کیا پپیتا ڈینگی کا توڑ ہے؟

پچھلے دو تین عشروں میں بھارت‘ پاکستان اورآس پاس کے دیگر ممالک میں ایک ایسی بیماری سامنے آر ہی ہے جو بہت سی اموات کا سبب بنی ہے۔ اس نے خطے‘ خصوصاً پاکستان میں خوف اور تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔ اس کی ہلاکت خیزی کے باوجود خوش قسمتی سے اس مرض سے مرنے والوں کی شرح محض پانچ فی صد ہے۔ تاہم ایک جان بھی ضائع ہو تو یہ قابل تشویش بات ہے۔

اس مرض کو عرف عام میں ہڈی توڑ بخار اور طبی زبان میں ڈینگی بخار کہا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عام نام کی بجائے اس کا طبی نام زیادہ مشہور ہے۔

ڈینگی بخار کیا ہے

ڈینگی بخار ایک متعدی مرض ہے جو چار مختلف قسم کے لیکن ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے وائرسوں سے ہوتا ہے۔ وائرس بیکٹیریا سے بھی کئی گنا چھوٹے ہوتے ہیں اور مختلف وائرس مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ ان کے خلاف ابھی تک کوئی خاطر خواہ اینٹی بائیوٹک دریافت نہیں ہو سکی لہٰذا ایک خاص تناظر میں یہ لاعلاج ہی تصور ہوتے ہیں۔ ڈینگی کا شمار بھی اسی فہرست میں ہوتا ہے۔ البتہ کچھ طبی اقدامات سے مریض کی قوت مدافعت خاصی حد تک بڑھ جاتی ہے اور اس کا جسم اس موذی مرض کو قابو کرنے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے میں خاصی حد تک کامیابی حاصل کر لیتا ہے۔

ڈینگی بخار کیسے ہوتا ہے

ڈینگی بخار مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے لیکن یہ مچھروں کی اس قسم سے مختلف ہے جو ملیریا پھیلاتے ہیں۔ یہ کالے رنگ کے ہوتے ہیں اور ان کے جسم اور ٹانگوں پر سفید داغ ہوتے ہیں۔ ملیریا کے بعد ڈینگی دوسرا اہم مرض ہے جو مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں 5 سے 10 کروڑ انسانوں کے خون میں اس کے جراثیم موجود ہیں۔ تاہم ان افراد کی قوتِ مدافعت ان جراثیم کا مقابلہ کر کے اس حال میں مرض سے چھٹکارا دلوا دیتی ہے کہ انہیں اس کا پتہ بھی نہیں چلتا۔ مریض کو زیادہ سے زیادہ ہلکا سا بخارہوتا ہے جو جلد ہی اتر جاتا ہے اور بات آئی گئی ہو جاتی ہے۔

بدقسمتی ان افراد کی ہوتی ہے جن کی قوت مدافعت ان جراثیم کا مقابلہ نہیں کر پاتی اور جنگ ہار بیٹھتی ہے۔ نتیجے کے طور پر مریض کو شدید بخار ہو جاتا ہے اوراسے جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ بخار 104 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے اور سر میں شدید درد ہوتا ہے۔ اس کے جوڑوں‘ پٹھوں اور ہڈیوں میں بھی ایسا سخت درد ہوتا ہے جیسے ہڈیاں پس رہی ہوں۔ اسی لئے اسے ہڈی توڑ بخار کہا جاتا ہے۔

آنکھوں کے ڈھیلوں کے پیچھے بھی درد کی ٹیسیں اٹھتی ہیں۔ چونکہ خون کی رگوں میں سے سیرم اور پانی نکل جاتا ہے لہٰذا جسم میں خون کی کمی ہو جاتی ہے۔ سیرم سے مراد خون میں پایا جانے والا شفاف پانی ہے۔ اس کمی کی وجہ سے ان کا بلڈپریشر گر جاتا ہے اور مریض شاک کی کیفیت میں چلا جاتا ہے۔

شاک سے مراد کسی زخم یا شدید مرض سے پیدا شدہ وہ کیفیت ہے جس میں خون کے حجم میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اس کی علامات میں بلڈپریشر میں کمی‘ تیز نبض‘ بے آرامی ‘ پیاس اور جلد کا ٹھنڈا ہونا ہیں۔

پلیٹ لیٹس کی کمی

خون میں کچھ خاص ذرے ہوتے ہیں جنہیں پلیٹ لیٹس کہا جاتا ہے۔ کسی زخم‘ بیماری یا زچگی کے دوران اگر خون بہنے لگے تو یہی پلیٹ لیٹس اسے روکتے ہیں۔ ڈینگی بخار میں ان ذروں کی خطرناک حد تک کمی ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً جسم کے مختلف اعضاء مثلاً مسوڑھوں اور ناک وغیرہ سے خون بہنے لگتا ہے اور سارے جسم پر نیل پڑ جاتے ہیں۔ رگوں سے رسنے والا سیرم اور پانی پھیپھڑوں کے اردگرد چھاتی اور پیٹ میں جمع ہو جاتا ہے۔ ایسے مریض کو ڈرپ لگانا بہت ضروری ہوتا ہے ورنہ اس کی جان بھی جا سکتی ہے۔

اگر اس مرض کے حملے میں مریض کی جان بچ جائے تو ہفتے عشرے کے بعد اس کی قوت مدافعت حرکت میں آکر جراثیم کو ختم کر دیتی ہے۔ ایسے میں اگر ڈینگی کا باعث بننے والے جراثیم کی کوئی اور حملہ آور ہوجائے تو مریض کا مدافعتی نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔ دوبارہ ڈینگی ہوجائے تو اس خطرناک حالت کو ڈی ایچ ایف (Dengue hemorrhage fever) کہتے ہیں۔ اس میں مریض کی جان بھی جا سکتی ہے۔ ایسے مریضوں کے علاج کے دوران کڑی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے اور انہیں خون کے علاوہ خاص ذرے یعنی پلیٹ لیٹس بھی دینا پڑتے ہیں۔

جڑی بوٹیوں سے علاج

میڈیسن کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب کسی بیماری کا مستند علاج دستیاب نہ ہو تو لوگ علاج کے لئے جڑی بوٹیوں کی طرف رجوع کرتے  ہیں۔ بعض اوقات اس دوران نئی ادویات بھی دریافت ہو جاتی ہیں۔ جنوبی امریکہ کے لوگوں نے سنکونا (Cinchona) ذات کے درخت سے کونین (Quinine) دریافت کی جسے طبی دنیا میں لمبے عرصے تک ملیریا کے علاج کے لئے استعمال میں لایا گیا۔ یہی حال ڈینگی بخار کا بھی ہے۔ چونکہ اس کا علاج صرف قوت مدافعت بڑھانے تک محدود ہے لہٰذا لوگوں نے اس کے لئے نباتات کی طرف رخ کیا اور معلوم نہیں کہ کس طرح پپیتے کا انتخاب کیا۔

اس درخت کے پتے بہت بڑے اور آٹھ حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ انہیں کُوٹ کر رس نچوڑ کر چھانا جائے اور تقریباً دو ملی لیٹر روزانہ دن میں دو بار پانچ دن تک مریضوں کو پلایا جائے تو ان کی طبیعت سنبھل جاتی ہے۔ پلیٹ لیٹس بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس سے اکثر مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ یہ علاج خاصا کامیاب لگتا ہے تاہم اس پر مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ عین ممکن ہے کہ ملیریا کی طرح اگلے کچھ سالوں میں پپیتے کے درخت سے بھی کوئی دوا تیار کر لی جائے جو ڈینگی کا مؤثر علاج ثابت ہو۔

Dengue, dengue prevention, how effective is papaya in treating dengue, papaya health benefits, health, shifa news

Vinkmag ad

Read Previous

فالج، زندگی مفلوج نہ کر دے جانئے اور احتیاط کیجیے

Read Next

نئی زندگی‘نئی ا مید

Leave a Reply

Most Popular