اسپرین کی ایجاد

اسپرین کی ایجاد

بید کے درخت کی کم ازکم 400قسمیں ہیں۔ اس کی شاخیں بہت لچکدارہوتی ہیں لہٰذا ان سے کرسیاں اوردیگرفرنیچربنایا اوربُناجاتا ہے۔ قدیم زمانےمیں لوگوں کومشاہدات اورتجربات سے معلوم ہوا کہ اس درخت کی چھال کوپیس یا اُبال کرعرق نکال لیا جائے تو یہ کئی بیماریوں میں فائدہ مند ثابت ہوتا ہے ۔ 19ویں صدی میں ہمیں معلوم ہوا کہ اس کے چھلکوں میں سیلسن ہوتی ہے جوآج کی اسپرین کا نقطہ آغاز ہے۔

بائیرایک جرمن کمپنی ہے جورنگ سازی کی صنعت سے وابستہ تھی۔ 1890 میں اس کے ایک سائنسدان نے پہلی دفعہ یہ دوا تیارکی۔ جلد ہی اسے بخاراورمختلف دردوں، خصوصاً سرمیں درد اورگٹھئے کے بخار کے علاوہ جوڑوں اورپٹھوں کے درد سے نجات کے لئے بھی استعمال کیاجانے لگا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسپرین کی مقبولیت بڑھتی گئی۔ بائیرنے اسے ایجاد کیا تھا لہٰذا اس کے جملہ حقوق اُسی کے پاس تھے جوکئی برس تک محفوظ رہے۔ جب یہ ختم ہوگئے تواس کی مقبولیت کئی گنابڑھ گئی۔

 اسپرین کو 1950 میں گینزبک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق مقبول ترین دوا قراردیا گیا ۔ایک اندازے کے مطابق دنیا بھرمیں ہرسال اسپرین کی 100ارب سے زیادہ گولیاں بکتی ہیں ۔1999 سے 2003 کے دوران اس کے استعمال میں مزید 20 فی صد اضافہ ہوجس کا سبب اس کی نئی خاصیتوں کا سامنے آنا ہے۔

willow, rheumatic fever, invention of aspirin

Vinkmag ad

Read Previous

بالوں کا گرنا

Read Next

موسم سرما کی گرم سوغاتیں

Leave a Reply

Most Popular