی پھلیاں سبزی کے طور پر پکائی جاتی ہیں اور ان کا اچار بھی ڈالا جاتا ہے۔اس کے پتوں کی چٹنی بنائی جاتی ہے۔اس کا تیل کوالٹی میں بہت عمدہ ہوتا ہے جس کا شمار دنیا کے مہنگے ترین تیلوں میں ہوتا ہے۔اسے میک اَپ کے سامان اورمہنگی گھڑیوں میں چکنا کرنے والے عامل(lubricant)کے طورپربھی استعمال کیا جاتاہے۔یہ بالوں کی نشوونما اور جلد کی صحت کے علاوہ دھوپ کی وجہ سے جلد کی جلن (sun burn)سے بھی بچاتاہے۔اس میں تقریباً30اینٹی آکسیڈینٹس کے علاوہ وٹامن اے‘بی کمپلیکس‘وٹامن سی بھی پایا جاتا ہے۔

زرعی یونیورسٹی فیصل آبادکے شعبہ ’’کراپ فزیالوجی‘‘ کے چیئرمین ڈاکٹر شہزادبسرا کا کہنا ہے کہ مورنگا بہت سی بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے۔اس کے پتے‘بیج‘ جڑیں‘پھول ‘ چھال اور گودا بہت سے فوائد کے حامل ہیں ۔غرضیکہ اس درخت کے تمام حصوں کو غذا اور علاج کے لئے استعمال کیاجاسکتا ہے۔ ان کے بقول یہ کسان دوست درخت توانائی، منرلز اوروٹامنز کا خزانہ ہے۔

مورنگا کے بیجوں میں فائبر زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے لہٰذا یہ نظامِ انہضام کو درست رکھتا ہے۔ماہرین غذائیات کے مطابق ان بیجوں میںزنک کی وافر مقدار پائی جاتی ہے جو ذیابیطس کے مرض میں شکر کی مقدار کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں ۔ بعض لوگ سہانچنا اور اس طرح کی دیگر گھریلو اشیاء ‘سبزیوں اور جڑی بوٹیوں کو ذیابیطس کا مکمل علاج سمجھ کر دوائوں کا استعمال چھوڑ دیتے ہیں جو بالکل غلط ہے ۔ان کا کردار معاون علاج کا ہے جو باقاعدہ علاج کا متبادل نہیں ، اس لئے ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر دوائوں میں ردوبدل یا ان کا استعمال نہیں چھوڑنا چاہئے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی ماہر غذائیت ڈاکٹر صبافیصل کے مطابق اس کے بیج آئرن کی کمی کے شکار افراد کے لئے انتہائی سودمند ہیں ۔یہ جوڑوں کے امراض میں فائدہ مندہیں‘ برے کولیسٹرول کو کم کرتے اور دل کے ٹشوز کو نقصان سے محفوظ رکھتے ہیں۔ انہیں یادداشت بڑھانے اوردماغی سکون کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔یہ کم وبیش 300بیماریوں کے علاج میںمعاون ثابت ہوتے ہیں ۔ سہانجناکے خشک پتوں کو پیس کر کیپسول کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ وزن میں کمی لانے کا بھی سبب بنتے ہیں ۔

ماہرین کے مطابق مورنگا کے پتوں میں دودھ سے دو گنا زیادہ پروٹین اور چارگنا زیادہ کیلشیم‘گاجر سے چارگنا زیادہ وٹامن اے‘سنگترے سے سات گنا زیادہ وٹامن سی‘ کیلے سے تین گنا زیادہ پوٹاشیم اور دہی سے دوگنا زیادہ پروٹین پائی جاتی ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اس حیران کن خصوصیات کے حامل درخت کی کاشت کم ہوتی جا رہی ہے۔جنوبی پنجاب میں اگرچہ یہ بہت عام ہے مگراس کا استعمال محض غذائی حد تک ہے اور لوگوں کی اکثریت اس کے دیگر فوائد سے ناآشنا ہے ۔کتنے دکھ کی بات ہے کہ پوری دنیا میں اس کرشماتی درخت کے ڈنکے بج رہے ہیں اور ہم ’’پڑے پارس‘ بیچے تیل‘‘ اور’’چراغ تلے اندھیرا‘‘ کے مصداق اس سے نابلد ہیں۔

سیانے کہتے ہیں کہ صحت مند رہنے کے لئے اولین ترجیح پرہیز کو دینی چاہئے جس کے بعد علاج بالغذا سے مدد لینی چاہئے ۔ دوا کا مرحلہ اس کے بعد کا ہے ۔بہت سی چیزیں بظاہر بہت عام سی لگتی ہیں مگراپنے اندربے شمار فوائد رکھتی ہیں۔آگہی بہت بڑی ضرورت ہے لہٰذا تحاریر‘ریڈیو‘ ٹی وی پروگراموں اور اشتہاری مہموں کے ذریعے باقاعدہ مہم چلانی چاہیے تاکہ لوگوں کو پرہیز اور علاج بالغذا کی طرف لایاجاسکے ۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of