ڈی ٹاکس کے نقصانات

2

ڈی ٹاکس کے نقصانات

٭ڈی ٹاکس ڈائٹ کا اہم جزو پھلوں اورسبزیوں کا جوس ہے۔ اس ڈائٹ کی تیاری میں ان کا رس نکال کرفائبرضائع کر دیا جاتا ہے۔ فائبر کھانے سے نہ صرف پیٹ بھرتا ہے بلکہ بلڈ شوگربھی کنٹرول میں رہتی ہے۔ اس لئے محدود مدت کے لئے اس پروگرام پر عمل کرنے میں حرج نہیں لیکن معمول کچی سبزیوں اورپھلوں کے استعمال کو ہی بنایا جائے۔

٭اس ڈائٹ کواگر لمبے عرصے تک معمول بنا لیا جائے تو جسم میں اہم معدنیات اوروٹامنز کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔ لہٰذا اسے کسی ماہرکی نگرانی میں محدود مدت کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔

٭یہ آنتوں کی صفائی کے ساتھ ساتھ ہاضمے کو بہتررکھنے والے بیکٹیریا کا خاتما کرتی ہے۔ ہاضمے کے بگاڑ کی صورت میں پیٹ میں درد‘اُپھارا اورمتلی وغیرہ کی شکایت ہوسکتی ہے۔ایسے میں اس کا استعمال روک دیں۔

٭اس پروگرام کے ضمنی مضراثرات میں بھوک لگنا‘چڑچڑا پن، تھکاوٹ اورجلن کے ساتھ پاخانہ آنا شامل ہیں ۔مزید برآں دل‘شوگر یا کسی موذی مرض میں مبتلا مریضوں کے علاوہ حاملہ خواتین‘ دودھ پلانے والی ماؤں اوربڑھتی عمر کے بچوں کو بھی اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔

اگرچہ وزن گھٹانا یا جسم سے مضرصحت زہریلے مادوں کی صفائی بالکل درست بات ہے مگراسے ماہرغذائیات کی نگرانی میں ہی کرنا بہتر ہے۔ اس سے بھی بہتر ہے کہ ایسا طرز زندگی اپنائیں جس میں ایسی چیزوں کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ ڈی ٹاکس جیسی غذاؤں پر بہت زیادہ انحصارکرنے کی بجائے ان باتوں پرعمل کریں

٭بلاناغہ ورزش کریں۔

٭پھلوں اورسبزیوں کا جوس نکالنے کی بجائے انہیں اپنی اصلی حالت میں استعمال کریں۔

٭دیسی ہلدی کھائیں۔

٭سبز قہوہ کا استعمال کریں۔

٭ریشہ دارغذائیں کھائیں۔

٭وافرمقدارمیں اورصاف پانی پئیں۔

Detox diet disadvantages, alternative to detox diet

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x