گدگدی کیوں ہوتی ہے

آپ نے غور کیا ہوگا کہ ہمارے جسم کے کچھ حصے دوسروں کی نسبت زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی اچانک گھٹنوں سے تھوڑا اوپر ران پر ہاتھ رکھے تو کچھ مختلف طرح کا محسوس ہوتا ہے۔ تاہم اگر یہی عمل بغلوں میں یا تلوؤں پر کیا جائے تو فرد کو نہ صرف گدگدی ہوگی بلکہ اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئے گی اور قہقہہ بھی امڈ سکتا ہے۔ ایسے میں وہ خود کو چھوئے جانے سے بچانے کی کوشش بھی کرے گا۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ گدگدی کیوں ہوتی ہے؟ آئیے جانتے ہیں:

گدگدی کا یہ احساس کچھ لوگوں کو کم جبکہ کچھ کو بہت زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ بعض افراد تو ایسے بھی ہیں جنہیں صرف اس نیت سے دیکھا جائے تو وہ اونچا اونچا ہنسنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف جب ہم خود کو چھوتے یا گدگداتے ہیں تو کوئی اثر نہیں ہوتا۔

گدگدی کی سائنس

ہماری جلد کے نیچے لاکھوں کی تعداد میں ایسے اعصاب ہوتے ہیں جو چھوئے جانے یا ٹھنڈا گرم لگنے پر دماغ کو الرٹ کرتے ہیں۔ یہی حس ہمیں جلنے یا سرد موسم سے بچنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ جب کسی فرد یا چیز کا رابطہ ہماری بیرونی جلد سے ہوتا ہے تو یہ اعصاب متحرک ہو کر دماغ کو پیغام پہنچاتے ہیں۔

گدگدی کا احساس پید ا کرنے میں دماغ کے دو حصے کام کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک چھونے کی شدت یا پریشر کا جائزہ لیتا ہے جبکہ دوسرا خوشگوار احساس پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح ہائپوتھیلمس (غیر ارادی رد عمل کو کنٹرول کرنے والا دماغ کا حصہ ) گدگدانے پر جسم کو مقابلہ کرنے یا بھاگنے کے لئے تیار کرتا ہے۔ اس کے باعث متعلقہ شخص کی جانب سے مختلف طرح کے رد عمل سامنے آتے ہیں۔ مثلاً چیخنا، زور زور سے ہنسنا، جھک جانا یا سامنے موجود شخص کو مارنا وغیرہ۔

جسم کے وہ حساس حصے جن میں گدگدی زیادہ ہوتی ہے، ان میں پیٹ، بغلیں،گردن، پہلو اور پاؤں شامل ہیں۔ گدگدی سے متعلق مختلف سائنسی نظریات میں سے ایک کے مطابق یہ دفاعی نظام کا ایک حصہ ہے۔ اس کے باعث جسم کے نازک اور حساس حصوں کو بچانے کے لئے فرد فوری رد عمل ظاہر کرتا ہے۔

جسم پر سب سے زیادہ گدگدی کہاں ہوتی ہے-شفانیوز

گدگدی کی قمسیں

گدگدی دو طرح کی ہوتی ہے۔ پہلی(knismesis) وہ ہے جس میں اس کا ہلکا سا احساس ہوتا ہے جو خوشگوار یا نا خوشگوار ہو سکتا ہے۔ دوسری (gargalesis) شدید قسم کی گدگدی ہے۔ ان میں سے صرف دوسری قسم ایسی ہے جو کسی شخص کے چھونے سے محسوس ہوتی ہے۔ اپنے ہاتھوں سے خود کو گد گدانے میں ناکام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم خود کو چھوتے ہیں تو دماغ کے پیچھے موجود حصے (cerebellum) کو معلوم ہوجاتا ہے کہ ایسا ہونے والا ہے لہٰذا اس احساس کی شدت ختم ہوجاتی ہے۔

tickling, what causes tickling sensation, cause of tickling, tickling science, gudgudi kyun hoti hai, shifanews, health

Vinkmag ad

Read Previous

MYTH: Bitter food and juice intake can cure diabetes

Read Next

ہائپوتھائی رائیڈازم کی علامات، وجوہات اور علاج

Leave a Reply

Most Popular