مردوں میں بانجھ پن کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ، امریکہ کے مطابق بانجھ پن کے تمام کیسز میں سے 40 سے 50 فی صد کا تعلق مردوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ مردوں میں بانجھ پن کی  علامات خصیوں کے گرد درد، سوجن، گلٹی یا جنسی عمل کے دوران مسائل پیش آنے کی صورت میں ظاہر ہو سکتی ہیں۔ بعض اوقات ان میں کوئی بھی علامت نہیں پائی جاتی۔ خواتین کی طرح مردوں میں بھی بانجھ پن کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔

ان میں سب سے پہلے تولیدی اعضاء کا معائنہ کیا جاتا ہے اور میڈیکل ہسٹری لی جاتی ہے۔ مثلاً وہ کسی ایسی بیماری کے شکار تو نہیں جو اس عمل میں رکاوٹ پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ٹیسٹ کیے جاسکتے ہیں:

مادہ تولید کا جائزہ

مادہ منویہ کا نمونہ لے کر جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے سپرمز کی تعداد، حرکت اور ہیئت کے علاوہ انفیکشن کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ اگر پہلے اولاد ہو چکی ہو تو بھی ایسا کرنا ضروری ہے۔

خصیوں کی تھیلی کا الٹرا ساؤنڈ

خصیوں یعنی ٹیسٹیکلز کی تھیلی کے الٹرا ساؤنڈ سے اس کے اندر موجود وریدوں اور خصیوں میں مسائل کی جانچ کی جاتی ہے۔

پروسٹیٹ اورنالیوں کا معائنہ

ایک چھوٹا سا آلہ مقعد کے اندر داخل کر کے پروسٹیٹ کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مادہ تولید کو منتقل کرنے والی نالیوں میں رکاوٹ کو بھی دیکھا جاتا ہے۔

ہارمونز کی جانچ

پچوٹری گلینڈ، ہائپو تھیلمس اورخصیوں سے خارج ہونے والے ہارمونز جنسی نشوونما اور مادہ تولید بنانے میں مدد یتے ہیں۔ ان ہارمونز کی مقدار معلوم کرنے کے لیے خون کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔

جینیاتی اسباب کی تشخیص

جینیاتی مسائل یا کچھ پیدائشی بیماریوں کے باعث مادہ تولید کی تعداد غیر معمولی طور پر کم ہو سکتی ہے۔ ان مسائل کی جانچ کے لیے خون کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔r

Vinkmag ad

Read Previous

جعلی و غیر معیاری ادویات کی فروخت کا انکشاف

Read Next

چکن پاکس

Leave a Reply

Most Popular