کلر بلائنڈنیس

کائنات کی خوبصورتی اس کے رنگوں سے ہے جنہیں دیکھنے کے لئے قدرت نے ہمیں آنکھوں کا انمول تحفہ دیا ہے۔ آنکھوں میں دو طرح کے خلیے ہوتے ہیں۔ یہ رنگوں کو دیکھنے اور چیزوں کی شکل اور سائز جانچنے میں مدد دیتے ہیں۔ رنگ دیکھنے والے خلیوں کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کی عدم موجودگی سے رنگوں میں فرق کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ اسے کلر بلائنڈنیس (color blindness) کہتے ہیں۔

اس کے شکار افراد کچھ ایسے رنگوں میں فرق کی صلاحیت رکھتے ہیں جو عام لوگوں کے لئے ممکن نہیں۔ ایسے ہی کچھ افراد کو دوسری جنگ عظیم میں دشمن کے کیموفلاج حصوں کو دیکھنے کے لئے نہایت کامیابی سے استعمال کیا گیا تھا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آنکھوں کو رنگ کیسے نظر آتے ہیں؟ روشنی کی شعائیں جب کسی چیز پر پڑتی ہیں تو وہ ایک رنگ کو چھوڑ کر باقی سب کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے۔ جب غیرجذب شدہ رنگ کی روشنی منعکس ہو کر آنکھوں کی طرف پلٹتی ہے تو یہ اس کی شناخت کرتی ہیں۔ آنکھوں کی اس صلاحیت کی بدولت ہمیں تصویر کائنات میں مختلف رنگ دکھائی دیتے ہیں۔

کلر بلائنڈنیس کی اقسام

اس کی تین اقسام ہیں:

٭پہلی قسم کے شکار افراد کو عموماً سرخ رنگ کے عکس دھندلے اور غیر واضح نظر آتے ہیں۔یہ لوگ سرخ اور سبز میں فرق نہیں کر پاتے۔

٭دوسری قسم کے شکار افراد کو زرد اور نیلے رنگ کی چیزیں ایک جیسی دکھائی دیتی ہیں۔

٭تیسری قسم سے متاثرہ افراد کو تمام رنگ سفید اور سیاہ نظر آتے ہیں۔

کلر بلائنڈ افراد کے لئے غیر موزوں پیشے

متاثرہ افراد کی اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے لئے کچھ پیشے غیر موزوں ہوتے ہیں مثلاً جہاز اڑانا، بجلی کا کام کرنا، ریل گاڑی چلانا، فیشن اور ڈیزائننگ، پیشہ ورانہ رنگ سازی اور آگ بجھانا وغیرہ۔

مرد زیادہ متاثر کیوں

برطانیہ میں کلربلائنڈ اویرنس کے نام سے ایک ادارہ ہے جو اس کیفیت سے متعلق آگاہی پھیلاتا ہے۔ اس کے مطابق دنیا بھرمیں ہر 12 مردوں میں سے ایک مرد جبکہ ہر 200 عورتوں میں سے ایک عورت اس مسئلے کا شکار ہوتی ہے۔ مردوں میں ایکس وائی اور عورتوں میں ایکس ایکس کروموسوم پائے جاتے ہیں۔

یہ مرض موروثی ہو تو اس کا سبب ایکس کروموسوم میں موجود رنگوں کی شناخت کرنے والے جین کا نقص ہے۔ اس کے برعکس عورت کے ایک ایکس کروموسوم میں خرابی ہو بھی جائے تو دوسرے کی صحیح حالت میں موجودگی اسے اس مرض میں مبتلا ہونے سے بچا لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مردوں میں اس کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔

مرض کا علاج

موروثی مرض کا کوئی علاج نہیں۔ البتہ اگر یہ کسی دوسری بیماری یا دوا کے مضر اثرات کی وجہ سے ہو تو علاج ممکن ہے۔ اس کے لئے مختلف طریقے جیسے رنگین فلٹرز اور کنٹیکٹ لینز استعمال کئے جاتے ہیں۔ ان سے رنگوں کو چمکیلا اور بڑھکیلا کر کے مریض کو رنگوں کی شناخت کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔ رنگوں میں فرق نہ کر سکنے سے فرد کی عمومی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ تاہم بینائی کے حوالے سے اگر کوئی اور مسئلہ درپیش ہو تو ماہر امراض چشم سے رجوع کرنا چاہئے۔

اپنی زندگی کو آسان کرنے کے لئے اس مرض کے شکار افراد ان ہدایات پر عمل کریں:

٭گھر پر موجود ان رنگین چیزوں پر لیبل لگائیں جنہیں شناخت کرنے میں انہیں مشکل پیش آتی ہے۔

٭چیزوں کو رنگ کے بجائے ان کی ترتیب سے یاد رکھیں۔

٭ایسے ماہرین کی خدمات حاصل کریں جو مناسب تربیت اور مشقوں سے قدرتی طور پر اس صلاحیت کو بہتر بنا سکیں۔

Vinkmag ad

Read Previous

MYTH: Starving helps lose weight

Read Next

لیڈی برڈ

Leave a Reply

Most Popular