ڈرماٹائٹس

ڈرماٹائٹس جلد کی ایک عام کیفیت ہے جس میں اس پر سوزش اور سوجن ہو جاتی ہے۔ اس کی مختلف اقسام ہیں۔ یہ جسم کے مختلف حصوں کو متاثر کرتی ہیں اور ان کی وجوہات بھی مختلف ہیں۔

ڈرماٹائٹس کی سب سے عام وجہ الرجی یا سوزش کا سبب بننے والے کسی عامل سے رابطہ ہونا ہے۔ مثلاً پرفیوم، لوشن اور نقلی چاندی (nickel) کے حامل زیورات وغیرہ۔ اس کی دیگر وجوہات میں جلد کا خشک ہونا، وائرل یا بیکٹیریل انفیکشن، سٹریس، جینیاتی مسائل اور مدافعتی نظام کی خرابی شامل ہیں۔

ڈرماٹائس کی علامات

٭متعلقہ حصے پر خارش اور درد ہو سکتا ہے۔

٭جلد چھلکوں والی ہو جاتی ہے۔

٭جلد پر دھپڑ ہوتے ہیں جو مختلف رنگوں کے ہو سکتے ہیں۔

٭آبلے بن سکتے ہیں جن سے پانی یا پیپ خارج ہو سکتی ہے۔

٭جلد پر خشکی ہو جاتی ہے۔

٭متاثرہ جلد سخت اور موٹی ہو جاتی ہے۔

٭چھوٹے ابھرے ہوئے دانے بھی بن سکتے ہیں۔

کون زیادہ متاثر ہوسکتا ہے

ڈرماٹائٹس کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے تاہم اس کی ایک قسم ایگزیما بڑوں کی نسبت بچوں میں زیادہ عام ہے۔ یہ نوزائیدگی سے شروع ہوتی ہے۔ جن افراد کی فیملی میں ایگزیما اور الرجیز ہوں ان میں بھی اس کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

پارکنسنز ڈیزیز اور کمزور قوت مدافعت بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ ایسی ملازمت کرنے والوں میں اس کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں جن میں دھاتوں اور صفائی کے لئے استعمال ہونے والی مصنوعات سے رابطہ زیادہ ہوتا ہو ۔

گھر پر دیکھ بھال

٭خارش کو کم کرنے کے لئے ڈاکٹری نسخے کے بغیر بھی کچھ دوائیں ملتی ہیں۔ ڈرماٹائٹس کی صورت میں انہیں کچھ دن ،دن میں ایک سے دو دفعہ لگائیں اور لگانے سے پہلے فریج میں ٹھنڈا کر لیں۔

٭جلد کو نم رکھیں۔ کوئی بھی میڈیکٹڈ کریم استعمال کرنے کے بعد جلد پر موائسچرائزر لگائیں۔ مرہم (ointments) یا کریم پانی کے حامل لوشن کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر جلد کی حفاظت کرتی ہیں۔ خوشبو اور الکوحل کی حامل یا ایسی مصنوعات استعمال نہ کریں جن میں رنگ شامل ہو۔

٭دن میں 15-30 منٹ کے لئے دھپڑ پر گیلا اور ٹھنڈا کپڑا رکھیں۔

٭خشکی کے لئے سیلینیم سلفائیڈیا اور تارکول کے حامل شیمپو استعمال کریں۔ ان سے فائدہ نہ ہو تو ڈاکٹر کے مشورے سے میڈیکیٹڈ شیمپو استعمال کریں۔

٭جلد کو کھرچنے یا رگڑنے سے گریز کریں۔ اگر اس سے خود کو روک نہ سکتے ہوں تو متاثرہ حصے کو ڈھانپ لیں۔

٭ناخن چھوٹے رکھیں اور سوتے وقت دستانے پہن لیں تاکہ خارش ہو تو نیند میں جلد کو نہ کھرچ سکیں۔

٭ دھوپ اور الرجی کا سبب بننے والے عوامل سے بچنے کی کوشش کریں۔

٭جلد کو چبھنے والے یا اس سے رگڑ کھانے والے کپڑے نہ پہنیں۔

٭ذہنی صحت کو بہتر کرنے کے لئے ضروری اقدامات کریں۔

تشخیص اور علاج

جلد کا معائنہ کرنے اور علامات اور مریض کی ہسٹری جاننے کے بعد متاثرہ جلد کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا لے کر لیبارٹری میں معائنہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ممکنہ الرجنز کو کم مقدار میں کچھ پیچز پر رکھ کر انہیں جلد کے ساتھ لگا دیا جاتا ہے۔ اس سے کوئی علامت ظاہر ہوتی ہے یا نہیں، اس کی بنا پر مزید ٹیسٹ تجویز کیے جاتے ہیں۔

وجہ اور علامات کی بنا پر علاج مختلف ہوسکتا ہے۔ اگر گھر پر دیکھ بھال کرنے سے مسئلہ حل نہ ہو تو ڈاکٹر جلد پر لگانے یا کھانے کے لئے دوائیں تجویز کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ فوٹو تھیراپی کی جاسکتی ہے۔ پھر متاثرہ جلد پر کریم لگا کر اسے گیلی پٹی سے ڈھانپ کر اوپر خشک پٹی لگا دی جاتی ہے۔

حفاظتی تدابیر

٭ایسا کام کر رہے ہوں جس میں آپ کا رابطہ جلد کو نقصان پہنچانے والے کیمیائی مادوں یا سوزش کا سبب بننے والے عوامل سے ہو تو حفاظتی لباس پہنیں۔

٭جلد کی دیکھ بھال کے بنیادی اقدامات مثلاً جلد کی صفائی اور نمی کا خیال رکھنا بھی اس سلسلے میں مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

٭10منٹ سے زیادہ نہ نہائیں اور نہانے کے لئے نیم گرم پانی استعمال کریں۔ اگرباتھ ٹب میں نہاتے ہیں تو باتھ آئل بھی استعمال کریں۔

٭جلد کی کلینزنگ کے لئے مصنوعی رنگ، الکوحل اور خوشبو کے بغیر مصنوعات استعمال کریں۔

٭چھوٹے بچوں کو نہلانے کے لئے صاف پانی کافی ہے۔ ان کی جلد کو رگڑیں بھی نہیں۔

٭نہانے کے بعد جلد کو نرمی سے تھپتھپا کر خشک کر لیں۔ اسے زیادہ رگڑنے سے گریز کریں۔

٭جلد ابھی ہلکی گیلی ہو تو کریم، لوشن یا تیل لگا کر اسے نم کر لیں۔ دن بھر میں اس کی نمی برقرار رکھیں۔

گھر پر دیکھ بھال کے بعد بھی علامات ظاہر ہوں، بہت زیادہ بے آرامی ہو، جلد میں درد ہو، متاثرہ حصے سے پیپ خارج ہویا زرد رنگ کے کھرنڈ بن جائیں اوراتنی بے آرامی ہو کہ نیند اور معمول کے کام بھی نہ کرسکیں تو فوری طور پرڈاکٹر کو دکھائیں۔

dermatitis, dermatitis causes, management of dermatitis, skin issues, inflammation of skin, swollen skin, jild ki beemariyan

Vinkmag ad

Read Previous

پروسٹیٹ کے مسائل

Read Next

ماہواری میں خون کیوں آتا ہے

Leave a Reply

Most Popular