سرجری کے تناظر میں علاج کے امکانات

217

بعض لوگوں کو اپنے بارے میں شبہ ہوتا ہے کہ وہ موٹے ہیں حالانکہ یہ ان کا وہم ہوتا ہے جبکہ کچھ لوگ حقیقت میں موٹے ہوتے ہیں لیکن وہ اس سے آگاہ نہیں ہوتے ۔ آسان لفظوں میں بتائیے کہ موٹاپا ہے کیا؟
موٹاپا اےک اےسی اصطلاح ہے جسے ہمارے ہاں ہراس شخص کےلئے بے درےغ استعمال کر لےا جاتا ہے جو دےکھنے مےں ذرابھاری بھرکم لگے۔ ےہ کوئی درست پیمانہ نہےں‘ اس لئے کہ ہر شخص کےلئے موزوں وزن اس کے قد کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ تکنےکی زبان مےں ماہرےن اسے ”باڈی ماس انڈےکس“ ےا بی اےم آئی کہتے ہےں جسے معلوم کرنے کےلئے فرد کے وزن کو اس کے قدسے تقسےم کےا جاتا ہے۔ ےہ فارمولا ابتداً انشورنس کمپنےوں نے تےار کےا تھا جس کا مقصد ےہ تھا کہ انشورنس کرانے والے فرد کی صحت کولاحق ممکنہ خطرات کی بنےاد پر اس کا پرےمےم طے کےا جا سکے۔ دوسرے لفظوں مےں وہ اس بات سے آگاہ تھے کہ قد کے حوالے سے وزن کا مناسب حد مےں رہنا ضروری ہے اور اگر وہ اس سے تجاوز کر جائے تو انسانی صحت کےلئے نقصان ےا خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ بی ایم آئی کی بنیاد پرہی فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ کوئی فرد کتنا موٹا ہے اور کتنا خطرے کی زد میں ہے۔

٭کس سطح پر بی ایم آئی نارمل یا خطرناک تصور ہوتا ہے؟
٭٭ورلڈ ہےلتھ آرگنائزےشن کے مطابق اگرکسی فرد کا بی اےم آئی 18سے 24.9 کے درمےان ہو تواس کے وزن کو نارمل قرار دےا جاتا ہے ۔ اگر وہ25سے 29.9 کے درمےان ہو توہم فرد کو موٹاےا زےادہ وزنی کہہ سکتے ہےںجس کےلئے انگرےزی مےںاُووروَےٹ(over weightکی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ۔اگرکسی شخص کا بی اےم آئی 30 سے تجاوز کر جائے تو پھر اس کا موٹاپا عام درجے مےں نہےں رہتا بلکہ خطرے کی حدود مےں داخل ہو جاتا ہے‘ اس لئے کہ اس موٹاپے کی وجہ سے اسے متعدد بےمارےاں لاحق ہو سکتی ہےں۔ انگرےزی مےں موٹاپے کے اس درجے کو فربہی(obesity) اور اس کے حامل افراد کوتوندل یا فربہ شکم (obese) کہا جاتا ہے۔

٭ کیا ’اوبیسٹی“ صحت کے لئے خطرناک مرحلہ ہے؟
٭٭وزن کے تناظر میں خطرے کی شدت کے مزےد تجزئےے کےلئے ”اوبیسیٹی “ کو اول ےا ہلکے‘ دوم ےا درمےانہ اور سوم ےا شدےد مےں تقسےم کےا جاتا ہے۔ ماہرےن کے مطابق اگر کسی شخص کابی اےم آئی 30 تا 34.9 ہو توےہ اس بات کی علامت ہے کہ فرد خطرے کی حد مےں داخل ہو چکا ہے‘ تاہم ےہ خطرہ ابھی پہلے درجے مےں ہے لہٰذا اب اسے معمولی سمجھ کرنظرانداز نہ کےا جائے۔ اگربی اےم آئی 35 اور39.9 کے درمےان ہو تو معلوم ہونا چاہئے کہ خطرہ اب اس سے اگلے درجے تک پہنچ چکا ہے۔ اور اگر بی اےم آئی 40 سے تجاوز کر جائے توفرد شدےد قسم کے خطرے سے دوچار ہے اورےہ وہ مرحلہ ہے جب فرد مےں موٹاپے کی وجہ سے ہارٹ اٹےک‘فالج‘ نےند مےں خراٹوں‘ بلڈ پرےشر‘ ٹائپ ٹو ذےابےطس‘ سرمےں درد‘ کولےسٹرول کی زےادتی‘ جوڑوں کی تکلےف‘ پےشاب پر کنٹرول کم ہونے اور کئی طرح کے کےنسر زکا امکان بھی پےدا ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی بےمارےوں کی اےک طوےل فہرست ہے جو وزن بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔ طب کی زبان مےں موٹاپے کی اس کےفےت کو بیماری والی فربہی) (morbid obesity کہا جاتا ہے۔ جینیاتی اور کچھ دیگر عوامل کی وجہ سے پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک میںبی ایم آئی 20تا25ہو تو یہ درمیانے درجے کا موٹاپا ہے اور اسے بھی خطرے کی علامت سمجھا جانا چاہئے۔ 30تا35بی ایم آئی کوبیماری والا فربہیسمجھا جاتا ہے جبکہ بی ایم آئی 40 موٹاپے کی آخری حد تصور ہوتی ہے۔

٭ وزن کو کم کرنے کےلئے ہمیںکیا کرنا چاہئے؟
٭٭عام حالات مےں وزن کم کرنے کےلئے غذا مےں احتےاط اور باقاعدہ ورزش کو دو لازمی اجزاءقرار دیا جاتا ہے ہےں لےکن آخری درجے کے موٹاپے مےں مرےض کےلئے عام نقل و حرکت بھی مشکل ہوجاتی ہے لہٰذا ورزش تو وہ بالکل نہےں کر سکتا۔ اب اس کے پاس صرف اےک راستہ ےعنی غذا مےں احتےاط ہی باقی رہ جاتا ہے۔جب کوئی شخص اس طرح کے موٹاپے کا شکار ہو جائے تو پھراسے کنٹرول کرنے مےں غذا کے اثرات بھی دےرپا نہےں رہتے۔ ایسے میں بعض اوقات کچھ ادوےات کی بھی مدد لی جاتی ہے جو فرد کی بھوک مٹا دےتی ہےں لےکن ان ادوےات کاصحےح اثر اسی وقت ہوتا ہے جب اس کے ساتھ غذا مےں احتےاط اورباقاعدہ ورزش بھی کی جائے۔مزےد براں ادوےات کی مدد سے پانچ یا10 کلوگرام وزن کم بھی کر لےا جائے تومرےضانہ موٹاپے مےں کمی کی ےہ شرح اتنی نہےںجواےسے افراد کوکچھ فائدہ پہنچا سکے۔

٭جب غذا میں احتیاط، ورزش اور دواوں سے فائدہ نہ ہو تو کیا کرنا چاہئے؟
٭٭ جب ان عوامل کی مدد سے اس پر قابوپانا ممکن نہ رہے تو پھرمرےض کےلئے ”وےٹ لاس سرجری“ تجوےز کی جاتی ہے۔امرےکہ کے نےشنل انسٹی ٹےوٹ آف ہےلتھ اور وزن کم کرنے سے متعلق سرجری کے ماہرےن پر مشتمل ادارے ”امرےکن سوسائٹی آف بےری اےٹرک سرجری‘ ‘ کے مطابق اگرکسی فرد کا بی اےم آئی 35 سے زےادہ ہو اور اس کے ساتھ وہ ہائی بلڈپرےشر‘ ذےابےطس اور کولےسٹرول کی زےادتی کا بھی شکار ہو اور وہ غذا اور ورزش کے ذرےعے وزن کم کرنے مےں ناکام ہوجائے توپھر اس کی سرجری کی جا سکتی ہے۔ عالمی ادارئہ صحت نے اےشےا مےں مزےد کم بی اےم آئی والے افراد کوبھی اس سرجری کا اہل قرار دےا ہے‘ اس لئے کہ ےہاں متعلقہ بےمارےاں نسبتاً کم موٹاپے مےں ہی شروع ہو جاتی ہےں۔ اس تناظر مےں پاکستان مےں اگرکسی شخص کا بی اےم آئی 30 بھی ہے اوروہ غذااور ورزش سے وزن کم نہےں کرپا رہا اور اس کے ساتھ ساتھ اسے موٹاپے سے وابستہ بےمارےاں بھی ہےں تو وہ ےہ آپرےشن کرا سکتا ہے۔ اگرکسی کا بی اےم آئی 40 سے زےادہ ہے اور اسے مذکورہ بےمارےاں نہےں توبھی وہ سرجری کے ذرےعے اپنا وزن کم کرا سکتا ہے ‘ اس لئے کہ اگر موٹاپے پر قابو نہ پاےا گےا تو آگے چل کر اسے ےہ بےمارےاں لازماً لاحق ہو جائےں گی۔

٭ آج کل اےک سرجری کا بہت چرچا ہے جس مےں انسانی جسم سے فالتو چربی نکال دی جاتی ہے۔ کےا واقعی اس سے وزن کم ہوجاتا ہے؟
٭٭اس آپرےشن کو لائپوسکشن (Liposuction) کہا جاتا ہے جس میں جلد کے نےچے اورپٹھوں کے اوپر موجود چربی کو نکال دےا جاتا ہے جبکہ اس چربی کو نہیں چھوا جاتا جو پےٹ کے اندر ہوتی ہے اور بےمارےوں کا اصل سبب بنتی ہے۔ لائپوسکشن کا بظاہر مقصد چھاتی‘ کولہے‘ ٹھوڑی ےا پےٹ سے فالتو چربی نکال کر انہےں خوبصورت بناناہوتا ہے۔ یہ آپرےشن ”وےٹ لاس سرجری“ نہےں اور آخری حدوں کو چھوتے موٹاپے مےں تو بالکل بھی کارآمد ثابت نہےں ہوتی۔

٭ وزن گھٹانے والی سرجری کون سی ہے؟
٭٭وزن گھٹانے کےلئے کی جانے والی سرجرےز کو ”بیری ایٹرک سرجری “ کہا جاتا ہے ۔بنےادی طور پراسے دو اقسام مےں تقسےم کےا جاتا ہے اورمرےض کےلئے موزوں آپرےشن کا دارومدار اس کو لاحق بےمارےوں اور اس کے طرزِزندگی کے علاوہ اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ کےا وہ زےادہ بار ہسپتال آسکتا ہے ےا نہےں۔ پہلی قسم کے آپرےشن وہ ہےں جن مےں مرےض کے معدے کا حجم کم کر کے ان کے کھانے کی مقدار کم کر دی جاتی ہے۔ اےک دفعہ جب ےہ وزن مطلوبہ حد تک آ جائے تو پھرمرےضوں کے طرزِ زندگی مےں اےسی تبدےلےاں تجوےز کی جاتی ہےں کہ وہ دوبارہ اس درجے کے موٹاپے کا شکار نہ ہوں۔ انہےں رکاوٹ ڈالنے والے آپریشن
(resrtictive procedures)کہا جاتا ہے ۔ دوسری قسم کے آپرےشنوں مےں کھانے کی مقدار مےں کمی کے انتظام کے ساتھ ساتھ ےہ بندوبست بھی کےا جاتا ہے کہ کھانا معدے ےا انتڑےوںمےں جا کر پوری طرح سے ہضم ےا جذب نہ ہونے پائے اور جسم سے باہر خارج ہو جائے۔ اےسے پروسےجرز کی اےک مثال ”آر اےن وائی گےسٹرک بائی پاس (RNY-Gastric Bypass) ہے۔ ےہ آپرےشن تےزی سے وزن کم کرنے کے حوالے سے زےادہ دہ موثر ثابت ہوتے ہےں۔اس کے علاوہ ایک سرجری اور بھی ہے جسے لیپ بینڈ سرجری کہا جاتا ہے۔

٭ لیپ بینڈ سرجری کیا ہے ‘ کیسے ہوتی ہے اور اس کاکیا فائدہ ہے؟
٭٭وزن گھٹانے سے متعلق اس آپرےشن مےں معدے کے اوپر والے حصے مےں سےلےکان کا بنا ہوا چھوٹا سا بےنڈلگا دےا جاتا ہے۔ ےہ بالکل اس طرح ہے جس طرح ہم اپنی کمر کے گرد بےلٹ باندھ دےتے ہےں۔بےنڈ کی وجہ سے معدے کے اوپر چھوٹا سا خانہ بن جاتا ہے جو تھوڑا سا کھانا کھانے سے ہی بھر جاتا ہے اور مرےض کو پےٹ بھرے ہونے کا احساس ہوتا ہے اور وہ زےادہ نہےں کھاپاتا۔ اس کے بعد خوراک تھوڑی تھوڑی کر کے معدے کے نچلے حصے مےں گرتی ہے۔ اس کی مثال آورگلاس (hourglass) کی ہے جو کمر سے پتلا ہوتا ہے اوراس مےں سے رےت تھوڑی تھوڑی کر کے نچلے حصے مےںآتی ہے ۔بےنڈ ہی کی مناسبت سے اس سرجری کو ”لےپ بےنڈ سرجری “کہا جاتا ہے۔ اس آپرےشن مےں مرےض کی جلد کے نےچے ”ٹائی ٹےنےم“ سے بنا اےک پورٹ لگاےا جاتا ہے جسے سےلےکان سے بنی ہوئی اےک ٹےوب کے ذرےعے بےنڈکے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ بےنڈ ےارِنگ کے اندر اےک غبارہ سا لگا ہوتا ہے اورپورٹ مےں جب پانی ڈالا جاتا ہے تو وہ اس ٹےوب مےںسے ہوتا ہوا غبارے تک پہنچ کر اسے پھُلا دےتا ہے اور بےنڈسخت ہوجاتا ہے۔ سرجری کے بعد مرےض کے وزن مےں کمی کے مطابق اسے اےڈجسٹ کےا جاتا ہے اور ہرمرےض کی کےفےت کے مطابق اسے سال مےںدو‘ تےن ےاچار بار اےڈجسٹ کرنا پڑتا ہے۔ دوبارہ اےڈجسٹ کرنے کےلئے نئے سرے سے سرجری کی ضرورت نہےں ہوتی بلکہ ےہ عمل کلےنک مےںہی ہو جاتا ہے۔ پورٹ جسم مےں مستقلاًلگا رہتا ہے اورمرےض کوہداےت کی جاتی ہے کہ وہ اپنی غذا کاخےال رکھے اور باقاعدگی سے ورزش کرے۔ اس طرح کم کھانے سے مرےض کا وزن بتدرےج کم ہوتا جاتا ہے۔

٭کیا اس آپریشن کے بعد کچھ خاص احتیاطیں کرناہوتی ہیں؟
٭اس آپرےشن کے بعد چونکہ مرےض کی خوراک کم ہو جاتی ہے لہٰذا خواتےن کو مشورہ دےا جاتا ہے کہ سرجری کے بعد اےک سال تک حمل سے اجتناب کرےں‘ اس لئے کہ اگر اس دوران حمل ہو جائے تو ماں اور بچے‘ دونوں کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ اگر اس کے باوجود حمل ٹھہر جائے تو پھر بےنڈکو ڈھےلا کردےا جاتا ہے تاکہ ماں کچھ کھا پی سکے اوربچے کی پےدائش کے بعد اسے دوبارہ اےڈجسٹ کردےاجاتا ہے ۔اس انتظام سے فوری طور پر مسئلہ تو حل ہو جاتا ہے لےکن اس سے وزن کم کرنے کے حوالے سے نتائج پر منفی اثرپڑتا ہے۔ تردد سے بچنے کےلئے بہتر ےہی ہے کہ پہلے سال ہر صورت حمل سے اجتناب کےا جائے۔ اگر کوئی مرےض محسوس کرے کہ اس کے وزن مےں کمی مطلوبہ شرح سے نہےں ہو رہی تو اسے فوری طور پر اپنے معالج سے رابطہ کرنا ہوتا ہے۔ اس کی اےک وجہ بےنڈ کاٹھےک طرح سے کام نہ کرنا ےا ٹےوب کاٹوٹ جانا ہوتا ہے جسے ڈاکٹر تبدےل کردےتا ہے۔ اس کے عام طور پر کوئی مضراثرات نہےں ہوتے۔ آپرےشن کی کامےابی کا ےقےن کرنے کےلئے آپرےشن سے اگلے دن مرےض کو اےک دوا (ڈائی )پلا کراےکسرے لےا جاتاہے جسے دےکھ کر رےڈےالوجسٹ بتا دےتا ہے کہ ےہ انتظام ٹھےک کام کر رہا ہے ےا نہےں۔ اگر مستقبل مےں بھی کوئی مسئلہ ہو تو ےہی طرےقہ دہرا لےا جاتا ہے۔

٭آغاز میں آپ نے معدے کا حجم کم کرنے والی ایک سرجری کا ذکر کیا تھا۔ اس کی تفصیل کیا ہے ؟
٭٭میڈیسن کی زبان میں اسے لیپرا سکوپک سلیو گیسٹریکٹومی (Laparoscopic Sleeve Gastrectomy)کہاجاتا ہے۔اس آپرےشن مےں مرےض کے پےٹ مےں لےپروسکوپ کی مدد سے اےک ٹےوب ڈال کرمعدے کے مطلوبہ سائز کا اندازہ لگاےا جاتا ہے۔ اس سائز کے مطابق معدے کے باہر والے حصے کوکاٹ کراس طرح چھوٹا کےا جاتا ہے کہ باقی معدہ اےک ٹےوب ےا کےلے کی شکل کا بن جاتا ہے۔ کاٹنے کے اس عمل مےں خاص طرح کے سٹےپلرز(stapler) استعمال کئے جاتے ہےں۔ عام معدے مےں کھانے پےنے کی تقریباً دو لٹر چےزوں کی گنجائش ہوتی ہے لےکن معدے کا سائز چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس میں بہت ہی کم مقدار میں چےزےںذخےرہ کی جاسکتی ہےں۔اس آپرےشن مےں کوئی مصنوعی چےز معدے ےا جسم کے کسی حصے مےں نہےں لگائی جاتی۔ معدے کا سائز چھوٹا ہو جانے کے دو فوائد ہےں۔پہلا فائدہ ےہ ہے کہ مرےض کوتھوڑا سا کھانا کھانے کے بعد ہی ےہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کا پےٹ بھر گےا ہے اوروہ زےادہ نہےں کھا پاتا۔ اس کا دوسرا فائدہ ےہ ہے کہ معدے کاجب 80 فی صد سے زےادہ حصہ نکال دےا جاتا ہے تواس کے ساتھ ہی ان ہارمونزکی بڑی تعداد بھی نکل جاتی ہے جو بھوک کو محسوس کرتے اور اس کو محسوس کراتے ہےں۔اس طرح معدے کا سائز چھوٹا ہونے کی وجہ سے مرےض نہ صرف کم کھانے کی گنجائش رکھتا ہے بلکہ اسے بھوک کا احساس بھی کم ہوتا ہے ۔

٭کیااس کا مریض کو نقصان نہیں ہوتا ؟
٭٭معدے کا سائز چھوٹا کرنا بظاہر غےرفطری عمل ہے لےکن مرےض کو بڑے نقصان سے بچانے کےلئے ےہ ضروری ہوتا ہے۔ مزےد براں اس کی خوراک مقدار مےں کم ضرورہوجاتی ہے لےکن اس مےںوٹامن اور دےگر اہم اجزاءکو کم نہےںکےا جاتا۔آپرےشن کے بعد مرےض کو 70گرام پروٹےن‘ کچھ پانی اور ملٹی وٹامن دئےے جاتے ہےں جن مےں آئرن‘ بی 12 وغےرہ شامل ہوتے ہےں جو انہےں روزانہ کھاناہوتے ہےں۔مرےض کو غذا شروع مےں مائع شکل مےں دی جاتی ہے جبکہ بعد مےں وہ بلینڈرمےں اچھی طرح ملا کر دی جاتی ہے۔آپرےشن کے بعد تقرےباً دوسرے ےا تےسرے ماہ وہ کم مقدار مےں باقاعدہ غذا پر آجاتے ہےں۔ مرےض کو شروع شروع مےں اس نئی صورت حال کے ساتھ اےڈجسٹ کرنے مےں تھوڑا وقت لگتا ہے لےکن بتدرےج وہ اس کا عادی ہو جاتا ہے ۔ آپرےشن کے بعدمرےض کوپہلے دو ہفتے ‘ پھر چار ہفتے اورپھر چھ ہفتے بعد بلاےا جاتا ہے۔اس کے بعد مرےض کو ہرتےن ماہ‘ چھ ماہ‘ اےک سال اور پھر ہر سال طبی معائنے کےلئے آنا ہوتا ہے اورکم از کم دوسال بعد تو اسے لازماً آنا چاہئے تاکہ کسی کمی بےشی کا ازالہ کےا جا سکے۔

٭آخر میں آپ قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے ؟
٭٭میں لوگوں سے یہ کہناچاہوں گا کہ اپنے وزن کو کنٹرول میں رکھیں اور اس کے لئے متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔بہت سے لوگ کہتے ہیںکہ انہیں ورزش کے لئے وقت نہیں ملتا لیکن میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ ان کے کام یقیناً اہم ہیں لیکن وہ اپنے ان اہم کاموں کو تب ہی جاری رکھ سکیں گے جب وہ صحت مند رہیں گے۔ میں امریکہ میں رہا ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ وہاں کی زندگی یہاں سے زیادہ مصروف اور تیزہے مگر پھر بھی وہ لوگ رات کو سونے سے پہلے جم میں ورزش کر تے ہیں۔ یہ فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے کہ آج کچھ وقت نکال کر ورزش کو معمول بناتے ہیں یااسے نظرانداز کر کے بیماریوں اورپھرلمبے اور پیچیدہ علاج کا انتظار کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

OBESITY

Shehnaz Zaheer was the first patient to undergo a bariatric surgery at Shifa in 2009. Shifa News r