میوہ جات اور میٹھی باتیں

239

خشک میوہ جات قدرت کی طرف سے سرد موسم کا خاص تحفہ ہیں جو خوش ذائقہ ہونے کے ساتھ ساتھ بے شمار طبی فوائد کے حامل بھی ہیں۔یہ جسم کے درجہ حرارت کو بڑھانے اورسرد موسم کے مضر اثرات سے بچاؤمیں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔تاہم ضروری ہے کہ انہیں اعتدال میں کھایاجائے


سرما کی لمبی راتوں میں اگر گپ شپ کے ساتھ میووں کا دور چلے تو نہ صرف باتوں کامزہ دوبالا ہو جاتاہے بلکہ اگر انہیں اعتدال کے ساتھ کھایا جائے تویہ بہت فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں ۔اس موسم میں جس طرح گرم کپڑوں اور کمبلوں وغیرہ کا استعمال بڑھ جاتا ہے ‘ اسی طرح میوہ جات کے سٹالز پر بھی لوگوں کے ہجوم میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ان کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ دیکھنے میں آتا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اپنی پسند اور آمدنی کے مطابق انہیں ضرور خریدتے ہیں ۔راجہ بازار راولپنڈی کے ایک دکاندار میاں احمد خان خشک میوؤں کا کاروبار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے :
’’اس موسم میں مونگ پھلی ،بادام ،اخروٹ اور کشمش کی بِکری زیادہ ہوتی ہے ۔لوگ چلغوزے بھی خریدتے ہیں لیکن قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کی خرید زیادہ نہیں ہے ۔‘‘
میوؤں کا بادشاہ بادام
بادام صدیوں سے قوتِ حافظہ اور بینائی کے لیے موزوں قرار دیا جاتا ہے ۔یہ لوگوں کے استعمال میں آنے والاسب سے قدیم میوہ ہے۔ اس میں وٹامن اے اور بی کے علاوہ روغن اورنشاستے کی بھی اچھی مقدار موجود ہوتی ہے ۔یہ اعصاب مضبوط کرنے کے ساتھ قبض کے لیے بھی مفیدہے ۔100 گرام بادام کی گری میں کیلشیم 26فی صد،آئرن 2.4ملی گرام ،پوٹاشیم 705ملی گرام اور 567کیلوریز پائی جاتی ہیں۔اس کے علاوہ اس میں پروٹین کے ساتھ ،میگنیشیم ،وٹامن ای اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس بھی وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں ۔
اخروٹ ذہنی نشوونما میں اہم
بادام کی طرح اخروٹ بھی قدیم میوہ ہے جو 7000قبل مسیح سے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اس کی گری یعنی مغز نہایت غذائیت بخش ہوتی ہے ۔100گرام اخروٹ کی گری میں 656کیلوریزہوتی ہیں۔اسے بھون کر کھانے سے سردیوں میں کھانسی کم ہو جاتی ہے ۔ اس کے تیل سے کیا گیا مساج تھکان کم کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ اس میں موجود وٹا من بی سیون بالوں کو مضبوط اورلمبا کرنے کے علاوہ انہیں ٹوٹنے سے بچانے میں بھی مدد دیتا ہے۔اخروٹ میں موجود غذائی اجزاء خون کی گردش معمول پر لا کر ذہنی دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔یہ وٹامن بی اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور میوہ ہے جو جلد کو چمکدار بنانے کے علاوہ اس پر جھریاں بننے کے عمل کو کم کرتاہے۔یہ ذہنی طور پر بھی ہمیں توانا کرتا ہے۔
کالے تل، سفیدتل
تل سائز میں چھوٹا لیکن اپنے اندر فائدے بہت بڑے رکھتا ہے۔اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ15 ویں صدی میں سونے کے برابر قیمت پر تل ملتے تھے ۔یہ بھی اس موسم کی خاص سوغات ہے۔اس میں کاپر ،آئرن ،میگنیشیم کے علاوہ میگنیز، پروٹین،زنک ،وٹامن بی ون،سیلینیم اور ڈائیٹری فائبرکی اچھی مقدار موجود ہوتی ہے۔اس میں موجود کیلشیم ہڈیوں اور دانتوں کی صحت کے لیے مفید ہے ۔ ان کے کھانے سے جسم میں گرمی پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے جن لوگوں کو اور خاص طور پربزرگوں کو سردی زیادہ لگتی ہو،ان کے لیے یہ بہت مفید ہیں ۔
چلغوزے
ٹھنڈے اور بلند باغات سے حاصل ہونے والے چلغوزے کھانے میں محنت طلب لیکن بہت ہی لذیزہیں۔مکھن کی طرح نرم اور خوش ذائقہ چلغوزے کیلوریز سے بھرپور ہوتے ہیں ۔تقریباً100گرام چلغوزوں میں 673کیلوریز ہوتی ہیں۔یہ میوہ خون میں’’ایل ڈی ایل‘‘ یعنی برے کولیسٹرول کو کم کرتا ہے اور ’’ایچ ڈی ایل‘‘یعنی اچھے کولیسٹرول کو بڑھاتا ہے۔انہیں کھانا کھانے کے بعد کھائیں کیونکہ پہلے کھا نے سے بھوک ختم ہو جاتی ہے ۔یہ گلوٹن فری میوہ ہے اس لیے وہ افرادجنہیں گلوٹن سے الرجی ہو ،اسے کھا سکتے ہیں۔اس سے جسم میں گرمی اور فوراً توانائی محسوس ہوتی ہے۔اچھی یادداشت کے لیے یہ قدرت کا بہترین تحفہ ہے ۔
کھٹی میٹھی کشمش
کشمش دراصل خشک کیے ہوئے انگورہیں۔ چھوٹے انگور کو سکھانے سے کشمش اور بڑے کو سکھانے سے منقیٰ بنایا جاتا ہے ۔کشمش کو کئی میٹھے کھانوں کا خا ص جزو سمجھا جاتا ہے ۔اس میں موجود فائبر قبض سے نجات کے لیے اہم ہے ۔میگنیشیم اور پوٹاشیم کی اچھی مقدار کی وجہ سے یہ معدے کی تیزابیت دورکرنے میں بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ نزلہ اور کھانسی میں مفید ہونے کے ساتھ یہ توانائی کے حصول کا بھی اہم ذریعہ ہے ۔ اپنے وزن میں اضافے کے خواہش مند افراد کے لیے یہ اچھا انتخاب ہے‘ اس لئے کہ اس میں فرکٹوز اور گلوکوز کی اچھی مقدار پائی جاتی ہے۔یہ برے کولیسٹرول کو کم کر کے وزن میں اضافہ کرتی ہے ۔اس میں موجود وٹامن اے اور ای جلد کے نئے خلیے بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
مونگ پھلی
مونگ پھلی سب کا من بھاتا اورنسبتاً سستا میوہ ہے ۔اس میں چکنائی کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہ چکنائی جسم میں برے کولیسٹرول یعنی ایل ڈی ایل کو نہیں بڑھاتی۔50گرام مونگ پھلی میں 207کیلوریز ہوتی ہیں ۔اس میں کاپر ، میگنیز،وٹامن بی تھری، فولٹ اور فاسفورس کی اچھی مقدار پائی جاتی ہے ۔غذائیت میں یہ اخروٹ کی ہم پلہ ہے اور دبلے افراد کے لیے بہت مفید ہے۔ اس میں قدرتی طور پر ایسے اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو گاجر اور چقندر میں پائے جانے والے اجزاء سے بھی زیادہ مفید ہیں ۔
خوش ذائقہ پستے
پستے صحت مندی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ان میں کیلشیم ، پوٹاشیم اور حیاتین کی اچھی مقدار پائی جاتی ہے ۔ایک سو گرام پستے کی گری میں 594کیلوریز ہوں گی۔ا س میں بادام ،کاجو اور اخروٹ کی نسبت زیادہ فاسفورس اورپروٹین پائی جاتی ہے ۔میٹھے کھانوں کے ساتھ اس کا رشتہ بہت پرانا ہے ۔اس کے علاوہ دن میں معمولی مقدارمیں پستہ کھانے سے دل کی بیماریوں سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔ یہ خون میں کولیسٹرول کی مقدار کم رکھنے میں بھی فائدہ مندہے ۔جو لوگ برگر اور پیزا وغیرہ سے ہلکی اور صحت بخش غذاؤں کی طرف آنا چاہتے ہیں، وہ اپنی ہلکی خوراک کا آغاز پستے سے کریں۔
جادوئی میوہ ،کاجو
یہ میوہ نہایت ہی لذیزہونے کے ساتھ اپنے اندر بہت فائدے لیے ہوئے ہے ۔16ویں صدی سے لے کر اب تک یہ انڈیا ،برازیل ، تنزانیہ اورنائیجیریا میں بڑی تعداد میں کاشت ہوتا ہے ۔یہ اینٹی آکسیڈنٹس ،منرلزاوروٹامنز سے بھرپور ہے جو جسمانی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔40گرام کاجو میں221کیلوریزہوتی ہیں۔اس میں چکنائی کی بہت کم مقدار پائی جاتی ہے لہٰذا یہ دل کے مسائل سے بچاتاہے ۔اس میں موجود میگنیشیم بلڈ پریشر کا لیول کنٹرول میں رکھنے کے ساتھ ہڈیوں اور دانتوں کے لیے بھی مفید ہے۔اس میں اچھے کولیسٹرول کی کافی مقدار موجود ہوتی ہے ۔
مندرجہ بالا میوہ جات معدنیات اوروٹامنز سے بھرپور ہوتے ہیں۔اس لیے اس موسم میں ان سے بھرپور فائدہ اٹھائیں ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of