بالوں کا گرنا

1

بالوں کا گرنا

بالوں کی زندگی تین ادوارپرمشتمل ہے۔ ان میں سے پہلا ان کی بڑھوتری، دوسرا سرپربرقراررہنا اورتیسرا گرجانا ہے۔ کچھ عوامل کے باعث بال اپنی زندگی کا یہ چکر پورا نہیں کر پاتے اوروقت سے پہلے ہی گرجاتے ہیں۔ اس کی وجوہات عارضی بھی ہوسکتی ہیں اورمستقل نوعیت کی بھی۔

غذاء میں پروٹین کی مقدارکم ہونے سے بالوں کی بڑھوتری کا عمل متاثرہوتا ہے۔ وٹامن بی کی کمی بھی اس کی ایک وجہ ہو سکتی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ غذاء میں مچھلی، گوشت اورنشاستہ دارسبزیوں کا استعمال متواترکیا جائے۔ خشک میوہ جات اورناشپاتی بھی اس حوالے سے فائدہ مند ہیں۔ بعض اوقات غذائی زیادتی بھی اس مسئلے کی وجہ بن سکتی ہے مثلاً وٹامن اے کی زیادتی سے بال گرنے لگتے ہیں۔

 کیسے بچائیں

اس حوالے سے خوراک کا کرداربہت اہم ہے۔ غیر صحت بخش خوراک (مثلاً جنک فوڈ، پروسیسڈ فوڈ اورزیادہ تلی ہوئی چیزوں) سے پرہیز کریں۔ ایسی غذاء کا استعمال جس میں وٹامن بی اورپروٹین کی بکثرت مقدار پائی جائے(مثلاً گوشت، دالیں، ہرے پتوں والی سبزیاں، انڈے، دہی  وغیرہ) بالوں کی صحت کے لئے فائدہ مند ہے۔ اگر بال قدرتی طور پرہی پتلے ہوں تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ بال موٹے ہونا ان کی اچھی صحت کی علامت نہیں ہے۔

 بال موٹے ہوں تو ایسا نہیں کہ وہ گریں گے ہی نہیں۔ عموماً جتنے بال گرتے ہیں ان کی جگہ لینے کے لئے اتنے ہی اگ بھی جاتے ہیں۔ روزانہ 50 سے 100 بالوں کا گرنا نارمل ہے لہٰذا بے جا پریشان نہ ہوں۔ بالوں کی صحت کے حوالے سے دیگر پہلوؤں کی تفصیل یہ ہے

تیل سے مساج

کچھ خواتین سمجھتی ہیں کہ تیل سے مساج بالوں کو گرنے سے بچا تا ہے مگر ایسا بالکل نہیں ہے۔ مساج کرنے سے جن بالوں نے ایک ماہ میں گرنا تھا‘ وہ ایک دن میں ہی گرجائیں گےکیونکہ مساج سے پیدا ہونے والی رگڑ انہیں فوراً جلد سے الگ کردیتی ہے۔ تیل کا مساج ان میں خون کی روانی کو توبہتر کرسکتا ہے لیکن اسے گرتے بالوں کا علاج سمجھ لینا ٹھیک نہیں ۔ بالوں کی جلد میں جڑوں کے ساتھ قدرتی طورپر تیل موجود ہوتا ہے جس کی چکنائی انہیں نرم بناتی اورگرنے سے روکتی ہے۔

شیمپواورکنڈیشنرکا استعمال

شمپوخریدتے وقت اس کا پی ایچ لیول ذہن میں رکھیں۔ سر کے بالوں کی جڑوں میں بننے والے چکنے مادے کا پی ایچ 4.5 سے 5.5 کے درمیان ہوتا ہے۔اس طرح پیدا شدہ قدرتی تیزابیت فنگس اوربیکٹیریا کو سرکی جلد پرحملہ کرنے سے روکتی اوربالوں کو روکھا ہونے سے بچاتی ہے۔ بالوں کے لئے استعمال ہونے والی کچھ مصنوعات اس پی ایچ لیول کو ڈسٹرب کردیتی ہیں۔ آج کل مارکیٹ میں بالوں کی مخصوص ساخت کے مطابق شیمپواورکنڈیشنردستیاب ہیں۔ یہ چونکہ بالوں کے پی ایچ لیول کو مدنظررکھ کربنائے جاتے ہیں لہٰذا بالوں کے لئے نقصان دہ نہیں۔ اگر شیمپو معیاری ہو تو روزانہ بال دھونے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ شیمپو قلمی خصوصیت کا حامل ہوتا ہے اورکنڈیشنراس کے اثرات کو معتدل کردیتا ہے۔ لہٰذا شیمپو کے بعد اس (کنڈیشنر) کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں۔ سرکہ کنڈیشنرکا بہترین قدرتی بدل ہے۔ ایک طرف یہ شیمپو کے قلمی اثرات کوکم کرتا ہے تو دوسری طرف ان میں چمک بھی پیدا کرتا ہے۔ بال دھونے کے بعد ان پر سرکہ لگا کردھو لیں۔ اس سے بال سمٹے ہوئے اورچمک دار لگنے لگیں گے۔

بالوں کی اچھی صحت کے لئے آملہ، ریٹھا اورسکاکائی کا استعمال برسوں سے چلا آرہا ہے جس کی تائید میڈیکل سائنس بھی کرتی ہے۔ بالوں کو گرنے سے روکنے اور ان میں چمک پیدا کرنے کے لئے کیمیکلز کی بجائے قدرتی اجزاء کا استعمال بہترنتائج سامنے لا سکتا ہے۔

hair fall, how to prevent hair fall, tips to prevent hair fall

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x