تھیلسیمیا کی اقسام

1

تھیلسیمیا کی اقسام

اس کی دو بڑی اقسام درج ذیل ہیں

تھیلسیمیا مائنر

وا لدین میں سے اگر کوئی ایک اس مرض سے پاک ہو جبکہ دوسرے کے خون میں ہیمو گلوبن ٹھیک نہ ہو تو ان کے ہاں پیدا ہونےوالا بچہ تھیلسیمیامائنر کا شکارہوگا۔ ایسے بچوں میں خون کی معمولی کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ تھیلسیمیا کی یہ قسم زیادہ خطرناک نہیں ہوتی ۔اس میں مبتلا فرد معمول کی زندگی گزار سکتاہے۔

تھیلسیمیا میجر

اگردونو ں والدین اس مرض کا شکار ہوں تو ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچے میں اس مرض کی شدیدقسم پائی جائے گی۔ اسے تھلیسیمیا میجر کہتے ہیں ۔ ایک عام شخص میں ہیموگلوبن کی مقدار تقریباً 12گرام فی ڈیسی لیٹر ہوتی ہے۔ اس کے برعکس تھیلسمیامیجر کی صورت میں اس کی مقدار چار گرام فی ڈیسی لیٹر تک گر جاتی ہے۔ ایسے میں پیدا ہونے والے بچے جتنا عرصہ زندہ رہتے ہیں‘ اتنا عرصہ انہیں خون کے عطئے کی ضرورت رہتی ہے۔ یوں اس کے ساتھ ساتھ اس کا پورا خاندان بھی مشکلات کا شکار رہتا ہے۔

گودے کی پیوندکاری

تھیلسیمیا کا پائیدارعلاج گودے کی پیوندکاری ہے۔ یہ کافی مہنگا ہے لہٰذا ہر شخص اس کے اخراجات اٹھانے کی استطاعت نہیں رکھتا۔اگر یہ پیوندکاری بروقت ہوجائے تو اس بات کے امکانات 80 فی صد بڑھ جاتے ہیں کہ بچہ صحت مند زندگی گزار سکے۔

 پہلی بات یہ ہے کہ تھیلسیمیا کے بارے میں آگاہی حاصل کی جائے۔دوسری یہ کہ پرہیز کے پہلو کو یقینی بنائیں ‘ اس لئے کہ یہی اس مسئلے کا پائیدارحل ہے۔ یہ بات دھیان میں رہے کہ اس بیماری میں مبتلا ہونے والا بچہ صرف خود ہی تکلیف کا شکار نہیں ہوتابلکہ اس کے تمام اہل خانہ کی زندگی بھی اجیرن ہوجاتی ہے ۔اس لئے کوشش کریں کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے اس بیماری سے خود کو اور اپنے آنے والی نسلوں کو محفوظ کریں۔

types of thalassemia, major , minor, treatment, bone marrow transplant

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x