کچی شراب

پچھلے دنوں کی خبروں میں اکتوبر میں 29 افراد کراچی میں کچی شراب کے پینے سے جان کی بازی ہار بیٹھے۔ اس سے پہلے افریقہ کے ملک کینیا میں ایسی شراب پینے سے 61 افراد مرے تھے اور ہر سال ہندوسان اور دیگر مشرقی ممالک میں کئی لوگ اس خطرناک شراب کے ہاتھوں مر جاتے ہیں۔ احتیاط علاج سے کئی گنا بہتر ہے۔
ماہرین آثار قدیمہ کے تحقیقات کے بعد یہ اندازہ لگا ہے کہ شراب پتھر کے دور میں دریافت ہوئی ہے اور شاید اس کی دریافت اچانک انگور کے گلنے سڑنے کے باعث اور یا شہد سے بنی ہو گی۔ مغرب میں شہد سے بنی شراب کو ہی مِیڈ(Mead) کہتے ہیں۔ اور جس زمانے کا میں کہہ رہا ہوں وہ آج سے 12 ہزار پرانی تاریخ ہے یعنی کم از کم 10 ہزار برس قبل مسیح۔ اور چونکہ اس دور میں مصر اور چین کے ممالک قدرے زیادہ ترقی یافتہ تھے وہاں شراب کو بنانا شروع کر دیا گیا اور شراب کا استعمال بطور غذا‘ علاج اور مذہبی رسومات میں بھی شامل حال ہو گیا۔ چونکہ ان زمانوں کے انسان توہم پرست ہوتے تھے۔ انہوں نے اکثر اوقات ہر چیز کے لئے ایک الگ دیوتا ایجاد کر رکھا تھا۔ مصر میں شراب کے دیوتا کو سیریس Serious کا نام دیا گیا تھا اور یہ ایک ایسا دیوتا تھا جسکی پوجا اس ملک کے ہر کونے میں کی جاتی تھی۔ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مصر کے لوگ بیئر(bear) کی 17 قسمیں اور انگور سے بنائی ہوئی شراب (جسے وائن کہا جاتا ہے) کی 24 قسمیں تیار کر سکتے تھے۔ شراب کا استعمال صرف زندہ لوگوں تک ہی محدود نہ تھا تیارکردہ شراب کے بھرے برتن کئی مردوں کے ساتھ دفن بھی کئے جاتے تھے تاکہ وہ اپنی آئندہ زندگی میں انہیں استعمال کریں 1922ءمیں جب کنگ ٹٹ King Tut کے مقبرے کو کھودا گیا تو وہاں بھی شراب کے برتن برآمد ہوئے۔ جن پر شراب تیار کرنے والوں کے متعلق معلومات لکھی ہوئی تھیں۔ اور چین میں بھی شراب کا استعمال عام تھا۔
شروع شروع میں یہ شراب مشرق وسطی کے علاقوں میں بنائی گئی ہو گی جہاں جنگلی انگور عام تھی۔ شایدمِیڈ کم مقدار میں تیار ہوتی ہو گی کیونکہ شہد بہت کم مقدار میں قدرت میں پایا جاتا ہے۔ قدرت نے کئی قسم کا پھپھوندیاں Fungi اور ایسے بیکٹیریا پیدا کر رکھے ہیں۔ جو ہر جگہ پائے جاتے ہیں اور انہیں جہاں بھی نمی اور خوراک ملے۔ وہ اس پر ٹٹ کر پل پڑتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ خوراک باسی ہو کر چند ہی دن میں ضائع اور سڑ جاتی ہے۔باسی چھلکوں اور روئی وغیرہ پر یہ پھپھوندی آپ نے ضرور دیکھی ہو گی جو کہ پشم اور روئی کی طرح مختلف رنگوں میں نظر آتی ہے اور ان چیزوں کا ستیاناس کر دیتی ہے۔ قدرتی طور پر بعض پھوپھوندی انگور پر اسی وقت ے اپنے ڈیرے جما دیتی ہیں جبکہ وہ پودے میں ہی لگی ہوں اورپکنے پر آرہی ہو۔ اور اس سے شراب بھی بنتی ہے۔
شراب کے بنانے میں عمل خمیرسے فائدہ لیا جاتا ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس سے ہمارے گھروں میں گوندھا وا آٹا خمیر ملانے کے بعد خمیر کیا جاتا ہے اور دودھ کا دہی بنانے میں کام دیتا ہے۔ اگر دودھ قدرتی طور پر بگڑ جائے تو بگڑا ہوا دودھ ایک طرح کا دہی ہی ہے لیکن بد ذائقے ہونے کی وجہ سے کھانے کے قابل نہیں ہوتا کیونکہ اس کے اندر کے بیکٹیریا اور پھپھوندیاں ہمارے پسند Choice کی نہ تھیں۔ یہی حال شراب کا بھی ہے اس کے اندر پھپھوندی اپنی پسند کی شامل کرنی ہوتی ہے ایسی خمیر کو Yeast کہتے ہیں اور اسکی تقریباً 700 کے لگ بھگ قسمیں ہیں اور ہر ایک سے تیار کردہ شراب جسے Wine وائین کہتے ہیں الگ الگ ذائقے کی ہوتی ہے۔ اس خمیر کا یہ کام ہے کہ اسے اپنی غذا کے طور پر استعمال کرنے کے بعد کاربوہائیڈریٹس Carbohyderates (جسے میں اس مضمون میں اب CHO کہہ کے مخاطب کروں گا) کو شراب میں بدل دیتی ہے اور اس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ (جسے میں Co کہوں گا) کے بلبلے نکلتے ہیں۔ جن سے جھاگ بنتی ہے۔
CHO کی کئی قسمیں ہیں جن میں ہر طرح کی مٹھاس والی کھانڈ (چینی) جسے گلوکوز‘ لیکٹوز‘ مالٹوز اور کئی اور چینی کی قسمیں شامل ہیں اور اس کے علاوہ پھلوں اور اناج کے اندر جو نشاستہ Starch ہوتا ہے وہ بھی چینی میں تبدیل ہو جاتا ہے لہذا شراب بنانے کے لئے ہر طرح کے اناج جن میں جو‘ وار‘ مکئی‘ گندم‘ چاول شامل ہیں۔ ان سب کو شراب تیار کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ شراب میں جو نشہ آور اور خمار پیدا کرنے والا عنصر ہے اسے الکوحل Alcohol کہا جاتا ہے اور ان میں سے دو قسم کے الکوحل سب سے اہم ہیں۔ ایک جو شراب کو شوقیہ پینے کے لئے استعمال ہوتا ہے اسے ایتھینال Ethanel کہتے ہیں اور اسکے ساتھ ہی ساتھ اور ایک زہریلی الکوحل میتھینال Methanol بھی پھپھوندیوں کے جاری کردہ کیمیائی عمل کے دوران پیدا ہوتا ہے۔ اناج سے تیارکردہ شراب اکثر بیشتر ہوتی ہے۔ Bear جس میں 5% الکوحل ہوتا ہے اور اسکے مقابلے میں وائین Wine میں الکوحل کی مقدار 13% ہوا کرتی ہے۔ شیمپین Champagne بھی ایک طرح کی وائین ہے جس میں Co کے بلبلے بنے ہوتے ہیں۔
چونکہ بعض لوگ زیادہ تیز (گاڑھی) شراب پسند کرتے ہیں۔ ان کے لئے ان شرابوں سے پہلے زہریلا میتھینال الگ کر کے بذریعہ عمل تبخیر جسے Distilation کہا جاتا ہے (اور جس کے دو پہلو ہیں۔ ایک میں بخارات پیدا کئے جاتے ہیں اور جسے Evaporation کہا جاتا ہے۔ یہ Run testing پر بھی ہو سکتا ہے لیکن اس کو مزید تیز کرنے کے لئے محلول کو ابالا جاتا ہے۔ اور پھر اس کے بخارات کو Condense کہا جاتا ہے۔ یہ سارا عمل پانی پر قدرتی طور پر عام دیکھنے میں آتا ہے۔ اسی Evaporation یعنی عمل تبخیر سے دریاﺅں‘ جھیلوں اور سمندروں سے پانی فضا میں مل جاتا ہے اور Condense کراس سے بادل بنتے ہیں اور مزید پھر بارش پیدا ہوتی ہے۔ یہ عمل ہماری گھاس اور پودوں پر شبنم کی صورت میں نمودار ہوتا ہے وغیرہ۔
تو جو کچی شراب بنتی ہے۔ اسے جب ابالا جائے تو پہلے 67c پر زہیلا میتھینال بخارات میں تبدیلی ہو کر اڑ جاتا ہے۔ اور پھر 87c پر ایتھنال البتا ہے جبکہ پانی 100c پر ابلتا ہے۔ لہذا ان تینوں عناصر کو الگ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن شراب میں پانی خاص مقدار پر رہنے دیا جاتا ہے اور عام شرابوں جیسے جن Gin وہسکی Wiseky وغیرہ میں اکثر زیادہ سے زیادہ الکوحل کی شرح ہوتی ہے ایسی شرابوں کو Spirits سپرٹ کہا اجتا ہے۔
اگرچہ اس Distillation کے عمل سے 100% خالص الکوحل تیار کیا جاتا سکتا ہے لیکن جتنا اسے گاڑھا کیا جائے اس کا ذائقہ جاتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں کئی قسم کی شرابیں موجود ہیں جو مختلف لوگ پسند کرتے ہیں اور اکثر انہیں اور فروٹ جوسوں ؟؟؟؟ سے ملا کر پیا جاتا ہے۔
اب اس تعارف کے بعد ہم دیسی یعنی کچی شراب کی طرف آتے ہیں۔ یہاں ایک بہت دلچسپ بات بتاﺅں ہمارے جسم میں ان بیکٹیریا اور پھپھوندیوں کے عمل سے قدرتی طور پر زہریلی شراب ان سبزیوں اور پھلوں سے بنتی ہے جو کہ ہم نے غذا کے طور پر کھاتے ہوتے ہیں۔ لیکن اس کا مضر اثر ہمیں دیکھنے میں اس لئے نہیں آتا کہ اس کی مقدار بہت ہی کم ہوتی ہے اور بننے کے بعد ہماری سانس کے ذریعے اور پیشاب میں گردوں سے ہو کر خارج ہو جاتی ہے اندازہ ہے کہ ہماری سانس میں اس کی مقدار ایک ملین میں 4-1/2 حصے(45ppm) parts per millionہوتی ہے اور تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایک کیلو گرام سیب سے 1.4 (ایک اعشاریہ چار) گرام میتھینال بنتی ہے۔
ایک اتفاقی بات یہ بھی ہے کہ دونوں قسم کے الکوحل کی رنگت اور بو یکساں ہوتی ہے لیکن میتھینال زہر قاتل ہے۔ اسے شراب بنانے والے اکثر اپنے منافع کو بڑھانے کیلئے قصداً الگ نہیں کرتے۔ یا باقی شراب میں اسے گاڑھا کرنے اور ذائقے کیلئے قصداً ملا دیتے ہیں۔ اور اس کے زہریلے پن کی یہ حد ہے کہ صرف 10ml ملی لیٹر انسان کو بینائی سے محروم کر کے مستقل طور پر اندھا بنا سکتا ہے اور سوا تین اونس یعنی 100 مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ اور یہ بدقسمتی سے اس کا زہریلا پن بیچنے کے 12 سے زیادہ گھنٹے گزرنے کے بعد نمودار ہوتا ہے اور اس وقت تک اس زہر نے کام کر دیا ہوتا ہے۔
لوگ کچی شراب صرف اس وجہ سے پیتے ہیں کہ یہ مستند شراب سے کئی گنا سستی ہے۔ اور کچھ نچلے اور درمیانی طبقے کے مسلمان مزدور لوگ اس کی طرف کھینچتے ہیں کیونکہ شراب اسلام نے پینے سے منع کیا ہے اور ”شجر ممنوعہ“ کی طرح اس میں خاصی کشش پائی جاتی ہے۔ اس کا سونگھنا یا جسم کے ساتھ زیادہ مقدار میں لگتنا بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور یہ شراب کئی صنعتوں میں مثلاً anti freeze‘ پینٹ ہٹانے کے لے اور اینٹی سیپٹک Antisaptic وغیرہ کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ گھروں میں صفائی وغیرہ کا کام بھی کرتی ہے۔ اور کبھی چھوٹے بچے اسے پی کر اس کے زہریلے اثرات کا شکار ہو سکتے ہیں۔

Vinkmag ad

Read Previous

بینگن کا سلاد

Read Next

Animals & Us

Leave a Reply

Most Popular