نئے سال کے عزائم میں صحت کہاں

185

31دسمبرکی رات12:01پر دنیا بھر میں نئے سال کی آمد کا جشن شروع ہو جاتا ہے۔ لوگ اسے مختلف طریقوں سے اور رنگارنگ انداز میں مناتے ہیں ۔بہت سے لوگ زندگی کے اس اہم سنگ میل پر تھوڑا سا وقت اپنے لئے نکالتے ہیں اورذراتنہا بیٹھ کرنئے سال کے لئے اپنے عزائم طے کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ترجیح عموماً کیرئیر‘ تعلیم ‘ گھر اور شادی وغیرہ کے معاملات کو دی جاتی ہے۔
ہم اپنی زندگی کے جو بھی اہداف طے کریں‘ ان کا آخری مقصد خوشی اور اطمینان کا حصول ہوتا ہے۔ اگر ہمیں وہ سب کچھ حاصل ہو جائے جو ہم نے اگلے سال کے لئے طے کیاہے لیکن ہماری صحت اچھی نہ ہو تو شاید ہم اپنی کامیابیوں سے پوری طرح لطف اندوز نہ ہو پائیں گے۔ اس لئے ضروری ہے کہ نئے سال کے موقع پر ہم صحت کے حوالے سے بھی کچھ عزائم طے کریں۔ اس سلسلے میں محمدزاہد ایوبی نے کچھ معروف کھلاڑیوں‘ شاعروں‘ ادیبوں اور سیاستدانوں سے گفتگو کی۔ ذرا دیکھئے کہ صحت کے تناظر میں اگلے سال کے لئے ان کے عزائم کیا ہیں


دنیا بھر کا دورہ نئے سال کا عزم ہے
(فخرِ عالم‘ گلوکار‘اداکار)
اداکار‘ ٹی وی میزبان اورگلوکار فخرعالم کو پاکستان میں ریپ یا بھنگڑامیوزک کلچرکا پائینیئر مانا جاتا ہے ۔ شفانیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
’’میں اگلے سال جہاز پر دنیا بھر کا دورہ کر کے ورلڈ ریکارڈ قائم کرنا چاہتا ہوں۔ اس کا آغاز مارچ سے ہو گاجس کیلئے تیاریاں ابھی سے جاری ہیں ۔اس میں کامیابی کے لئے سب سے زیادہ ضروری میرا خود کو فِٹ رکھنا ہے۔ مجھے اپنا وزن 38پاؤنڈ کم کرنا ہے۔ اس کے لئے ماہر غذائیات نے مجھے ایک پلان دیا ہے جس پر میں عمل کررہا ہوں۔ ورزشوں کے ذریعے مسلز کی تقویت پر بھی کام جاری ہے۔ یوگا کی بدولت میں خود کو کئی کئی گھنٹوں کے سفر کے لئے تیار کر رہا ہوں۔ اس ٹرِپ کی کامیابی ہی میرا نئے سال کا عزم ہے۔
انہی تیاریوں کے دوران مجھے احساس ہو رہا ہے کہ یہی میری ہمیشہ کی روٹین ہونی چاہیے تھی‘ اس لئے کہ ان سب سرگرمیوں کی بدولت میں خود کو پہلے سے بہت اچھا محسوس کر رہاہوں۔واضح رہے کہ صحت بخش غذا کی بدولت جسم کی نشوونما اور ورزش سے اپنی جسمانی تقویت کی ذمہ داری ہم پر ہی عائد ہوتی ہے۔‘‘
چہل قدمی اور ورزش کی روٹین بناؤں گا

(بہروز سبز واری‘ اداکار)
تنہائیاں‘ ان کہی اور خدا کی بستی کے بعد گل رعنا‘ یہ زندگی ہے اور زندگی گلزار ہے میں منفرد کردار ادا کرنے والے بہروز سبزواری اگلے سال کے عزائم پر گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’اچھی صحت کا دارمدار آپ کے روزمرہ کے کھانے کی روٹین پر ہوتا ہے۔ جہاں صحت کی بات ہو‘ وہاں اس اصول کو کون نظرانداز کر سکتا ہے کہ تھوڑی سی بھوک رکھ کر کھائیں۔ اس سے صحت بھی اچھی رہتی ہے اور معدے کے مسائل بھی جنم نہیں لیتے۔ میں نہ صرف خود اس سنہری اصول پر چلتا ہوں بلکہ دوسروں کو بھی اس پر عمل کرنے کا مشورہ دیتا ہوں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ کھانے کے معاملے میں جلد ہضم ہونے والی اشیاء کو ترجیح دی جائے‘ اس لئے کہ معدے سے متعلق مسائل بیماریوں کی جڑ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کی اچھی کارکردگی کے لئے اسپغول کاچھلکا میں برسوں سے استعمال کرتا آرہا ہوں۔
مزید برآں ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینا بے حد ضروری ہے جن سے اعضاء سرگرم عمل رہ سکیں۔ مثال کے طور پر نماز بہترین جسمانی ورزش ہے جو ذہنی سکون کا باعث بھی بنتی ہے۔ نئے سال کے حوالے سے میری خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ میں چہل قدمی اور ورزش کی روٹین بنانے میں کامیاب ہو سکوں جس میں باقاعدگی میں اب تک نہیں لا پایا۔‘‘
اچھی عادات کوجاری رکھوں گا
(شہود علوی‘ اداکار)
’بول میری مچھلی‘ چاہتیں‘ لیڈیز پارک‘ مایا‘ میرا سائیں اور تیری بے رخی میں یادگار کردار ادا کرنے والے شہود علوی نے کہا:
’’انسان جو غذا کھاتا ہے‘ اس کے اثرات اس کے چہرے پر واضح ہوتے ہیں۔ اچھی صحت کے لئے اچھی غذا کا استعمال اور ورزش بے حد ضروری ہے۔ اچھی خوراک سے میری مراد متوازن غذا ہے جس میں تمام غذائی اجزاء مثلاً کاربوہائیڈریٹس، منرلز، وٹامنز یا نمکیات وغیرہ متوازن انداز میں موجود ہوں۔ قدرتی اشیاء مثلاً پھل اور سبزیاں ان کی فراہمی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ذہنی صحت بھی جسمانی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ روح کی غذا کا سامان بھی کیا جائے۔ اس کے لئے نماز اور تلاوتِ قرآن پاک بہت مفید ہیں ۔ میں نے جن چیزوں کا ذکر کیا‘ وہ میری عادات ہیں جنہیں انشاء اللہ اگلے سال بھی جاری رکھنے کا عزم ہے۔‘‘
امید کی شمع روشن کروں گا

( عابد علی‘ اداکار اور پروڈیوسر)
جھوک سیال‘ وارث‘ ہزاروں راستے‘ پیاس‘ سورج کے ساتھ ساتھ اور خواہش جیسے لازوال ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والے معروف اداکار اور پروڈیوسر عابد علی سے جب پوچھا گیا کہ اگلے سال آپ اپنی صحت کا خیال کیسے رکھیں گے تو انہوں نے کہا:
’’جس طرح پچھلے سال باقاعدگی سے ورزش کرتا رہا‘ اگلے سال کے لئے بھی میں نے اپنی اس صحت مند روٹین کو برقرار رکھنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ادویہ کے استعمال سے کئی گنا بہتر ہے کہ پرہیز کو اپنایا جائے ۔میرے نزدیک پرہیز سے مراد صحت مند طرزِ زندگی ہے جس کے اہم ترین پہلو ورزش اور متوازن غذا ہیں۔ جہاں تک ذہنی صحت کا تعلق ہے تو امید اور چیزوں کو ان کے مثبت پہلو سے دیکھنا ایسے عوامل ہیں جو اس میں بہتری لا سکتے ہیں۔ ان کی عدم موجودگی میں انسان کے لئے حالات سے لڑنا بے حد مشکل ہو جاتا ہے۔ امید کی شمع روشن کرنے اورلوگوں کو دکھانے کے لئے میں ایک بلاگ پر کام بھی کر رہا ہوں۔‘‘
باہر کے کھانے کم کھاؤں گا

(امجد اسلام امجد‘ معروف شاعر)
’اگر میری یاد آئے‘ جیسی شہرہ آفاق نظم کے خالق ‘ مشہور شاعر‘ ڈرامہ نگار اور گیت نگارامجد اسلام امجد54کتب کے مصنف اور کالم نگار بھی ہیں۔ شفانیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
’’عمر کے ساتھ ساتھ صحت سے وابستہ مسائل اور ان کی نوعیت بدلتی رہتی ہے۔ میں گزشتہ25 برس سے ذیابیطس میں مبتلا ہوں اور انسولین کا استعمال کرتا آ رہا ہوں۔ میں ہر سال کے آغاز پر یہی ارادہ کرتا ہوں کہ صحت مند طرز زندگی کو مضبو طی سے اپناؤں گا اور پوراسال شوگر لیول کو ڈسٹرب نہیں ہونے دوں گا۔ میں نہیں چاہتا کہ اس کی پیدا کردہ پیچیدگیاں میری زندگی کے دوسرے پہلوؤں پر بھی اثرانداز ہوں۔ مزید برآں ہر سال کی طرح یہ سال بھی باقاعدگی سے ورزش اور صحت بخش غذا کے عزم سے شروع ہو گا۔میرے لئے یہ ذرا مشکل ہوتا ہے‘ اس لئے کہ میری روٹین کچھ ایسی ہے کہ مجھے اکثر کھانا باہر سے کھانا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود اس عزم کی بدولت خود کو یادہانی کراتا رہوں گا کہ مجھے باہر کے کھانے قدرے کم کھانا ہیں ۔‘‘
عزائم کو وبال جان نہ بنائیں

(جواد احمد‘ گلوکار)
’اچیاں مجاجاں والی آکھ گئی‘ اور ’بن تیرے کیا ہے جینا‘ جیسے انمول گیتوں کے گائیک جواد احمدنئے سال کیلئے اپنے عزائم پر گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’نئے سال کی شروعات پر ہم بہت سارے ایسے عزائم کر لیتے ہیں جنہیں پورا کرنا ہمارے لئے مہینہ بھر کے لئے بھی مشکل ہو جاتا ہے۔اس لئے سب سے پہلی بات تو میں یہ کہوں گا کہ اس سال کی ابتداء پر صرف ایسے عزائم کریں جنہیں پورا کرنا آپ کے لئے وبال جان نہ ہو اور یہ ارادے غیر محسوس طریقے سے آپ کی عادات کا حصہ بن جائیں۔ صحت کے حوالے سے میری یہی کوشش رہتی ہے کہ ایسا کھانا کھاؤں جس میں چکنائیوں کی مقدار کم ہو۔ اس کے علاوہ میں پانی زیادہ پیتا ہوں اور ورزش باقاعدگی سے کرتا ہوں۔ ا گلے سال بھی انہی کوششوں کو جاری رکھنے کا ارادہ ہے۔‘‘
اگلے سال ورزش کو معمول بناؤں گا

(عارف علوی‘ راہنماپاکستان تحریک انصاف)
لوگوں کی اکثریت ڈاکٹر عارف علوی کو ایک سیاستدان‘ پارلیمنٹیرین اور تحریک انصاف کے ایک مرکزی راہنما کے طور پر جانتی ہے لیکن شاید کم لوگوں کو علم ہوکہ وہ پیشے کے اعتبار سے ڈینٹسٹ اور پاکستان ڈینٹل ایسوسی ایشن کے سابق صدر بھی ہیں۔ان کا کہنا ہے:
’’اکثر لوگوں کی طرح میری ذاتی ترجیحات میں بھی صحت پہلے کی بجائے دوسرے یا تیسرے نمبر پر آتی ہے۔ اسی ترجیح کی بنیاد پر پر کبھی کبھی ورزش کر لیتا یاسکوائش کھیل لیتا ہوں۔ اگلے سال کے عزائم میں ورزش اور اسی نوعیت کی دیگر سرگرمیوں میں باقاعدگی کی کوشش شامل ہوگی۔‘‘
جوگنگ کے بغیر نیند نہیں آتی

(جان شیر خان‘ سابق عالمی چیمپئین سکوائش )
جان شیر خان سکوائش کے عظیم کھلاڑی ہیں جنہوں نے پاکستان کے لئے آٹھ دفعہ ورلڈ اوپن اور چھے دفعہ برٹش اوپن جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 2002ء میں ان کی ریٹائرمنٹ سے سکوائش کے گراؤنڈز میں پاکستان کی بلا شرکت غیرے حاکمیت کا خاتمہ ہوگیا۔ شفانیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے جان شیر خان نے کہا:
’’جسمانی سرگرمیاں مثلاً دوڑنا، جاگنگ یا کھیل وغیرہ اچھی صحت کی ضامن ہیں۔ ایک سپورٹس مین ہونے کے ناطے میرے لئے یہ بہت مشکل ہے کہ کسی دن جاگنگ کو مِس کر دوں۔ یہ میری زندگی میں اس قدر اہمیت کی حامل ہے کہ اس کے بغیر مجھے نیند ہی نہیں آتی۔ میں روزانہ تین گھنٹے واک یاجاگنگ جیسی سرگرمیوں پر صرف کرتا ہوں۔ جہاں تک کھانے کے معمول کا تعلق ہے تو میں صبح کے وقت دلیہ، دوپہر کو پھلوں اورسبزیوں سے تیار کردہ ہلکے پھلکے سنیکس اور رات کو کم چکنائی والا کھانا کھاتا ہوں۔ یہی میری اچھی صحت اور فٹنس کا راز ہے جسے میں اگلے سال بھی قائم ودائم رکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔‘‘
اپنی صحت کا کوئی خاص خیال نہیں رکھتا

(شیخ رشید‘ سربراہ عوامی مسلم لیگ )
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا:
’’ہمارے کیا عزائم ہونے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ میں اپنی صحت کا کوئی خاص خیال نہیں رکھتا۔ ڈٹ کر کھاتا ہوں اور خوش رہتا ہوں۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس کے باوجود میری صحت اچھی ہے۔‘‘
وزن کا صحت مند لیول برقرار رکھوں گی

(حمیرا ارشد‘ گلوکارہ)
’’چوڑی کچ دی‘ اور ’گل سن ڈھولنا‘ جیسے شہرہ آفاق گیتوں سے شہرت حاصل کرنے والی فوک‘پاپ‘ کلچر اور غزل گائیک حمیرا ارشد صحت کے حوالے سے اگلے سال کے عزائم پر گفتگو کرتے ہوئے کہتی ہیں:
’’اچھی صحت کے لئے ضروری عوامل میں آپ کے وزن کا صحت مند حد میں ہونا‘ اچھی نیند اور پانی زیادہ پینا نمایاں ہیں۔ میں اپنے وزن کے صحت مند لیول کو برقرار رکھنے کے لئے ہر سال کی طرح اس سال بھی پرعزم ہوں۔ اس کے لئے صحت بخش خوراک مثلاً زیتون، دودھ، پھل، سبزیوں اور خشک میوہ جات کا استعمال جاری رکھوں گی۔‘‘
رہنما اصول ساتھ لے کر چلوں گا

(میاں یوسف صلاح الدین‘ سماجی شخصیت)
علامہ اقبال کے نواسے‘ سیاست دان اور معروف سماجی شخصیت میاں صلاح الدین کا کہناہے:
’’اپنی صحت کے لئے میری اولین ترجیح ورزش ہے۔ سکول کے زمانے سے ہی مجھے کھیلوں مثلاًکرکٹ، فٹ بال اور ہاکی وغیرہ میں حصہ لینے کا شوق رہا ہے۔ اب کھیلوں کا سلسلہ تو نہیں رہا البتہ ورزش باقاعدگی سے کرتا ہوں۔ عمر کے ساتھ ساتھ انسان ڈائیٹ کے معاملے میں حساس ہوتا چلا جاتا ہے۔ مرغن کھانے جوانی میں کھائے اور ہضم کیے جا سکتے ہیں لیکن بڑھتی عمر کے ساتھ ان کی مقدار کم کرنا پڑتی ہے۔ میری صورت حال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ اس کے علاوہ میں گھر میں تیارکردہ کھانوں کو باہر کی چیزوں پر ترجیح دیتا ہوں۔گھر میں تیار کردہ پنیر، دہی یا دیسی گھی کا استعمال مجھے پسند ہے۔ میں رات کا کھانا بہت تھوڑا کھانے کا عادی ہوں۔ صحت سے وابستہ یہی رہنما اصول اگلے سال بھی ساتھ لے کر چلنے کا عزم ہے۔‘‘
ووکل کارڈ کی سرجری کراؤں گا

(عبدالرشید گوڈیل‘ راہنما ایم کیو ایم )
ایم کیوایم کے راہنما اور رکن قومی اسمبلی عبدالرشید گوڈیل کو گزشتہ برس(2015ء میں) گولیاں لگیں تاہم آپ معجزانہ طور پر بچ گئے ۔خدا انہیں لمبی زندگی اور جلد صحت دے۔ جب وہ شفانیوز کے ساتھ گفتگو کررہے تھے تو ان کے لئے بولنا مشکل ہو رہاتھا۔ انہوں نے صرف اتنا کہا:
’’اگلے سال میرا ارادہ ووکل کارڈ کی سرجری کروانے کاہے۔ صحت کے حوالے سے یہی میری ترجیح ہوگی۔‘‘
ورزش کریں‘ ٹینشن سے بچیں

(ڈاکٹر ناہید گل‘ میڈیکل سپیشلسٹ‘ شفا انٹرنیشنل‘ اسلام آباد)
شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کی میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر ناہید گل کا کہناہے:
’’پرہیز‘ صحت کا اہم پہلو ہے جس پر لوگوں کو خاص طور پر توجہ دینی چاہئے۔ پاکستان میں لوگوں کا صحت مند سرگرمیوں کی طرف رحجان بہت ہی کم ہے۔ اگر آپ صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو متوازن غذا ‘ روزانہ 30منٹ کی ورزش اورذہنی تناؤ سے بچاؤ کو اپنا پختہ معمول بنائیں۔ اس کے علاوہ ٹینشن بہت سی بیماریوں کی جڑ ہے۔آپ کو چاہئے کہ ذہنی تناؤ پھیلانے والے نیوز چینلز نہ دیکھیں‘ ٹیبلٹ‘ موبائل اور سوشل میڈیا کو کم اوراپنی فیملی اور فرینڈزکو زیادہ وقت دیں۔
ہمارے معاشرے کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کام کے اوقات بہت زیادہ اور غیر صحت مندہیں۔ صبح سویرے گھر سے نکلنے اور رات کو دیر سے واپس آنے کے بعد کسی اور کام کیلئے وقت نہیں بچتا۔ ایسے میں ٹریڈمل سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم واضح رہے کہ یہ پارک میں ورزش کامتبادل نہیں۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ لوگوں میں ویکسی نیشن کا رجحان کم ہے ۔ پانچ سال کی عمر تک کی ویکسین سب بچوں کو لگنی چاہئے۔ اگر آپ ساری ویکسی نیشن نہیں کروانا چاہتے تو کم از کم ہیپاٹائٹس بی اور فلو کی ویکسین لازماً لگوا لیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سب سے ضروری عامل تمباکو نوشی سے پرہیز ہے۔‘‘
احساس اجاگر کریں‘ حل لوگ خود نکال لیں گے

(ڈاکٹر اشرف حسین‘ سربراہ شعبہ تشریح الاعضاء‘ شفا کالج آف میڈیسن‘ اسلام آباد)
شفا کالج آف میڈیسن اسلام آبادمیں شعبہ تشریح الاعضاء (anatomy)
کے سربراہ ڈاکٹر اشرف حسین کہتے ہیں: ’’اگر آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو لوگوں میں اس بات کا احساس پیدا کر دیں کہ صحت ایک اہم معاملہ ہے۔ اس کے بعد حل وہ خود نکالیں گے۔ باہر سے تجویز کردہ حل کبھی پائیدار نہیں ہوتا۔ اس کیلئے آپ کو پرائمری سطح پر تعلیم کوذریعہ بنانا پڑے گا۔ انہیں کہانیاں سنائی جائیں۔ انہیں بتایا جائے کہ ترقی کرنے والی اقوام کیسی ہوتی ہیں۔ اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ جہاں ممکن ہو‘ اسے لازمی قرار دے دیں۔ امریکہ میں ہر منتخب صدر کے لئے ضروری ہے کہ وہ روزانہ 40 منٹ کی ورزش کرے۔ نئے شادہ شدہ جوڑے اور مخصوص بیماریوں میں مبتلا افراد اپنے حالات کے مطابق پلان کر سکتے ہیں۔
ہماراصحت کی طرف دھیان جاتا ہی تب ہے جب ہم بیمار ہوتے ہیں۔ مزید برآں صحت کے بارے میں آگاہ کرنے والے لوگ اکثر دوسروں کے حالات کو نظر انداز کر کے غیر حقیقی مشورے دے دیتے ہیں۔ جن پر عمل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ کہناآسان ہے کہ آپ شام کو تھوڑی دیر واک کر لیاکریں لیکن جس شخص کو گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لئے دو دو نوکریاں کرنا پڑتی ہوں اور وہ شام کوتھکا ہارا گھر پہنچتا ہو‘ وہ کیسے واک کرے گا۔ا س لئے یہ ضروری ہے کہ لوگوں کے حالات کو دیکھتے ہوئے اور حقیقت پسندانہ انداز میں صحت کے بارے میں بات کی جائے۔‘‘

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

Weight Loss Shifa News

“Happy New Year” is the slogan people chant when clock strikes 12 AM on 1st January every year.

We want to give you an idea as to what shape healthcare may take in future based on the ongoing rese

 کھانے کی بات ہو اور لوگ ہلکی پھلکی غذا کو مناسب مقدا

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of