ماہواری میں خون کیوں آتا ہے

بچیاں جب بلوغت کی عمر کو پہنچتی ہیں تو ان کے جسم میں کچھ تبدیلیاں آتی ہیں۔ ان میں سے ایک ماہواری کا سلسلہ شروع ہونا بھی ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں یہ سلسلہ 12 سال کی عمر سے شروع ہو جاتا ہے مگر یہ اس سے پہلے اور بعد میں بھی ہو سکتا ہے۔  یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماہواری میں خون کیوں آتا ہے؟ یا پھر بلوغت کی عمر میں بچیوں کے جسم میں ایسی کون سی تبدیلیاں آتی ہیں جو اس عمل کا باعث بنتی ہیں؟ آئیے اس کے پس پردہ دلچسپ سائنس جانتے ہیں۔

ماہواری کا سلسلہ

ماہواری کا چکر عموماً 28 سے 35 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے خواتین کا جسم حمل ٹھہرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ اس عمل کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز میں پروجیسٹرون اور ایسٹروجن شامل ہیں۔ یہ ہارمونز خواتین کی اووریز یعنی بیضہ دانیوں سے خارج ہوتے ہیں۔ بیضہ دانیاں تولیدی نظام کا اہم حصہ ہیں جن میں انڈے ہوتے ہیں۔ یہ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ انہیں مائیکروسکوپ یا کسی دوسرے آلے کی مدد کے بغیر نہیں دیکھا جاسکتا۔

ایسٹروجن اور پروجیسٹرون ہارمونز کی مدد سے انڈوں کی نشوونما ہوتی ہے۔ پھرجب وہ بار آوری (fertilization)کے لئے تیار ہوجاتے ہیں تو یہ ہارمونز انہیں بیضہ دانیوں سے خارج(ovulation) ہونے کا پیغام دیتے ہیں۔ ایسے میں بعض خواتین کو کچھ محسوس نہیں ہوتا جبکہ کچھ کو اپھارے یا پیٹ کے نچلے حصے میں درد کی شکایت ہوتی ہے۔

ایسٹروجن اور پروجیسٹرون ہارمونز رحم کی اندرونی لائننگ (اینڈومیٹریم) کو موٹا اور اسفنج کی طرح بنا دیتے ہیں۔ یہ لائننگ ٹشوز اور خون سے بنی ہوتی ہے۔ اس میں حمل کی نشوونما کے لئے غذائی اجزاء ہوتے ہیں۔ بیضہ دانی سے نکل کر انڈا فیلوپی نالی میں سے گزرتا ہوا رحم تک آتا ہے اور یہاں تقریباً ایک دن کے لئے رہتا ہے۔ اس کے برعکس سپرمز چھ دنوں تک یوٹرس میں رہتے ہیں۔ اگر اس دوران ان کا ملاپ نہ ہو تو یہ لائننگ ٹوٹ جاتی ہے اور اس کے اجزاء یعنی ٹشوز، خون اور غذائی اجزاء جسم سے خارج ہو جاتے ہیں۔ اس عمل کو ماہواری، ماہانہ ایام یا پیریڈز وغیرہ کہا جاتا ہے۔

جب بارآور شدہ انڈا یوٹرس کی دیوار کے ساتھ جڑ جائے اور حمل ٹھہر جائے تو پھر اینڈومیٹریل لائننگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حمل کے دوران ایام کا سلسلہ رک جاتا ہے۔

ان صورتوں میں گائناکالوجسٹ کو دکھائیں

٭15سال کے بعد بھی ماہواری کا سلسلہ شروع نہ ہو۔

٭اس میں بے قاعدگی ہو۔

٭پیریڈز کے دوران خون آتا ہو۔

٭بہت زیادہ یا کم بلیڈنگ ہو۔

٭ایک ہفتے سے زیادہ پیریڈز ہوں۔

٭شدید درد ہوتا ہو۔

٭پیریڈز سے جڑی دیگر علامات اتنی شدید ہوں کہ معمول کے کام نہ کر سکیں۔

science behind periods, what causes bleeding in periods, menstural cycle explained, menstruation process, bleeding in menstruation, periods mai khoon kyun aata hai, periods mai bleeding kyun hoti hai

Vinkmag ad

Read Previous

ڈرماٹائٹس

Read Next

The Onset of Psychosis within Adolescents

Leave a Reply

Most Popular