ککروں میں کیا کریں

ککروں میں کیا کریں

آنکھیں قدرت کا وہ تحفہ ہیں جن کی مدد سے ہم دیکھتے ہیں ۔ اگر یہ ٹھیک طرح سے کام نہ کریں تو ہماری دنیا اندھیرہوجائے۔ اس لئے ان کی صفائی اوردیکھ بھال کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اگر اس سے پہلوتہی کی جائے تو آنکھوں میں ککروں کی بیماری ہوسکتی ہے۔ یہ ایک متعدی مرض ہے جو ایک بیکٹیریم کلے مائیڈیا ٹریکومیٹس کی وجہ سے ہوتا ہے جو آنکھ کے حساس حصے یعنی کورنیا اورآنکھ کے سفید پردے  کو نشانہ بناتا ہے۔ اس سے پپوٹے میں چھوٹے چھوٹے دانے بن جاتے ہیں۔

اس مرض کا باعث بننے والا جرثومہ پہلے مرحلے میں آنکھ میں داخل ہوکراس کے حساس حصوں میں انفیکشن کا باعث بنتا ہے۔ اس کی وجہ سے پپوٹوں کی اندرونی سطح کھردری اورناہموارہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں آنکھ میں شدید درد ہوتا ہے، وہ سرخ ہوجاتی ہے‘ پلکیں آنکھوں کی طرف مڑکر تکلیف دیتی ہیں اوربعض اوقات آنکھ کے نرم حصے پھٹ بھی جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ تیزروشنی میں آنکھیں بند ہونے اوربعض اوقات کانوں کے پیچھے لمف نوڈزکے سوج جانے یا آنکھوں سے خاص قسم کا مواد خارج ہونے کی علامات بھی سامنے آتی ہیں۔ دوسرے مرحلے میں زخم بھرتے ہیں اوراپنی جگہ پر سخت ہوکربعض اوقات نابیناپن کا باعث بھی بن جاتے ہیں۔

بچاؤ کی تدابیر

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ککروں کی بیماری سے نپٹنے کے لئے سیف کے اصول پرعمل کرنا چاہئے۔ اس کے مطابق جب ککرے بگڑ جائیں اوربہت زیادہ تنگ کرنے لگیں تو ڈاکٹر کے مشورے سے سرجری کے آپشن سے فائدہ اٹھائیں۔ اگر معالج کے مطابق تکلیف محض ادویات سے قابو کی جاسکتی ہو تو اس کی ہدات کے مطابق اینٹی بائیوٹکس لیں۔ اس کے علاوہ اپنے ماحول کو آلودگی اورکیڑے مکوڑوں خصوصاً مکھیوں سے پاک رکھنا بہت ضروری ہے۔ ککروں سے بچنے کے لئے

٭اپنے ماحول کوصاف ستھرارکھیں۔

٭بیت الخلاء کی صفائی کوہرگزنظرانداز نہ کریں۔

٭بچوں کے چہرے، ہاتھوں اور کھیلنے کی جگہ کو گندگی سے پاک رکھیں۔

٭ان مریضوں سے ہاتھ ملانے اوران کے استعمال کی اشیاء خصوصاً تولئے وغیرہ کو استعمال کرنے سے گریز کریں۔ اگر ان سے مصافحہ کیا ہو تو صابن سے ہاتھ دھوئیں۔

٭آنکھوں کو کسی کیمیکل سے دھونے کی ضرورت نہیں بلکہ صاف پانی ہی کافی ہے۔ جراثیم سے آلودہ پانی آنکھوں میں جراثیم لے جانے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لئے ابلے ہوئے پانی کو ٹھنڈا کر کے یا فلٹرشدہ پانی استعمال کریں۔

conjunctivitis, SAFE, pink eye,how to prevent pink eye

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

LEAVE YOUR COMMENTS