ڈاؤن سینڈروم

ڈاؤن سینڈروم ایک موروثی مرض ہے۔ اس کے شکار بچوں میں کسی جینیاتی نقص کے باعث کروموسومز کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ مثلاً عام طور پر انسانی جسم کے ہر خلیے میں کروموسومز کے 23 جوڑے ہوتے ہیں یعنی ان (کروموسومز) کی کل تعداد 46 ہوتی ہے۔ اگر کسی جوڑ ے میں اضافی کروموسوم شامل ہو جائے تو اس کی ہیئت تبدیل ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشونما متاثر ہوتی ہے۔حمل کے دوران الٹراساؤنڈ اور کروموسومز کو چیک کرنے والے کچھ ٹیسٹوں سے مرض کی تشخیص ہو جاتی ہے۔

ڈاؤن سینڈروم کی وجوہات کیا ہیں

اس حوالے سے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ تاہم بچوں میں ڈاؤن سینڈروم کے خطرے کو کم یا زیادہ کرنے میں ماں کی عمر اہم کردار ادا کرتی ہے۔ 35 سال سے زائد عمر کی خواتین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں میں اس مرض کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے بعد جیسے جیسے عمر بڑھتی جاتی ہے، اس کے خدشات بھی بڑھتے جاتے ہیں۔ پہلا بچہ ڈاؤن سینڈروم کا شکار ہو تو دوسرے حمل کے دوران والدین کو چاہیے کہ اپنے جینز کے ٹیسٹ کرائیں۔

علامات کیا ہیں

مرض کے اثرات ہر بچے میں مختلف ہو سکتے ہیں۔ ان میں بعض کی ذہنی پسماندگی کم اور کچھ کی زیادہ ہوتی ہے۔ اس کا انحصار مرض کی شدت پر ہوتا ہے۔ پٹھے اور جوڑ ڈھیلے ہونے کے باعث انہیں چلنے اور اٹھنے بیٹھنے میں معمول سے زیادہ وقت لگتا ہے۔ ان میں ظاہر ہونے والی دیگر علامات یہ ہیں:

٭چہرہ اور ناک چپٹا ہونا۔

٭سر، کان، گردن اور ہاتھ پاؤں چھوٹے ہونا۔

٭ہاتھ چوڑے اور انگلیوں کا سائز چھوٹا ہونا۔

٭گردن کے پچھلے حصے پر زیادہ جلد ہونا۔

٭آنکھیں ترچھی اور باہر کی طرف مڑی ہونا۔

٭ہتھیلی کے درمیان میں ایک ہی لکیر ہونا جو دائیں سے بائیں کونے تک جاتی ہے۔

٭زبان موٹی یا باہر کو نکلی ہونا۔

٭پاؤں کے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی کے درمیان فاصلہ زیادہ ہونا۔ اسے سینڈل گیپ بھی کہتے ہیں۔

سینڈل گیپ-ڈاؤن سینڈروم-شفانیوز

مرض کی پیچیدگیاں اور علاج

ان بچوں میں عام طور پر پائی جانے والی بیماریاں پیدائش کے فوراً بعد یا کچھ وقت گزرنے کے بعد سامنے آتی ہیں۔ مثلاً دل میں سوراخ،  دل کے والو کا تنگ ہونا، نظر اور سماعت کی کمزوری، پیدائشی سفید موتیا، قبض، مرگی اور خون کا سرطان۔ انہیں تھائی رائیڈ، پھیپھڑوں اور آنتوں کے مسائل بھی ہو سکتے ہیں۔

یہ بچے دل کےعارضے اور خون کے سرطان میں مبتلا نہ ہوں تو 50 سے 60 سال کی عمر تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ ابھی تک اس بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے دیگر امراض کا علاج ممکن ہے۔

والدین کے لیے ہدایات

پیدائش سے پہلے ہی اس مرض کی تشخیص ہو جاتی ہے لہٰذا والدین اس سے متعلق معلومات حاصل کریں۔ اس سے انہیں بچوں کی اچھے انداز میں دیکھ بھال کرنے میں مدد ملے گی۔ بچوں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے دیگر پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے ان باتوں پر عمل کریں:

٭بچوں کے ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں تاکہ دیگر پیدائشی بیماریوں کےبارے میں معلوم کیا جا سکے۔

٭ان کی سیکھنے اور بولنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لئے سپیچ اور فزیوتھیراپسٹ کی مدد لیں۔

٭انہیں کپڑے بدلنے اور کھانا کھانےجیسے چھوٹے موٹےکاموں کی تربیت دیں تاکہ یہ معمولی کام خود کر سکیں۔

٭عام بچوں کے مقابلے میں انہیں سردی اور انفیکشن سے زیادہ بچائیں۔

٭انہیں کھیل کود اور دیگر سرگرمیوں میں شامل کریں۔

٭یہ عموماً خوش اخلاق اور ملنسار ہوتے ہیں۔ ان سے گفتگو کر کے اس صلاحیت کو مزید نکھاریں تاکہ یہ لوگوں میں گھلتے ملتے رہیں۔

٭یہ بچے اداسی، شرمندگی اور مایوسی جیسے جذبات کا اظہار الفاظ کے بجائے رویے سے کرتے ہیں۔ اس لیے ان کے رویے میں تبدیلی کو نظر انداز نہ کریں۔

٭بچوں کی صلاحیت اور مرض کی شدت کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے کہ یہ عام بچوں کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں یا انہیں خاص سکول کی ضرورت ہے۔ وہ بچے جن میں اس مرض کی شدت کم ہو، انہیں الگ پڑھائیں تاہم لنچ بریک، کھیل کود اور ہم نصابی سرگرمیاں اکٹھی کروائیں۔

٭ان کی صلاحیتوں کے مطابق انہیں ہنر سکھائیں تاکہ یہ معاشرے کے کارآمد شہری ثابت ہو سکیں۔

گھر میں ایسا ماحول بنائیں کہ یہ بچے احساس کمتری کا شکار نہ ہوں۔ انہیں معاشرے کے دیگر افراد کی طرف سے مذاق اڑانے یا دلآزاری سے بچانے کی بھی ہر ممکن کوشش کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

بچوں کو رنگوں اور چیزوں کی پہچان کیسے کروائیں

Read Next

Beat diabetes before it beats you

Leave a Reply

Most Popular