تاریخ کے انوکھے ذرائع

0

تاریخ کے انوکھے ذرائع

جب کوئی جاندارمرتا ہے تو اُس کے جسم پر مختلف طرح کے جراثیم حملہ آور ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ یہ جرثومے جسم کے بعض حصوں میں بھی کثیرتعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ان سے لڑنے کے لئے زندہ جانوروں کے اندر ایک طاقتور مدافعتی نظام موجود ہوتا ہے‘ تاہم ان کے مرتے ہی وہ نظام بھی دم توڑ دیتا ہے۔ ایسے میں جراثیم ان کے اجسام پر پِل پڑتے ہیں اور چند ہی دنوں میں نعش گل سڑ جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ زندگی کے لئے پانی ناگزیر ہے ۔ جبکہ موت کے بعد نعشوں سے نمی کو ختم کر دیا جائے تو ان کے گلنے سڑنے کا عمل بھی رک جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پھل اور گوشت وغیرہ کو خشک کر کے کئی کئی ہفتوں بلکہ مہینوں تک استعمال کیا جاسکتا ہے۔

فاسلز کیا ہیں؟

جانوروں کے اجسام میں کچھ ایسے اعضاء بھی ہوتے ہیں جن میں نمی نہیں ہوتی یا جراثیم انہیں کھانہیں سکتے۔ اس طرح کی ثقیل چیزیں (مثلاً ہڈیاں اوربال وغیرہ) ختم ہونے سے بچی رہتی ہیں اور ہزاروں سال بعد اردگرد کی مٹی وغیرہ پتھریلی سانچہ بنا کر انہیں ڈھانپ لیتی ہیں ۔اس طرح ڈھکی ہوئی چیز لاکھوں نہیں‘ کروڑوں سال کے لئے محفوظ ہو جاتی ہے۔ یہ اشیاء فاسلز  کہلاتی ہیں جبکہ اس قدرتی عمل کو فاسل سازی کہا جاتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق آج سے تقریباً ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے زمین کے ساتھ ایک بڑا تودہ ٹکرایا جس سے اس وقت کے تقریباً 99 فی صد حیوانات اور نباتات جل کر راکھ ہو گئے یا مر گئے۔ ان جانوروں کے جسمانی اعضاء فاسلز کی صورت میں کئی جگہ موجود ہیں۔ آج خوردبینی جانداروں سے لے کر ٹرک جتنے دیو ہیکل جانوروں تک کے فاسلز دریافت ہو چکے ہیں۔ سب سے بڑے جانور ڈائنوسار کے ماڈلز اور فلمیں تو ہماری روزمرہ زندگی کا اہم جزو ہیں۔

فاسلز سے ہمیں ماضی کے انسانوں کی کیفیات‘ حالات اور رہن سہن کے بارے میں گراں قدر معلومات حاصل ہوتی ہیں۔انہیں دریافت کرنے اور  گہرائی سے مطالعہ کر کے معلومات فراہم کرنے والے سائنسدان سراغ رسانوں سے کم نہی

Fossils, source, history, importance

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x