ہائپوتھائی رائیڈازم کی علامات، وجوہات اور علاج

غدود سے خارج ہونے والی رطوبتیں جسمانی تبدیلیوں یا افعال کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان کی ضرورت سے کم یا زیادہ مقدار مختلف مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ ان میں سے ایک ہائپو تھائی رائیڈازم بھی ہے۔

تھائی رائیڈ غدود جسم کے لئے مناسب مقدار میں تھائی رائیڈ ہارمون بناتا ہے۔ یہ ہارمون دل کی دھڑکن، وزن، پٹھوں کی طاقت، سانس، جسمانی درجہ حرارت، خون میں چربی کی مقدار، ماہانہ ایام اور توانائی استعمال ہونے جیسے مختلف عوامل کو باقاعدہ رکھتا ہے۔ تاہم بعض اوقات یہ غدہ اس ہارمون کی مناسب مقدار نہیں بناتا اور اس کیفیت کو ہائپو تھائی رائیڈازم کہتے ہیں۔ دنیا بھر میں تقریباً پانچ فیصد افراد اس کیفیت کا شکار ہیں۔ ان کے علاوہ پانچ فی صد کیسز میں اس کی تشخیص نہیں ہو پاتی۔

ماضی میں تھائی رائیڈ کے کسی مسئلے میں مبتلا ہونے یا اس کا علاج کروانے والے افراد میں اس کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ہائپو تھائی رائیڈازم کے امکانات میں اضافہ کرنے والے دیگر عوامل میں آٹوامیون بیماریوں یعنی لوپس یا روماٹائیڈ آرتھرائٹس کا شکار ہونا، ٹرنرسینڈروم (خواتین کی نشوونما کو متاثر کرنے والا جینیاتی مرض)، آنکھوں اور منہ کو خشک کرنے والا مرض (sjogren’s syndrome) شامل ہیں۔

ہائپوتھائ رائیڈازم کی وجوہات اور علامات

ہائپوتھائی رائیڈازم کا ایک سبب ہاشی موٹوز ڈیزیز ہے۔ تھائی رائیڈ کی سوزش، پیدائشی طور پر مرض کی موجودگی، سرجری کے ذریعے تھائی رائیڈ کو مکمل یا جزوی طور پر نکالنا، شعاعوں کے ذریعے تھائی رائیڈ کا علاج کروانا،مخصوص ادویات، پچوٹری گلینڈ کی بیماری اور آئیوڈین کی زیادتی یا کمی بھی ہائپو تھائی رائیڈازم کا سبب بن سکتی ہے۔

تھکاوٹ، وزن بڑھ جانا، چہرے پر سوجن، ٹھنڈ برداشت کرنے میں دشواری، پٹھوں اورجوڑوں میں درد، قبض، جلد خشک ہو جانا، بالوں کا خشک اور پتلا ہوجانا، ایام کا زیادہ یا بے قاعدہ ہونا، خواتین میں حمل ٹھہرنے میں دشواری، ذہنی تناؤ، دھڑکن سست ہونا اور تھائی رائیڈ میں سوجن اس کی علامات ہیں۔ یہ ہرفرد میں مختلف ہو سکتی ہیں۔

ہائپو تھائی رائیڈازم-شفانیوز

ہائپو تھائی رائیڈازم کی تشخیص اور علاج

اس کی تشخیص مریض کی میڈیکل ہسٹری، معائنے اور تھائی رائیڈ کے ٹیسٹوں سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد ادویات دی جاتی ہیں جو ہارمونز کی کمی کو پورا کرتی ہیں۔ ادویات استعمال کرنے کے کچھ ہفتوں بعد مریض کے خون کا نمونہ لے کر اس میں ہارمون کی مقدار کو دیکھا جاتا ہے۔ نتائج کے مطابق ادویات کی مقدار کم یا زیادہ کی جاتی ہے۔ پھر سالانہ ایک مرتبہ خون کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔

ہاشی موٹوز ڈیزیز اور آٹو امیون بیماریوں کے باعث ہونے والے تھائی رائیڈ کے دیگر مسائل کی صورت میں آئیوڈین کے ضمنی اثرات کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ ایسے میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہئے کہ کن ادویات، سپلی منٹس اور کھانوں سے گریز کرنا ضروری ہے۔ خواتین کو دوران حمل معمول سے زیادہ آئیوڈین کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں بھی رہنمائی حاصل کریں۔

ہائپو تھائی رائیڈازم کولیسٹرول کی زیادتی اور بہت ہی کم صورتوں میں ایک ایسی کیفیت کا باعث بن سکتا ہے جس میں جسمانی افعال خطرناک حد تک سست ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوران حمل خواتین کو پیچیدگیوں کا سامنا ہوسکتا ہے اور بچے کی نشوونما بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ لہٰذا مرض کی تشخیص ہو تو بروقت علاج کروائیں۔

hypothyroidism, underactive thyroidism, thyroid hormones ki kami, shifanews, health, hormonal issues, harmones k masail, causes of hypothyroidism

Vinkmag ad

Read Previous

گدگدی کیوں ہوتی ہے

Read Next

Forgetfulness: Causes & tips to improve memory

Leave a Reply

Most Popular