لیڈی برڈ

باغوں میں یا پودوں کے قریب اکثر سرخ رنگ کے کیڑے نظر آتے ہیں جن کے جسم پر سیاہ نقطے ہوتے ہیں۔ انہیں لیڈی برڈ یا سرخ بھنورے کہتے ہیں۔ بھنوروں کی پانچ ہزار سے زائد اقسام ہیں اور ہر قسم کا رنگ اور ظاہری صورت مختلف ہوتی ہے۔ یعنی یہ سرخ کے علاوہ نارنگی، زرد، بھورے یا سیاہ ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح کچھ کے پروں پر سیاہ نقطے ہوتے ہیں، کسی پر موٹی لکیریں ہوتی ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن پر کوئی نشان نہیں ہوتا۔ تاہم ان میں زیادہ عام سرخ رنگ کے  بھنورے ہی ہیں۔

اردو میں بھنورے سے یوں لگتا ہے کہ سب مذکر اور انگریزی میں لیڈی برڈ سے محسوس ہوتا ہے کہ سبھی مؤنث ہیں لیکن ایسا نہیں۔ ان میں نر اور مادہ دونوں ہوتے ہیں۔ یہ عموماً انسانوں کو نہیں کاٹتے تاہم انہیں زیادہ تنگ کیا جائے تو کاٹ بھی سکتے ہیں۔ ان کے کاٹنے سے کوئی بیماری نہیں ہوتی مگر الرجک ری ایکشن ہو سکتا ہے۔

لیڈی برڈ سے متعلق دلچسپ معلومات

٭ان کا جسم بیضوی شکل کا ہوتا ہے۔ ان کے پاس پروں کے دو جوڑے جبکہ چھ ٹانگیں ہوتی ہیں۔ ان کا سائز 0.8 سے 10 ملی میٹر تک ہوتا ہے۔

٭یہ عموماً ایک سال یا زیادہ سے زیادہ دو سال تک زندہ رہتی ہیں۔

٭ایک اندازے کے مطابق ایک بھنورا اپنی پوری زندگی میں تقریباً پانچ ہزار کیڑے کھاتا ہے۔ تاہم کچھ بھنورے پودوں کو بھی کھاتے ہیں۔

٭ناسا کی جانب سے بھنوروں کو خلاء میں بھی بھیجا جا چکا ہے۔ اس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ کشش ثقل کی غیر موجودگی میں یہ اپنا تحفظ کیسے کرتے ہیں۔

٭یہ گرمیوں اور بہار میں زیادہ متحرک ہوتے ہیں۔ جب موسم ٹھنڈا ہونے لگتا ہے تو کسی ایسی جگہ پر جمع ہوجاتے ہیں جہاں لوگوں کا زیادہ آنا جانا نہ ہو۔ یہ عموماً چٹانوں کے نیچے، سڑے ہوئے درخت کے تنوں میں یا بعض اوقات غیر آباد گھروں کے اندربھی ہزاروں کی تعداد میں اکٹھے ہوجاتے ہیں۔

لائف سائیکل

٭لیڈی برڈز اپنے انڈے پتوں کے پیچھے والی جگہ پر دیتی ہیں۔ انڈوں کا سائز اور رنگ بھی ان کی قسم کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔ یہ انڈے تین مراحل سے گزرتے ہیں۔ پہلے یہ لاروا میں تبدیل ہوتے ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہے جب یہ سنڈی (caterpillar) کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ اس دوران ان کی جلد تین سے چار مرتبہ اترتی اور اس کی جگہ نئی بن جاتی ہے۔ جب ان کے گرد ایک خول بن جاتا ہے تو اس مرحلے میں انہیں پیوپا کہتے ہیں۔ پیوپا کے بعد یہ بالآخر بھنورے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

٭بعض اوقات یہ ایسے انڈے دیتے ہیں جن سے بچے نہیں نکلتے تاکہ بوقت ضرورت وہ کھانے کے ذریعے کے طور پر استعمال ہو سکیں۔

لیڈی برڈ،لائف سائیکل-شفانیوز

لیڈی بیٹل 

بھنوروں کو’’ لیڈی بیٹل‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ انہیں یہ نام دینے کا سبب ایک کہانی بیان کی جاتی ہے۔ کہاجاتا ہے کہ پرانے وقتوں میں جب دیمک اور کیڑے مکوڑوں نے فصلوں کو تباہ کرنا شروع کیا تو کسانوں نے حضرت مریم علیھا السلام سے مدد مانگتے ہوئے دعا کی۔ اس دعا کے نتیجے میں بھنورے آئے اور فصلوں کو تباہ کرنے والے کیڑوں کا خاتمہ کر دیا۔ لہٰذا انہیں "Beetle of our Lady” کا نام دیا گیا کیونکہ کسانوں کے مطابق یہ انہی کی طرف سے آئے تھے۔ بعد میں یہ نام چھوٹا ہو کر لیڈی بیٹل بن گیا۔

شکاریوں سے بچاؤ

٭عموماً پرندے ہی لیڈی برڈ کا شکار کرتے ہیں تاہم مینڈک، بھڑیں، مکڑیاں اور پتنگے وغیرہ بھی انہیں کھا سکتے ہیں۔

٭خطرے کی صورت میں یہ ٹانگوں میں موجود جوڑوں سے تیل نما زرد رنگ کا بد ذائقہ مادہ خارج کرتے ہیں۔ اس سے شکاری کو یہ پیغام جاتا ہے کہ انہیں کھانا اس کے لئے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ یا پھر یہ اس کے لئے بد ذائقہ ہوں گے۔

٭خطرے سے بچنے کے لئے یہ بعض اوقات مرنے کا دکھاوا بھی کرتے ہیں۔

بھنوروں سے متعلق تصورات

٭بھنوروں کے حوالے سے مختلف طرح کے خیالات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ کسی بیمار شخص پر بیٹھ جائیں تو اس کی بیماری دور ہوجائے گی۔ اسی طرح کچھ ثقافتوں میں انہیں اچھی قسمت یا خوشخبری سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ مثلاً اگر یہ کسی عورت کے ہاتھ پر چلیں تو یہ اشار ہ ہے کہ عنقریب اس کی شادی ہو جائے گی۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ اگر انہیں جان بوجھ کر مارنے کی کوشش کی جائے تو یہ آپ کو بددعا بھی دے سکتے ہیں جس سے آپ کو بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔

Vinkmag ad

Read Previous

کلر بلائنڈنیس

Read Next

حمل میں متلی اور قے کی شکایت

Leave a Reply

Most Popular