مانع حمل ادویات کب اور کیسے استعمال کریں

219

بچے کی پیدائش کے بعد کچھ عرصے کے لئے وقفہ نہ صرف ماں کی صحت کے لئے مفید ہے بلکہ پہلے بچے کی مناسب دیکھ بھال اورپرورش کے لئے بھی ضروری ہے ۔ اس مقصد کے لئے مندرجہ ذیل طریقے استعمال کئے جاتے ہیںجو خاتون کی عمومی صحت،عمر،کسی خاص مرض یا ضرورت کے مطابق ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال میں لائے جاتے ہیں۔

مانع حمل ادویات
اس مقصد کے لئے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا طریقہ مانع حمل ادویات ہیں جو دوہارمونز ایسٹروجن (Estrogen)اور پروجیسٹیرون(Progesterone) پر مشتمل ہوتی ہیں اور دو قسم(سبز اوربرائون ) کی گولیوں کی شکل میں دستیاب ہوتے ہیں۔ ان گولیوں کو کمبی نیشن پلز( combination pills) اورپروجسیٹرون اونلی پلز(Progesterone only pills) کہا جاتا ہے۔

یہ کس طرح کام کرتی ہیں
لڑکیاں جب بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھتی ہیں تو ان کی بیضہ دانیوں(ovaries) سے ہر ماہ انڈا خارج ہوتا ہے جو حمل ٹھہرنے کی سب سے پہلی اور بنیادی شرط ہے۔ جسم میں کچھ مخصوص ہارمونزانڈے کے اخراج سے متعلق عمل کو کنٹرول کرتے ہیں۔
مانع حمل ادویات نہ صرف بیضہ دانی میں انڈے کی تیاری کو روکتی ہیں بلکہ اس کے ساتھ رحم (uterus) کے اطراف میں پائی جانے والی رطوبتوں کو زیادہ گاڑھا کر دیتی ہیں تاکہ سپرم با آسانی تیر کر انڈوں تک نہ پہنچ سکیں۔ اس کے علاوہ یہ ہارمونز رحم مادرکی اندرونی تہہ(Uterine lining) کی تشکیل کو بھی روکتا ہے جو بیضے کی بارآور(fertilization) کے لیے ضروری ہوتی ہے۔مانع حمل ادویات ایام شروع ہونے کے دوسرے سے پانچویں دن کے درمیان استعمال کرنا شروع کریں اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ مدت تک استعمال کرتی رہیں ۔

ادویات کے منفی اثرات
٭امراض قلب اور ہائی بلڈپریشر کے امراض میں مبتلا خواتین کے لیے ان ادویات کا استعمال نقصان دہ ہوتا ہے۔
٭جن خواتین کو آدھے سر کے درد (Migraine) کی شکایت ہوتی ہے‘ ان کی تکلیف مانع حمل ادویات کے استعمال سے بڑھ جاتی ہے۔
٭ان کے استعمال سے بعض خواتین میں ذہنی و اعصابی تنائو میں اضافہ ہو جاتا ہے اور انہیں جنسی عمل میں کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔
٭ان ادویات کے استعمال سے خواتین کو جسم میں تھکاوٹ اور وزن میں اضافے کی شکایت کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔
٭پیٹ میں درد اور موڈ میں اتار چڑھائو کے ساتھ اکثر متلی کا احساس بھی ہوتا ہے۔

یہ گولیاں چونکہ ڈاکٹری نسخے کے بغیر بھی دستیاب ہوتی ہیں لہٰذا انہیں لیبارٹری ٹیسٹ اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیرہی استعمال کر لیاجاتا ہے۔اگران کے استعمال سے خواتین کو مذکورہ بالا مسائل میں سے کوئی مسئلہ درپیش ہو تو فوری طور پر اپنی معالج سے رابطہ کریں۔

انجکشن کب اور کیوں
وہ خواتین جو اپنی ادویات کے اوقات کی پابندی نہیں کرسکتیں انہیں عموماً انجکشن تجویز کئے جاتے ہیں جو مہینے میں ایک بار یا تین مہینے میں ایک بار لگائے جاتے ہیں۔ان کا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو کچھ یادرکھنا یا کھانا نہیں پڑتا۔

منفی اثرات
مانع حمل انجکشن کے منفی اثرات میں خاتون کے ایام کا متاثر یا بند ہونا اور ہڈیوں کی کمزوری شامل ہیں ۔اس کی بڑی وجہ ایک وقت میںہارمونز کی زیادہ مقدار کا جسم میں داخل ہونا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ انجکشن طویل عرصے تک تجویز نہیں کئے جاتے ۔اگر آپ انجکشن کا آپشن استعمال کرنا چاہتی ہیں تو آپ کے جسم میں وٹامن ڈی اور کیلشیم کی مناسب مقدار ضروری ہے ۔ اس لئے ان کا ٹیسٹ کرالیا جائے ۔

مانع حمل کیپسول
امپلانٹ(implant) مانع حمل کیپسول ہیں جنہیں خاتون کے بازو کے اوپری حصے میں چھوٹا سا کٹ لگا کر رکھ دیا جاتا ہے۔ ان سے حمل روکنے والے ہارمونز خارج ہوتے رہتے ہیں جوبچے کی پیدائش میں وقفے کے لئے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔یہ طریقہ بالکل تکلیف دہ نہیں ہے اورخواتین جب چاہیں اسے نکلوا سکتی ہیں۔

آئی یو ڈی کے جدید طریقے
رحم مادر کے اندر رکھے جانے والا مستقل مانع حمل آلہطب کی زبان میں آئی یوڈی (intrauterine device) کہلاتاہے۔اس مقصد کے لئے استعمال ہونے والے آلات میں کاپر ٹی (Copper T)، ملٹی لوڈ(Multiload) اور مائیرینا (Mirena) شامل ہیں۔کاپر ٹی اور ملٹی لوڈ سادہ،سستے اور مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب مانع حمل آلات ہیںجو پانچ سال تک کا وقفہ دینے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔
حاملہ خواتین ان آلات کو زچگی کے 40 دن کے بعد رکھوا سکتی ہیں ۔کچھ خواتین کو کاپر ٹی اور ملٹی لوڈ کے استعمال سے انفیکشن کے امکانات ہوتے ہیں یاان کے ایام زیادہ طویل ہو جاتے ہیں۔ بالعموم یہ محفوظ ہیں اور مندجہ بالا مسائل کی بڑی وجہ انہیں ٹھیک طرح سے نہ رکھنا ہوتاہے ۔اگر خواتین اپنی صفائی کا خیال رکھیں( جن میں صاف کپڑے،پیڈ اور صاف پانی کا استعمال شامل ہے)‘ شرم گاہ پر جراثیم کش ادویات (antiseptics) اور سپرے یا خوشبودار صابن کے استعمال سے پرہیز کریں تو انفیکشن کے امکانات کم ہو جاتے ہیں ۔
جدید اور سب سے زیادہ محفوظ مانع حمل آلہ مائیریناہے۔یہ اوپر بتائے گئے طریقوں سے تھوڑا مہنگا ضرورہے لیکن اس کی خوبی یہ ہے کہ بچوں کی پیدائش میں وقفے کے علاوہ خواتین کی تولیدی صحت سے متعلق مسائل مثلاً ایام کے دوران خون کے زیادہ بہنے وغیرہ کے حل میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
مائیرینا کے موثر رہنے کی مدت سات سال تک ہے اورخواتین جب چاہیں اسے نکلوا بھی سکتی ہیں۔اسے منع حمل کا قابل منسوخ مستقل طریقہ(Reversible permanent method) بھی کہا جاسکتا ہے۔دوسرے لفظوں میں یہ حمل کے امکانات کو تقریباً ختم ہی کر دیتا ہے ۔

آلات رکھوانے کا صحیح وقت
جو خواتین ان آلات کو جسم میں رکھوانا چاہتی ہیں‘ وہ ماہر زچہ وبچہ کے مشورے سے ضروری لیبارٹری ٹیسٹ کے بعدایام ختم ہونے کے اگلے ہی دن رکھوا لیں۔البتہ مانع حمل ادویات ایام شروع ہونے کے دوسرے سے پانچویں دن کے درمیان استعمال کرنا شروع کی جاسکتی ہیں اور ڈاکٹر کی تجویز کرنے تک چلتی رہیں گی۔
مندرجہ بالا آلات رکھوانے کے بعدپہلی دفعہ ایام کے اختتام پر ضرور چیک کروائیں تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ وہ اپنی جگہ پر صحیح طرح سے بیٹھ گئے ہیں یا نہیں ۔ اسی طرح سالانہ چیک اپ بھی ضرور کروائیں۔

حمل روکنے کافطری طریقہ
٭ بچے کو اپنا دودھ پلانا حمل روکنے کا فطری طریقہ ہے جو زچگی کے فوراً بعد پہلے چھ ماہ تک کے عرصے کے لیے بہت موثر ہے بشرطیکہ کچھ بنیادی شرائط پر عمل کر لیا جائے۔ اس کے نہ صرف ضمنی اثرات نہیں ہوتے بلکہ ماں اور بچے دونوں کی صحت پر مثبت اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔اگر چھ ماہ کا عرصہ گزر چکا ہو تو ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق منع حمل کے لیے کوئی مفید طریقہ استعمال کیا جاسکتا ہے ۔
٭ایام کے 12ویںسے 15ویں دن تک آپ ازدواجی تعلق سے پرہیز کریں لیکن واضح رہے کہ اس کے باوجود حمل ٹھہرنے کے امکانات کو 100فی صد ختم نہیں کیا جا سکتا‘ اس لئے کہ اخراج بیضہ (ovulation) کے دن تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
٭آخری اور حتمی طریقہ آپریشن ہے جو بچے کی پیدائش کو روکنے کا مستقل حل ہے۔ اس میں سرجری کی مدد سے بیضہ دانی کی نالیوں کو بند کردیا جاتا ہے جنہیں دوبارہ کھولا نہیں جاسکتا ہے۔
مندرجہ بالا طریقوں کا کوئی بھی ایسا مضر اثر نہیں ازدواجی تعلقات کو متاثر کرے یا شرم گاہ کی کسی بیماری یا تکلیف کا باعث بنے۔مانع حمل طریقوں کے منفی اثرات اگر ہوں تو وہ وقتی ہوتے ہیں اور ان کا استعمال بند کرتے ہی جسمانی نظام معمول پر آجاتا ہے۔
نوٹ: اگر بچوں کی پیدائش میں وقفے کے متعلق کوئی ابہام ہو تو ماہر امراض زچہ وبچہ (gynecologist)سے لازماً رابطہ کریں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

    ماں بننا شادی شدہ خواتین کے لئے زندگی کا بہت ہی خوش

کئی دنوں سے آمنہ کی طبیعت میں عجیب سی بے چینی تھی۔ اسے ہ

During pregnancy, women are battling various issues like mood swings at varying levels, fatigue and

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of